مختلف اسلامی فرقوں کا انفراد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مختلف اسلامی فرقوں کا انفراد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 9

’’اور بلاشبہ یقیناً ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم ان چیزوں کو جانتے ہیں جن کا وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿فَوَسْوَسَ لَہُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَہُمَا مَاوٗرِیَ عَنْہُمَا مِنْ سَوْاٰتِہِمَا﴾ [ق:16]

’’پھر شیطان نے ان دونوں کے لیے وسوسہ ڈالا، تاکہ ان کے لیے ظاہر کر دے جو کچھ ان کی شرم گاہوں میں سے ان سے چھپایا گیا تھا۔‘‘

وسوسہ ؛اس مخفی کلام کو کہتے ہیں جس کی آواز انتہائی پوشیدہ ہوتی ہے۔

اور یقیناً اللہ تعالیٰ کا یہ بھی فرمان ہے:

﴿ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِo مَلِکِ النَّاسِo اِِلٰہِ النَّاسِo مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِo الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِo مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِo

’’تو کہہ میں پناہ پکڑتا ہوں لوگوں کے رب کی۔لوگوں کے بادشاہ کی۔ لوگوں کے معبود کی۔وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے، جو ہٹ ہٹ کر آنے والا ہے۔ وہ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ جنوں اور انسانوں میں سے ۔‘‘

اس کے معانی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ : وہ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ جنوں اور انسانوں میں سے۔‘‘یہاں پر الناس کا ذکر کیا گیا ؛ پھر اس کے بعد جنات اور انسانوں کا ذکر کیا گیا۔ پہلے والا الناس کا لفظ جنات اور انسان دونوں کو شامل ہے۔ ان سب کوناس ہی کہا گیا ہے۔ جیسا کہ انہیں ایک دوسری جگہ پر رجال [مرد] بھی کہا گیاہے۔یہ امام فرَّآء کا قول ہے۔

اس کے معانی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ : وہ جو لوگوں کے سینوں میں جنات اور مطلق طور پر انسانوں کے شر کا وسوسہ ڈالتا ہے۔ امام زجاج نے اس کا یہ معنی بیان کیا ہے۔ اور مفسرین میں سے ابو الفرج ابنِ جوزی نے یہ معنی بیان کیا ہے ۔انکے علاوہ کسی اور نے یہ معنی بیان نہیں کیا۔ ان کا یہ قول ضعیف ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ اس سے تیسرا قول مراد ہے ۔ یعنی اس میں ان جنات اور انسانوں کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے جو لوگوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتے ہیں ۔ تو یہاں پر ان جنات اور انسانوں کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا وَ لَوْ شَآئَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوْہُ فَذَرْہُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ﴾ [الانعام:112]

’’اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں کے شیطانوں کو دشمن بنا دیا، ان کا بعض بعض کی طرف ملمع کی ہوئی بات دھوکا دینے کے لیے دل میں ڈالتا رہتا ہے اور اگر تیرا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔ پس چھوڑ انھیں اور جو وہ جھوٹ گھڑتے ہیں ۔‘‘

٭ حضرت ابو ذرؓ سے مروی ایک طویل روایت میں ہے؛ جسے ابو حاتم ابن حبان نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے؛ فرمایا:’’اے ابو ذرؓ! جنات اور انسانوں کے شیاطین سے پناہ مانگو۔

عرض کیا: یارسول اللہ ! کیا جنات اور انسانوں کے شیاطین سے ؟

تو آپ نے فرمایا:’’ جنات اور انسانوں کے شیاطین سے ۔‘‘[الحدِیث عن أبِی ذر رضِی اللّٰہ عنہ فِی سننِ النسائِیِ:8؍242؛ کتاب الِاستِعاذۃِ، باب الِاستِعاذۃِ مِن شرِ شیاطِینِ الإِنسِ وہو عنہ فِی: المسندِ ط۔الحلبِیِ:5؍178۔]اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے:

﴿وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِہِمْ قَالُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَھْزِئُ وْنَ﴾ [البقرۃ:14]

’’اور جب وہ مؤمنین سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں بیشک ہم تمھارے ساتھ ہیں ، ہم تو صرف مذاق اڑانے والے ہیں ۔‘‘

٭ عام مفسرین کرامؒ سے منقول ہے؛ اس سے مراد شیاطین انس ہیں ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے بارے میں مجھے معلوم نہیں ہوسکا جس نے کہا ہو: اس سے مراد شیاطین جن ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؛ ابن عباس رضی اللہ عنہما ؛ حضرت حسن اور سدی رحمہما اللہ سے منقول ہے:اس سے کفر کے سرغنے مراد ہیں ۔

٭ اور ابو عالیہ اور مجاہد رحمہما اللہ سے مروی ہے کہ: اس سے ان کے مشرکین بھائی مراد ہیں ۔

٭ حضرت ضحاک اور ابن سائب رحمہما اللہ سے منقول ہے: اس سے ان کے کاہن مراد ہیں ۔

٭ یہ ان تمام انواع و اقسام کو شامل ہے۔ اس کے الفاظ شیاطین انس پر دلالت کرتے ہیں ۔اس لیے کہ آیت میں یوں فرمایا گیا ہے:

﴿وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِہِمْ قَالُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ ﴾

’’اور جب وہ مؤمنین سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں بیشک ہم تمھارے ساتھ ہیں ۔‘‘

٭ یہ بات تو معلوم ہے کہ جب وہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو شیاطین جنات بھی ان کے ساتھ ہی ہوتے ہیں ؛ اس کے لیے انہیں کسی خلوت کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اور شیاطین جنات ہی انہیں نفاق کا حکم دیتے ہیں ۔ اور جب وہ اپنے بڑوں کے ساتھ خلوت میں ہوتے ہیں ؛ اس وقت بھی شیاطین جنات سامنے نہیں آتے ۔اور ان سے آکر یہ نہیں کہتا : میں تمہارے ساتھ ہوں ۔ خصوصاً جب وہ اپنے آپ کو حق پر خیال کرتے ہیں ۔

٭ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ اِذَا قِیْلَ لَہُمْ اٰمِنُوْا کَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ کَمَآ اٰمَنَ السُّفَہَآئُ اَلَآ اِنَّہُمْ ہُمُ السُفَہَآئُ وَ لٰکِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ﴾ (البقرۃ:13)

’’اور جب انہیں کہا جاتا ہے ایمان لاؤ جیسے لوگ ایمان لائے ہیں ، تو کہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جیسے بے وقوف ایمان لائے ہیں ؟ سن لو! بیشک وہ خود ہی بے وقوف ہیں اور لیکن وہ نہیں جانتے۔‘‘

اگر انہیں یہ پتہ چل جاتا کہ انہیں ایسا حکم دینے والا شیطان ہے؛ تو وہ کبھی اس کی بات نہ مانتے۔

صفحہ 4 از 9