مختلف اسلامی فرقوں کا انفراد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مختلف اسلامی فرقوں کا انفراد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 9

٭ احادیث مبارکہ میں یہ بتا دیا گیا ہے کہ ایسے وسواس اور خیالات اور یاد دہانیاں شیطان کی طرف سے ہوتی ہیں ۔ اور وہ انسان کو یوں بھلا دیتا ہے کہ اسے پتہ بھی نہیں چلتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے۔ اور پھر اس صورت میں سہو کے دو سجدے کرنے کا حکم دیا۔ مگر اس پر اسے گنہگار نہیں کہا۔ اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ خفیف وسواس پر نماز باطل نہیں ہوتی ۔ہاں اگر وسوسے غالب آ جائیں تو پھر یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس انسان کو نماز دوبارہ پڑھنا چاہیے۔ ابو عبداللہ بن حامد نے یہ قول اختیار کیا ہے۔ لیکن صحیح مذہب وہی ہے جس پر جمہور کاربند ہیں ۔ اور یہ امام احمدؒ اور دیگر سے بھی منصوص ہے۔ کہ اس پر کوئی اعادہ نہیں ۔ کیونکہ حضرت ابوہریرہؓ والی حدیث تمام وسوسوں کو عام اور مطلق ہے۔ اور ان میں نماز کو لوٹانے کا حکم نہیں دیا گیا۔ لیکن اس قدر اس کا اجر ضرور کم ہوتا ہے۔

٭ حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں : ’’ انسان کے لیے اس کی نماز میں اتنا ہی حصہ ہے جس قدر وہ نماز کو سمجھ کر پڑھتا ہے۔ سنن میں حضرت عمار بن یاسرؓ کے متعلق ہے؛ آپ نے نماز پڑھی ؛ اور بہت ہی خفیف نماز پڑھی۔جب آپ سے اس بابت سوال کیا گیا؛ تو آپ نے پوچھا: کیا میں نے اس میں کوئی کمی کی ہے؟ کہنے لگے: نہیں ۔تو آپ نے فرمایا:’’ بیشک میں نے وسوسوں کے آنے سے جلدی کی ہے۔ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے؛ آپ نے فرمایا:’’ بیشک کوئی انسان اپنی نماز ختم کرتا ہے تو اس کے نصیب میں اس کا دسواں حصہ لکھا جاتا ہے؛ نوواں حصہ ؛ آٹھواں حصہ ؛ ....حتی کہ آدھا حصہ لکھا جاتا ہے ۔‘‘

٭ یہ حدیث ابن حامد پر حجت ہے۔ کیونکہ اس کی کم مقدار آدھی ذکر کی گئی ہے۔ اور یہ بھی کیا گیا ہے ؛ اس کا دسواں حصہ لکھاجاتا ہے۔

ادائے واجب سے مقصود

٭ ادائے واجب سے دو چیزیں مقصود ہوتی ہیں :

اول:....برأت ذمہ : وہ اس طرح سے کہ اس سے وہ مذمت اور عقاب ختم ہو جاتے ہیں ؛ جن کا ترک واجب کی وجہ سے وہ مستحق ٹھہرتا۔ تو اس صورت میں اس پر اعادہ واجب نہیں ہوتا۔ بیشک اعادہ کا مقصود ابھی باقی ہے؛ اور وہ ہے صرف اور صرف ثواب کا حصول ۔یہ نفلی عبادات کی شان ہے۔ لیکن نیکیاں حاصل ہونے سے برائیاں مٹ جاتی ہیں ۔ اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب عبادت قبول ہو؛ اور اس پر ثواب مرتب ہو۔ پس جس قدر اس کے لیے ثواب لکھا جائے گا؛ اسی قدر اس کے ماضی کے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ اورجس چیز میں کوئی ثواب نہ ہو؛ اس سے گناہ بھی معاف نہیں ہوتے۔ بھلے اس سے ذمہ داری سے برأت ثابت بھی ہو جائے۔ جیسا کہ ایک ماثور حدیث میں ہے:

’ کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جن کے لیے ان کے روزے سے صرف بھوک او رپیاس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوتا اور کتنے ہی تہجد گزار ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے رات جاگنے کے علاوہ نصیب میں کچھ نہیں آتا۔‘‘[سنن ابنِ ماجہ1؍539 ِکتاب الصِیامِ، باب ما جاء فِی الغِیبۃِ والرفثِ لِلصائِمِ، وجاء الحدِیث فِیہِ بِلفظِ رب صائِم لیس لہ مِن صِیامِہِ....الخ، وہو فِی: سننِ الدارِمِیِ2؍301 ِ؛ کتاب الرِقاقِ باب فِی المحافظِۃ علی الصومِ، ولفظہ: کم مِن صائِم وجاء الحدِیث فِی المسندِ ط۔ المعارِفِ 17؍35 وقال الشیخ أحمد شاِکر رحِمہ اللّٰہ: إِسنادہ صحِیح 18؍204 وصححہ أیضا، وصحح الألبانِی الحدِیث بِرِوایتینِ لہ فِی صحِیحِ الجامِعِ الصغِیرِ 3؍174 ۔]یہ کہہ سکتے ہیں : اس انسان نے تھکاوٹ اٹھائی۔ مگر اسے کوئی فائدہ نہ ملا۔ لیکن اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔ اور سزا سے بچ گیا۔ اور اپنے حال پر ہی باقی رہا۔ اس میں کسی خیر و بھلائی کا کوئی اضافہ نہیں ہوا۔

٭ بیشک روزہ کی مشروعیت کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَo اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰت﴾ [البقرۃ :183]

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزہ رکھنا لکھ دیا گیا ہے، جیسے ان لوگوں پر لکھا گیا جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جاؤ۔ گنے ہوئے چند دنوں میں ۔‘‘

٭ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

’روزہ ڈھال ہے، اس لیے نہ تو بری بات کرے اور نہ جہالت کی بات کرے؛ اگر کوئی شخص اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے میں روزہ دار ہوں۔‘‘ [صحیح بخاری:جلد:1:ح 1820] 

امام احمدؒ کے مذہب میں اس مسئلہ میں تین اقوال ہیں ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ: وہ یہ بات اپنے دل میں کہے؛ اور اسے کوئی جواب نہ دے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ: وہ اپنی زبان سے جواب دے۔

یہ بھی فرق کیا گیا ہے کہ فرض روزہ میں زبان سے بول کر جواب دے؛ اور نفل روزہ میں اپنے دل میں ہی کہہ دے۔ اس لیے کہ فرض روزہ مشترک ہوتا ہے۔اور نفل روزہ میں ریاء کا خوف محسوس ہوتا ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ وہ اپنی زبان سے کہے؛ جیسے حدیث اس پر دلالت کرتی ہے۔ اس لیے کہ مطلق قول زبان سے ادا کئے بغیر نہیں ہوسکتا۔ جب کہ نفس کے اندر کی بات مقید ہوتی ہے۔ جیسے یہ قول:’’جو ان کے جی میں خیالات آئے ۔‘‘

پھر ارشاد فرمایا: ’’ جب تک بات نہ کرے؛ یا اس پر عمل نہ کر گزرے ۔‘‘ پس مطلق کلام وہ کلام ہے جو سنا جا سکتا ہو۔جب وہ اپنی زبان سے کہے : میں روزہ سے ہوں ؛ تو وہ اپنی زبان کو جواب سے روک رکھنے میں اپنے عذر کا اظہار کررہا ہے۔ اس میں اس انسان کے لیے زیادہ زجر و توبیخ ہے جس نے اس کے ساتھ لڑائی شروع کی ہے۔

٭ صحیحین میں ہے؛ رسول اللہﷺ نے فرمایا :

’’ جو کوئی جھوٹی بات ؛ اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے؛ تو اللہ تعالیٰ کو اس کا کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ ‘‘[البخارِیِ3؍26 ِکتاب الصومِ باب من لم یدع قول الزورِ8؍17؛ کتاب الأدبِ، باب قولِ اللّٰہِ تعالی:﴿ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ﴾؛سنن أبِی داود2؍412 ِ؛ کتاب الصومِ باب الغِیبۃِ لِلصائِمِ، والحدِیث فِی سنن الترمذی وابنِ ماجہ والمسندِ۔]

صفحہ 6 از 9