مختلف اسلامی فرقوں کا انفراد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مختلف اسلامی فرقوں کا انفراد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 9

تو اس کا جواب یہ ہے کہ: ’’ہم بھی تو یہی بات کہتے ہیں ؛ جو کوئی نماز پڑھے؛ اور اس کے بعض واجبات کو ترک کر دے: وہ اس انسان کی طرح تو نہیں ہوتا؛ جو بالکل ہی نہ پڑھے۔ بلکہ اس نے جو کیا اتنے پر اسے ثواب ملے گا۔ اور جو اس سے رہ گیا ہے؛ اس پرسزا ملے گی۔ اور بیشک اسے اعادہ کا حکم اس لیے دیا جاتا ہے تاکہ ترک فعل کی وجہ سے لاحق ہونے والی عقوبت کا خاتمہ ہو جائے۔ کیونکہ واجب کو ترک کرنا اس عقوبت کا سبب ہے۔ جب اسے بعض واجبات کے ترک کرنے پر عقوبت کا سامنا ہوسکتا ہے تو پھر ان متروکہ واجبات کو بجا لانا لازم ٹھہرتا ہے۔ یا تو اس کا ازالہ کرے؛ یا پھر اس فعل کو اگر دوبارہ ادا کرنا ممکن ہے تو دوبارہ ادا کرے۔ بھلے کسی دوسرے کے ساتھ مل کر ادا کرے؛ اگر ممکن نہ ہو تو اکیلے ہی ادا کر دے۔اور اگر یہ کہا جائے کہ: اگر اس کا اکیلے وہ کام کرنا اطاعت گزاری نہ ہو تو پھر اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ: جب اس نے پہلی بار یہ فعل ادا کیا تھا؛ تو اسے پتہ نہیں تھا کہ ایسے کرنا جائز نہیں ۔ یا وہ بھول گیا تھا۔ جیسے کوئی بغیر وضوء کے نماز پڑھ لے؛ یا قرأت بھول جائے؛ یا فرض سجدہ۔ تو اسے اتنے فعل پر ثواب ملے گا جتنا اس نے کر دیا ہے۔اور بھول چوک پر اس کا کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ لیکن اسے دوبارہ پڑھنے کا حکم دیا جائے گا۔کیونکہ اس نے پہلے وہ کام نہیں کیا جس کا اسے حکم دیا گیا تھا۔ جیسے کوئی سویا ہوا انسان وقت پر بیدار ہو جائے۔ تو اسے نماز پڑھنے کا کہا جائے گا؛ کیونکہ نماز اس پر اپنے وقت پر فرض ہے؛ جب ایسا کرنا ممکن ہو۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو جس وقت وہ بیدار ہو ؛اسی وقت اسے نماز پڑھنے کا کہا جائے گا۔ہاں جب اسے نماز دوبارہ پڑھنے کا کہا جاتا ہے؛ تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس فعل کا انفرادی صورت میں ادا کرنا جائز نہیں ۔ پس اسے اس کے منفردانہ ادا کرنے کا حکم نہیں دیا جائے گا۔

اگر یہ کہا جائے: اگر کوئی انسان ترک واجب کے ساتھ جان بوجھ کر ایسا کرے؛ جس کے وجوب کا اس کو علم بھی ہو تو؟

اس کا جواب یہ ہے کہ: ایسا انسان عقاب کا مستحق ہے۔ کیونکہ وہ اس فعل کے کرنے سے گنہگار ہوا ہے۔ پس اس کا گناہ بھی تارک فعل کے گناہ کی طرح ہوسکتا ہے۔ اور اگر یہ بات مان لی جائے کہ اسے ثواب بھی دیا جائے گا۔تو پھر بھی اسے وہ ایسے ثواب نہیں ملے گا جو عمل کو صحیح صحیح علی وجہ المطلوب ادا کرنے پر ملتا ہے۔ بلکہ زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے جتنا کچھ اس نے صحیح کیا ہے؛ اس پر اسے ثواب ملے گا۔ یہ اس کے لیے ہے جسے پتہ ہو۔ جسے کوئی علم ہی نہ ہو کہ یہ واجب ہے اور یہ ممنوع ہے؛ تو اسے اس کے فعل پر ثواب ملے گا۔ فرمان الٰہی ہے:

﴿فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ () وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ()﴾

’ جو کوئی ذرا بھر نیکی کرے گا ؛ اسے دیکھ لے گا؛ اور جو کوئی ذرا بھر برائی کرے  گا ؛ اسے دیکھ لے گا۔‘‘

پس قرآن کریم کی تلاوت ؛ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس سے دعا کرنا تمام خیر کے کام ہیں ۔ مسلمان کبھی قبلہ سے ہٹ کر نماز نہیں پڑھتا۔ اور نہ ہی بغیر وضو اور بغیر رکوع و سجدہ کے نماز پڑھتا ہے؛اگر کوئی ایسی حرکت کرے تو وہ اس پر عقاب اور مذمت کئے جانے کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی اس کے لیے یہ بھی ممکن ہے کہ جب وہ کوئی ایسا کام کرے؛ اور اس کے ساتھ اسے یہ اعتراف بھی ہوکہ وہ گنہگار ہے: وہ شریعت کا مذاق؛ توہین اور ٹھٹھہ نہ کرنا چاہتا ہو؛ او رنہ ہی شریعت کے احکام کو حقیر سمجھتا ہو؛ بلکہ اس سے سستی سے ایسا ہوگیا ہو ؛ تو جتنا کام اس نے درست کیا ہے؛ اس پر اسے ثواب ملے گا؛ جیسا کہ کوئی انسان حج میں کوئی ایسا واجب ترک کر دیتا ہے جس کا ازالہ دم جبران سے ہو سکتا ہو؛ لیکن اس کا ثواب ایسے نہیں ہوگا جیسے اگر انسان اس فعل کو بالکل اس طرح سے بجا لائے جیسے اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے۔


صفحہ 9 از 9