مختلف اسلامی فرقوں کا انفراد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مختلف اسلامی فرقوں کا انفراد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 9

اسی لیے جمہور علمائے کرامؒ کا مسلک یہ ہے کہ: جو کوئی نماز کے واجبات میں سے کوئی واجب جان بوجھ کر چھوڑ دے؛ تو جب تک اس کے لیے ممکن ہے؛ وہ اس نماز کو دوبارہ ادا کرے گا؛ یعنی اس کے وقت میں ہی دوبارہ پڑھے گا۔ یہ امام مالک؛ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ کا مذہب ہے۔ لیکن امام مالک اور امام احمد رحمہما اللہ فرماتے ہیں : ’’ کبھی کوئی ایسی چیز واجب ہوتی ہے جو سجدہ سہو سے ساقط ہو جاتی ہے۔ اور یہ سجدہ سہو اس کا عوض بن جاتا ہے۔ ان حضرات کے نزدیک سجدہ سہو واجب ہے۔جب کہ امام شافعیؒ فرماتے ہیں : ’’ جو بھی چیز واجب ہے ؛ اس کے ترک کرنے پر نماز باطل ہو جاتی ہے؛ خواہ وہ عمداً ترک کرے یا سہواً۔ ان کے نزدیک سجدہ سہو واجب نہیں ۔ اور جس چیز کے بدلہ میں سجدہ سہو کرنے سے نماز صحیح ہو جاتی ہے؛ وہ نہ ہی واجب ہوتی ہے اور نہ ہی نماز کو باطل کرنے والی۔ جب کہ اکثر علماء سجدہ سہو کو واجب کہتے ہیں ؛ جیسے امام مالک؛ امام ابوحنیفہ اور امام احمد رحمہما اللہ ۔ ان حضرات کا کہنا ہے: ’’ امر وجوب کا تقاضا کرتا ہے۔‘‘ اور کہتے ہیں : اگر نماز میں جان بوجھ کر کوئی چیز زیادہ کی جائے تو بالاتفاق وہ نماز باطل ہو جاتی ہے۔ مثلاً کوئی انسان عمداً پانچویں رکعت زیادہ پڑھ لے۔یانماز مکمل کرنے سے قبل عمداً سلام پھیر دے۔ ہاں اگر کوئی انسان بھول کر ایسا کر بیٹھے تو وہ سجدہ سہوکرے گا؛ یہ بات سنت اور اجماع سے ثابت ہے۔ پس ان سجدوں کی وجہ سے نماز کی بھول کی اصلاح ہوجائے گی عمد کی نہیں ۔ ایسے ہی جوکچھ نماز میں کمی رہ گئی ہو۔ کیونکہ سجدہ سہو کبھی نماز میں کمی کی وجہ سے ہوتا ہے اور کبھی زیادتی کی وجہ سے۔ جیسے جب نبی اکرمﷺ تشہد اول بھول گئے تھے؛ تو آپ نے سجدہ سہو کیا تھا۔ لیکن اگر کوئی جان بوجھ کر ایسا کرے تو اس کی نماز باطل ہوجائے گی۔ یہ امام مالک او رامام احمد رحمہما اللہ کاقول ہے۔ جب کہ امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں : ’’سجدہ سہو اس میں بھی واجب جس کے عمداً یا سہواً ترک کرنے سے نماز باطل نہ ہوتی ہو۔ وہ فرماتے ہیں : اس عمل کے ترک کرنے پر یہ غلط اور گنہگار ہے۔ جیسے نماز میں اطمینان و سکون اور سورہ فاتحہ کی تلاوت ترک کر دینا۔

اس مسئلہ میں اکثر علماء کا اختلاف ہے۔ان کا کہنا ہے: جو کوئی جان بوجھ کر واجب ترک کر دے؛ تو جہاں تک ممکن ہو؛ اس پر اعادہ واجب ہے۔ کیونکہ اس نے وہ کام نہیں کیا جس کا اسے حکم دیا گیا تھا۔ حالانکہ وہ ایسا کرنے پر قادر تھا؛ پس اس سے یہ واجب ساقط نہیں ہوسکتا۔

صحیحین میں نماز میں غلطی کرنے والے سے متعلق حدیث روایت کی گئی ہے؛ جب رسول اللہﷺ نے اسے حکم دیا تھا؛ جاؤ اور نماز پڑھو؛ بیشک تم نے نماز نہیں پڑھی۔‘‘ اورپھر آپ نے اسے نماز میں اطمینان اختیار کرنے کا حکم دیا تھا۔ پس یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی واجب کو ترک کر دے؛ تو اس کا فعل نماز نہیں کہلائے گا۔ بلکہ اسے دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیا جائے گا۔ اور شارع ﷺ کسی چیز سے اس کے نام کی نفی اس وقت تک نہیں کرتے جب تک اس کے کچھ واجبات ترک نہ کر دیے جائیں ۔ رسول اللہﷺ کا یہ فرمان:

’’ بیشک تم نے نماز نہیں پڑھی۔‘‘اس لیے تھا کہ اس نے نماز کے کچھ واجب ترک کر دیے تھے۔[البخارِیِ8؍135؛ ِکتاب الإیمانِ والنذورِ، باب ِإذا حنث ناسِیا فِی الإیمانِ، مسلِم1؍298 ِکتاب الصلاِۃ، باب وجوبِ قِراۃِ الفاتِحۃِ فِی کلِ رکعۃ، سنن الترمذی 1؍185؛ کتاب الصلاِۃ، باب ما جاء فِی وصفِۃ الصلاِۃ، والحدِیث فِیہا عن رِفاعۃ بنِ رافِع وعن أبِی ہریۃر،سنن النسائِیِ 2،96 ِکتاب الِافتِتاحِ باب فرضِ التکبِیرۃِ الاولی، سنن ابنِ ماجہ1؍336؛ ِکتاب ِإقامۃِ الصلاۃِ، باب ِإتمامِ الصلاِۃ۔]اس کی نماز ایسے مکمل نماز نہیں تھی جس کے قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ ﴾[النساء:103]

’’جب تمہیں اطمینان حاصل ہو تو نماز قائم کرو۔‘‘

اسی لیے جب اس فرمان میں حج پورا کرنے کا حکم دیا:﴿وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ﴾ [البقرہ:196]

’’ اور حج اور عمرہ کو اللہ کے لیے پورا پورا ادا کرو۔‘‘

تو شارع علیہ السلام پر اس کے تمام واجبات ادا کرنا لازم کر دیا۔اگر کوئی واجب ترک کر دیا گیا تو ’’دم جبران‘‘ سے اس کا ازالہ کرنا واجب ہے۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ اس نے مامور بہ فعل کو پورے واجبات کے ساتھ ٹھیک سے ادا نہیں کیا۔ اگر ایسا ہوتا تو اس پر اعادہ یا دم جبران سے ازالہ ممکن نہ ہوتا۔

ایسے جب آپ نے دیکھا کہ ایک آدمی صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھ رہا ہے؛ تو آپ نے اسے نماز دہرانے کا حکم دیا۔ اور فرمایا:’’ صف کے پیچھے اکیلے انسان کی نماز نہیں ہوتی۔ ‘‘[قال الدکتور رشاد سالم: لم أجِدِ الحدِیث بِہذا اللفظِ ولِکن جاء الحدِیث عن علِیِ بنِ شیبان رضِی اللہ عنہ فِی سنن ابنِ ماجہ 1؍32 ِکتاب إِقامۃِ الصلاِۃ،....ولفظہ: ....: فرأی رجلا فردا یصلِی خلف الصفِ، قال: فوقف علیہِ نبِی اللہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حِین انصرف، قال: استقبِل صلاتک، لا صلاۃ لِلذِی خلف الصفِ، وجاء فِی التعلِیقِ فِی الزوائِدِ: إِسنادہ صحِیح ورِجالہ ثِقات۔ والحدِیث فِی المسندِ ط۔ الحلبِیِ4؍23 موارِد الظمآنِ ِإلی زوائِدِ ابنِ حِبان، ص 116 حدِیث رقم 401،402 ط۔ السلفِیِ، وصحح الألبانِی الحدِیث فِی صحِیحِ الجامِعِ الصغِیرِ1؍322 وفِی ِرواِ الغلِیلِ 2؍328 ؛ وتکلم طوِیلا علی صلاِۃ المنفرِدِ خلف الصفِ 2؍323 ۔]اس حدیث کو امام احمد بن حنبل اور امام اسحق بن راہویہ رحمہما اللہ کے علاوہ دیگر علمائے حدیث نے صحیح کہا ہے۔

پس اگر یہ کہا جائے کہ: ’’نماز میں غلط کار کی وہ حدیث جسے اہل سنن نے حضرت رفاعہ بن رافعؓ سے روایت کیا ہے؛ جس آپ نے نماز میں صرف متروکہ امور پر اس کا مؤاخذہ کیا تھا؛ اور باقی اعمال کو شمار کیا تھا؛ تو یہ انسان اس کی طرح تو نہیں ہو سکتا جس نے نماز پڑھی ہی نہ ہو۔

صفحہ 8 از 9