مختلف اسلامی فرقوں کا انفراد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مختلف اسلامی فرقوں کا انفراد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 9

خلیل بن احمدؒ کہتے ہیں : اہلِ عرب کے ہاں ہر سرکش باغی کو شیطان کہا جاتا ہے۔ اور اس کے اشتقاق کے بارے میں دو قول ہیں ۔ان دو میں سے صحیح ترین قول یہ ہے کہ: یہ شطن یشطن سے ہے؛ جب خیر و بھلائی سے دور ہو۔ اس میں نون اصلی ہے۔ امیہ بن صلت حضرت سلیمان علیہ السلام کی مواصفات کے بارے میں فرماتے ہیں : ’’ جو بھی ’’شاطن‘‘ یعنی سرکش آپ کی نافرمانی کرتا؛ آپ اسے گرفتار کرتے پھر اسے بیڑیوں میں جکڑ کر جیل میں ڈال دیتے ۔ 

٭ لعنت بھی خیر و بھلائی سے دور پر ہوتی ہے۔ شیطان ہر قسم کی خیر و بھلائی سے دور ہوتا ہے۔ یہ فیعال کے وزن پر ہے۔اس کی نظر فعّال بھی آتی ہے۔ یہ صفت مبالغہ ہے۔ جیسے : القیَّام اور القوَّام ؛ پس القیَّام فیعال کے وزن پر ہے۔اور القوَّام فعَّال کے وزن پر ہے۔

٭ پس شیطان ایک قوی اور ثابت شدہ وصف ہے؛ جو کہ خیر وبھلائی سے بکثرت دوری پر دلالت کرتا ہے۔ بخلاف اس کے جو کبھی کبھار خیر سے دور ہوتا ہے اور پھر اس کے قریب آجاتا ہے۔ یہ شیطان نہیں ہوسکتا۔ اس پر ان کا یہ قول بھی دلالت کرتاہے:تشیطن یتشیطن شیطنۃ۔

٭ اس کے استقاق کے متعلق یہی بات صحیح اور درست ہے۔ اس میں حروف کی جنس میں بھی اتفاق پایا جاتا ہے۔ جیسے ابو جعفر سے مروی ہے ؛وہ کہتے ہیں :’’ عامۃ عمی سے مشتق ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر راضی نہیں ہوئے کہ انہیں فقط جانوروں سے تشبیہ دی جائے؛ حتی کہ فرمایا:﴿ ِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا ﴾ [فرقان]

’’بلکہ وہ راستے کے اعتبار سے زیادہ گمراہ ہیں ۔‘‘

٭ جیسے کہا جاتا ہے کہ سُرِّیَّۃٌ ؛ سِرٌّ سے ماخوذ ہے۔اس سے مراد نکاح ہے۔اور اگر اسے قیاس کے مطابق ماخوذ کیا جاتا تو فعیلۃ کے وزن پر سریرۃ آتا۔لیکن عربوں کی عادت ہے کہ وہ حرف مضاعف اور معتل کو آگے پیچھے لاتے ہیں ۔ 

٭ اس کی ایک اور مثال جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:﴿فَانْظُرْ اِلٰی طَعَامِکَ وَ شَرَابِکَ لَمْ یَتَسَنَّہْ﴾ 

’’اپنے کھانے کی طرف دیکھو: وہ باسی تک نہیں ہوا۔‘‘ [البقرۃ:259]

٭ اس ھاء میں احتمال ہے کہ یہ اصلی ہو؛ اسی لیے اسے ’حرف’’لم‘‘ سے جزم دی گئی ہے۔اوریہ بھی احتمال ہے کہ سکون کی ہاء ہو؛ جیسے کتابیہ ‘ حسابیہ ‘ اقتدہ میں ہے۔

٭ اہل لغت مفسرین اس کا معنی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں : کہ وہ بدلا نہیں تھا۔

مشترکہ معانی و الفاظ کا مسئلہ 

٭ یہاں پر مقصود یہ ہے کہ: جب دو لفظوں میں اکثر حروف مشترک ہوں ؛ اور ان کے بعض حروف مختلف ہوں ؛ تو کہا جاتا ہے کہ: ان میں سے ایک لفظ دوسرے سے مشتق ہے۔ اسے اشتقاق اکبر کہتے ہیں ۔اور اشتقاق اوسط یہ ہے کہ: دو لفظوں میں حروف مشترکہ ہوں ؛ مگر ان کی ترتیب مختلف ہو تو اسے اشتقاق الاوسط کہتے ہیں ۔جیسے کوفیوں کا قول ہے کہ اسم سمۃ سے مشتق ہے۔

پس شیطان شطن سے مشتق ہے۔اوراشتقاق اکبر کے اعتبار سے یہ شاط یشیط کے باب سے ہے۔ کیونکہ ان دونوں میں ’’حرف ’’شین اور طاء ‘‘ مشترک ہیں جب کہ نون اور یاء متقاربان ہیں ۔

٭ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سورۃ الناس میں جنات اور انسانوں کی طرف سے ڈالے جانے والے وسوسوں سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے۔ جو لوگوں کے سینوں وسوسے ڈالتے ہیں ۔ انسان پر یہ وسوسہ اس کی اپنی ذات کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے؛ اور کسی دوسرے کی طرف سے بھی۔

اس آیت کے معانی میں اپنی جگہ پر ایک مفصل اور لمبی بحث موجود ہے۔

٭ مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ صحاح میں حضرت ابوہریرہ اورحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سے ثابت ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا :

’’جب بندہ گناہ کا ارادہ کرتا ہے تواس پر کوئی گناہ نہیں لکھا جاتا؛اگروہ اس پر عمل نہ کرے تو اس کے لیے ایک کامل نیکی لکھ دی جاتی ہے۔ اور گر وہ اس پر عمل کرلے تو اس پر صرف ایک گناہ لکھاجاتا ہے ۔ اور جب وہ نیکی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے نامہ میں ایک کامل نیکی لکھ دی جاتی ہے۔‘‘ اور اگر وہ اس پر عمل کرے تو دس گنا سے سات سو گنا تک؛اور اس سے بھی کئی گنا زیادہ نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں ۔‘‘[البخارِیِ:8؍103؛ کتاب الرِقاقِ، باب من ہم بِحسنۃ و بِسیِئۃ؛ مسلِم:1؍117؛کتاب الإِیمانِ باب ِإذا ہم العبد بِحسنۃ کتِبت، سنن الترمذی:4؍330؛ کتاب التفسِیرِ سورۃ الانعام۔ والحدِیث فِی سننِ الدارِمِیِ وسننِ أحمد فِی مواضِع کثِیرۃ۔]٭ صحیحین میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے:نبی کریمﷺ نے فرمایا:

’’بیشک اللہ تعالیٰ نے اس امت سے دل کے خیالات پر پکڑ اٹھالی ہے جب تک کہ وہ بات نہ کرے؛ یا پھر اس پر عمل نہ کر لے۔‘‘ [البخارِیِ:7؍46 کتاب الطلاق، باب الطلاق فِی الِإغلاقِ والکرہِ والسکرانِ، مسلِم:1؍116کتاب الإِیمانِ، باب تجاوزِ اللّٰہِ عن حدِیثِ النفسِ۔سنن أبِی داود:2؍355 کتاب الطلاق، باب فِی الوسوسِۃ بِالطلاق، سنن النسائِیِ:6؍168؛ فِی موضِعینِ ِکتاب الطلاق باب من طلق فِی نفسِہِ، سنن ابنِ ماجہ ِکتاب الطلاق، باب من طلق فِی نفسِہِ ولم یتکلم، المسند ط۔ الحلبِیِ:2؍465۔]

صحیحین میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:

’’ جب مؤذن اذان کہتا ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے اور مارے خوف کے وہ گوز مارتا جاتا ہے ؛ تاکہ وہ اذان کی آواز نہ سنے۔ جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو واپس آجاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب نماز کی اقامت کہی جاتی ہے تو پھر واپس آ جاتا ہے تاکہ آدمی کے دل میں وسوسے ڈالے۔اور وہ کہتا ہے کہ فلاں بات یاد کر، فلاں بات یاد کر وہ تمام باتیں یاد جو اس کو یاد نہ تھیں یاد دلاتا ہے یہاں تک کہ آدمی بھول جاتا ہے کہ اس نے کس قدر نماز پڑھی ۔جب تم میں سے کسی ایک کے ساتھ ایسے ہو تواسے چاہیے کہ دو سجدے کرلے ۔‘‘[البخارِیِ:1؍121کِتاب الأذانِ، باب فضلِ التأذِینِ، وأولہ: ِإذا نودِی لِلصلاِۃ، مسلِم:1؍291؛ کتاب الصلاِۃ، باب فضلِ الأذانِ وہربِ الشیطانِ عِند سماعِہِ، سنن النسائِیِ:2؍219 ؛ کِتاب الأذانِ، باب فضلِ التأذِینِ، المسند ط۔المعارِفِ: 16؍ 42ط۔الحلبِی:460,522,2]

صفحہ 5 از 9