مختلف اسلامی فرقوں کا انفراد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مختلف اسلامی فرقوں کا انفراد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 9

آپﷺ نے واضح کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روزہ دار پر کھانا پینا غلے اور پانی کسی ضرورت کی وجہ سے حرام نہیں ٹھہرایا۔جیسے آقا اپنے غلام کے ساتھ کرتا ہے۔ بلکہ اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرنا اور تقویٰ کا حصول ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ؛ اور ایسے کام کرتا ہے جن میں نہ ہی اللہ تعالیٰ کی محبت ہے نہ ہی رضامندی۔ تو پھر اس عمل پر اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ لیکن اسے تارک عمل کی طرح سزا بھی نہیں ہوگی ۔

٭ اللہ کی بارگاہ میں مقبول نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں ۔ اسی لیے صحیح حدیث میں آتاہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے:

’’پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ ؛ اور رمضان سے رمضان ؛ درمیانی گناہوں کا کفارہ ہوتے ہیں جب تک کہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کیا جائے۔‘[مسلِم1؍209 ِکتاب الطہارِۃ، باب الصلواتِ الخمسِ، سنن الترمذی1؍138 ِکتاب الصلاِۃ باب ما جاء فِی فضلِ الصلواتِ الخمسِ، وقال التِرمِذِی: وفِی البابِ عن جابِر وأنس وحنظۃ الأسیِدِیِ، حدِیث أبِی ہریرۃ حدِیث حسن صحِیح۔]اگر تمام پانچ نماز سبھی گناہوں کا کفارہ بن جائیں تو جمعہ کی ضرورت باقی نہ رہے۔ لیکن گناہوں کا کفارہ مقبول نیکیاں بنتی ہیں ۔

اکثر لوگوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ ان کے لیے ان کی نماز کا کچھ حصہ ثواب لکھا جاتا ہے۔ پس اس قدر گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے؛ اور باقی گناہوں کی معافی کے لیے ضرورت باقی رہتی ہے۔ کئی اسناد سے رسول اللہﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:

’’ انسان سے بروز قیامت سب سے پہلا سوال اس کے اعمال میں سے نماز کے متعلق ہوگا۔اگر نماز مکمل ہوگی تو درست ؛ ورنہ کہا جائے گا؛ دیکھو کیا اس کی کوئی نفل نماز ہے ؟ اگر اس کی کوئی نفل نماز ہوگی تو اس سے فرض کو پورا کر دیا جائے گا۔ پھر یہی کچھ باقی تمام اعمال کے ساتھ ہوگا۔‘‘[سنن الترمذی 1؍258؛ کتاب الصلاِۃ، باب ما جاء أن أول ما یحاسب بِہِ العبد یوم القِیامۃِ الصلاۃ۔ وقال التِرمِذِی: حدِیث أبِی ہریرۃ حدِیث حسن غرِیب مِن ہذا الوجہِ، وقد روِی ہذا الحدِیث مِن غیرِ ہذا الوجہِ عن أبِی ہریرۃ، والحدِیث فِی سننِ أبِی داود1؍317 ؛ کِتاب الصلاۃِ، باب قولِ النبِیِ صلی اللّٰہ علیہِ وسلم: کل صلاۃ لا یتِمہا صاحِبہا، سنن النسائِیِ 1؍187؛ کتاب الصلاِۃ، باب المحاسِبۃِ علی الصلاِۃ، سنن ابنِ ماجہ 1؍458 ِ کتاب ِإقامۃِ الصلاِۃ والسنِۃ فِیہا، باب ما جاء فِی أولِ ما یحاسب بِہِ العبد الصلاۃ، المسند ط۔ المعارِفِ 15؍19 ۔ 26 وقال أحمد شاکِر رحِمہ اللہ: وإِسنادہ صحِیح، وتکلم علی الحدِیثِ، والحدِیث فِی المسندِ فِی مواضِع أخری کثِیرۃ۔]مطلق نفل نمازوں سے فرائض کی تکمیل؛ قیامت کے دن بدلہ کے طور پر ہوگی۔پس جب وہ کچھ واجبات کو ترک کر دے تو اس پر عقوبت کا مستحق ہوگا ۔ اور اسی جنس سے اگر اس کی نفل عبادت بھی ہوگی ؛ تو وہ فرض کے قائم مقام ہو جائے گی۔اور اسے کوئی سزا نہیں ہوگا۔ اور اگر اس کا ثواب کم ہوگا؛ اور نفل عبادت ہوگی تو وہ فرض کے قائم مقام ہو کر اس ثواب کو مکمل کردے گی۔ پس اس کو دنیا میں حکم دیا جاتا ہے کہ جو کام اس نے ناقص کیا ہو؛ اس سے جتنا ممکن ہوسکتا ہو؛ اسے دوہرائے۔ یا اس کا ازالہ کسی ایسی ممکنہ چیز سے کر دے۔ جیسے نماز میں سہو کے دو سجدے۔ حج کے واجبات رہ جانے پر دم جبران ۔ اور جیسے صدقہ فطر جو کہ لغو اور بہودہ کلام سے طہارت کے لیے فرض کیا گیا ہے۔ یہ اس لیے کہ جب اس کے لیے واجب کو ادا کرنا ممکن ہو تو اس پر واجب کا ادا کرنا متعین ہو جاتا ہے۔ اس کے بغیر وہ اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہی کام اس سے مطلوب ہوتا ہے۔ جیسے کہ اگر اس نے کوئی کام کیا ہی نہ ہو تو اس پر اس کام کا کرنا متعین ہو جاتا ہے۔ بخلاف اس کے کہ اگر اس کے لیے کسی کام کا کرنا اس کے مقرر وقت میں متعذر ہو جائے۔ تو اس صورت میں نیکیوں کے علاوہ کوئی دوسری چیز باقی نہیں رہتی ۔[یعنی نفلی نیکیاں کرکے اس کمی کو پورا کرے۔]

ترک واجب کا مسئلہ 

صفحہ 7 از 9