مختلف اسلامی فرقوں کا انفراد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مختلف اسلامی فرقوں کا انفراد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 9

لوگوں کا سوال اس بارے میں تھا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی طرف سے دین و شریعت اور اس حکم کے لحاظ سے احسان فرمایا ہے جسے وہ چاہتے ہیں اور پسند کرتے ہیں اور اس کے کرنے پر ثواب سے نوازتے ہیں ۔

خطاء اور نسیان کا حکم 

٭ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس بات کا علم تھا کہ جو چیز دین اور شریعت کے خلاف ہو؛ وہ انسان کے اپنے نفس اور شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔ اگرچہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے ہوتی ہے؛ اور بھلے اس سے بھی ویسے ہی معافی مل سکتی ہے جیسے خطاء اور نسیان سے معافی مل سکتی ہے۔

٭ خیر اور بھلائی کا بھول جانا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے؛ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّکَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ﴾[الانعام:68]

’’ اور اگر کبھی شیطان تجھے ضرور ہی بھلا دے تو یا د آنے کے بعد ایسے ظالموں کے ساتھ مت بیٹھ ۔‘‘

اور حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھی خادم نے کہا تھا[ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ]

﴿ وَ مَآ اَنْسٰنِیْہُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْکُرَہٗ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَہٗ فِی الْبَحْرِ عَجَبًا﴾[الکہف:63]

’’ اور مجھے وہ نہیں بھلایا مگر شیطان نے کہ میں اس کا ذکر کروں اس نے بڑی عجیب طرح سمندر میں راستہ بنالیا۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ فَاَنْسٰہُ الشَّیْطٰنُ ذِکْرَ رَبِّہٖ ﴾[یوسف:42]

’’اور شیطان نے اپنے آقا کے پاس اسے یاد کرنا بھلا دیا ۔‘‘

جب نبی کریمﷺ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ وادی میں نماز کے وقت سوئے رہے۔تو آپ نے فرمایا:

’’اس وادی میں شیطان ہمارے پاس چلا آیا۔[فِی مسلِم :1؍471،472کتاب المساجِدِ ومواضِعِ الصلاۃِ، باب قضائِ الصلاۃِ الفائِتِ واستِحبابِ تعجِیلِ قضائِہا، والحدِیث فِی سننِ النسائِیِ:1؍240؛ کتاب المواقِیتِ باب کیف یقضِی الفائِت مِن الصلاِۃ، المسند ط۔المعارِفِ:18؍ 152 وما لفظ ہذا واد حضرنا فِیہِ الشیطان۔]پھر فرمایا: ’’ بیشک شیطان حضرت بلالؓ کے پاس آیا؛ اور انہیں ایسے تھپکا جیسے بچے کو تھپکایا جاتا ہے حتی کہ وہ سو گیا۔‘‘[الموطأِ: 1؍14کتاب وقوتِ الصلاِۃ، باب النومِ عنِ الصلاۃِ، ونصہ: عرس رسول اللہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لیل بِطرِیقِ مکۃ، ووکل بِلالًا أن یوقِظہم لِلصلاِۃ، فرقد بِلال ورقدوا، حتی استیقظوا وقد طلعت علیہِم الشمس، فاستیقظ القوم وقد فزِعوا، فأمرہم رسول اللہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أن یرکبوا حتی یخرجوا مِن ذلِک الوادِی، وقال:(( إِن ہذا وادٍ بِہِ شیطان؛ فرِکبوا حتی خرجوا مِن ذلِک الوادِی، الحدِیث وفِیہِ: ثم التفت رسول اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إلی أبِی بکر فقال:((إنِ الشیطان أتی بِلالاً وہو قائِم یصلِی، فضجعہ، فلم یزل یہدِئہ کما یہد الصبِی حتی نام۔))]بیشک اس رات آپ نے حضرت بلالؓ کی ذمہ داری لگائی تھی کہ انہیں صبح کی نماز کے لیے جگائیں ۔ اور ساتھ ہی آپ نے یہ بھی فرمایا: ’’ نیند میں تفریط [کمی ] نہیں ہوتی۔ اور یہ بھی ارشاد فرمایا:’’ بیشک اللہ تعالیٰ نے ہماری ارواح کو قبض کر لیا ۔‘‘ اور حضرت بلالؓ نے آپ کی خدمت میں گزارش کی : ’’اس ذات نے میری روح کو بھی لے لیا جس نے آپ کی روحوں کو لے لیا تھا۔ اور آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو کوئی نماز کے وقت سویا رہے؛ اسے چاہے کہ جب اسے یاد آجائے تو نماز پڑھ لے؛ اس کے علاوہ اس کا کوئی کفارہ نہیں ۔‘‘

اللہ تعالیٰ مومنوں کی دعا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

﴿رَبَّنَا لَا تُوَاخِذْنَا اِنْ نَّسِیْنَا اَوْ اَخْطَانَا﴾ (البقرۃ:246)

’’اے ہمارے رب! اگر ہم سے بھول یا چوک ہو جائے تو ہم پر مواخذہ نہ کر۔‘‘

[اللہ فرماتے ہیں ]میں نے ایسا کر دیا۔‘‘

ایسے ہی اجتہاد میں خطاء اپنے نفس اور شیطان کی طرف سے ہوتی ہے؛ اگرچہ وہ مجتہد کے لیے مغفور لہ ہے۔

ایسے ہی خواب میں احتلام شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ اور صحیحین میں ہے ؛ آپﷺ نے فرمایا:

’’ خواب کی تین اقسام ہیں ۔ ایک خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ایک خواب شیطان کی طرف سے ؛اور ایک خواب وہ ہے جو انسان جاگتے ہوئے باتیں کرتا ہے اور پھر وہ اسے نیند میں دیکھتا ہے ۔‘‘[فِی مسلِم:4؍1773؛ کِتاب الرؤیا أول الکِتابِ، سنن الترمذی:3؍363کتاب الرؤیا باب أن رؤیا المؤمِنِ جزء مِن سِت وأربعِین جزء ًا مِن النبوۃِ،سنن أبِی داود:4؍416 ؛ کتاب الأدبِ باب ما جاء فِی الرؤیا، سنن ابنِ ماجہ:۲؍۱۲۸۵؛ کِتاب تعبِیرِ الرؤیا، باب الرؤیا ثلاث، المسندِ ط۔المعارِفِ:14؍60]

٭ پس محوِ نیند انسان اپنی نیند میں وہ کچھ دیکھتا ہے جو ں تندرست ہوجائے، اور بچہ پر سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے [بالغ ہوجائے۔]‘‘[فِی: سننِ أبِی داؤود:4؍197 ؛ کتاب الحدودِ، باب فِی المجنونِ یسرِق أو یصِیب حدا، فِی أکثرِ مِن موضِع، سنن الترمذی:2؍438 ؛ کتاب الحدودِ باب ما جاء فِیمن لا یجِب علیہِ الحد، سنن ابنِ ماجہ:1؍658کتاب الطلاق باب طلاقِ المعتوہِ والصغِیرِ والنائِمِ، سنن الدارِمِیِ:2؍171؛ کتاب الحدودِ باب رفِع القلم عن ثلاث،المسند ط۔الحلبِیِ:6؍100؛ وجاء الحدِیث موقوفا عن علِی رضِی اللہ عنہ، فِی البخارِیِ:7؍46 کتاب الطلاق باب الطلاق فِی الِإغلاقِ والکرہِ والسکرانِ والمجنونِ وأمرہما:8؍165 کتاب الحدودِ، باب لا یرجم المجنون والمجنون۔]آپ ﷺ نے سوئے ہوئے انسان کی طرف سے بھی عذر پیش کر دیا۔اسی لیے علماء کا اتفاق ہے کہ جو باتیں کسی سے نیند میں سنی جائیں ؛ ان کا کوئی حکم نہیں ہے۔اگر کوئی انسان طلاق دے دے؛ یا پھر غلام آزاد کر دے؛ یا صدقہ کر دے؛ یا اس کے علاوہ نیند میں کوئی اور حرکت کر دے ؛ تو اسے لغو سمجھا جائے گا۔ بخلاف سمجھدار بچے کے ؛اس لیے اس کے اقوال معتبر ہیں ۔خواہ وہ ولی کی اجازت سے ہوں ؛ یا اس کی اجازت کے بغیر۔ ان میں سے کچھ مقام نص سے ثابت ہیں اور کچھ اجماع سے ۔

ایسے ہی انسانی نفس میں وسوسوں کا معاملہ بھی ہے۔کبھی یہ وسوسے شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں ؛ اور کبھی انسان کے نفس کی کمائی ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہ﴾ [ق:16]

صفحہ 3 از 9