مختلف اسلامی فرقوں کا انفراد - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مختلف اسلامی فرقوں کا انفراد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 9

جیسے آپ کا قول ہے کہ میت کی طرف سے نذر کے روزے رکھے جائیں گے۔ بلکہ میت نے جتنی بھی نذریں مانی ہوں ؛ وہ اس کی طرف سے ادا کی جائیں گی۔ اور اس کی طرف سے رمضان کے روزں کی جگہ کھانا کھلایا جائے گا۔ بعض لوگ اس قول کو ضعیف کہتے ہیں ۔ یہ حضرات صحابہ میں سے حضرت ابنِ عباسؓ کا قول ہے ؛ مگر وہ لوگ اس کی گہرائی کو سمجھ نہیں سکے۔

ان کا یہ کہنا کہ: محرم کو جب جوتی اور ازار نہ ملے تو وہ موزے اور شلوار بغیر کاٹے اور چھوٹا کئے کے پہن سکتا ہے۔ کیونکہ نبی کریمﷺ کے اختیار کردہ دو امور میں سے یہ آخری عمل ہے۔

ایسے ہی ان کا کہنا کہ: نمازی کے سامنے سے عورت؛ کالے کتے اور گدھے کا گزرنا نماز کو توڑ دیتا ہے ۔

یہ مسئلہ کہ: دادی بیٹے کی موجودگی میں وارث بنے گی۔ ایسے ہی مساقاۃ اور مزارعت کے درست ہونے کا آپ کا قول؛ اور ان کے مشابہ دیگر مسائل۔ اگر بیج عامل کی طرف سے ہو۔یہ آپ سے منقول دو روایات میں سے ایک ہے۔اور امام شافعیؒ کے اصحاب میں سے ایک طائفہ کا یہی مسلک ہے۔

ایسے ہی نشے میں مست کی طلاق کے مسئلہ میں آپ کا قول؛ کہ طلاق واقع نہیں ہوتی۔ یہ قول امام ابو حنیفہؒ اور امام شافعیؒ کے کچھ اصحاب کا بھی ہے۔

آپ کا یہ مسلک کہ: اگر وقف کا فائدہ ملنا معطل ہو جائے تو اسے بیچ کر اس کے قائم مقام کوئی دوسری چیز خریدی جائے جس کا فائدہ حاصل ہوتا ہو۔ امام ابو حنیفہؒ کا مسلک امام احمدؒ کے مسلک کے قریب تر ہے؛ اور امام مالکؒ کے مسلک میں بھی ایسے ہی ہے۔ ایسے ہی وقف کو بدلنے کے بارے میں آپ کا مسلک بھی ہے۔ جیسے مسجد کوکسی دوسری چیز سے بدلنا۔ یا وقف کو مسجد کے علاوہ کسی اور چیز میں تبدیل کرنا۔ جیسا کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے کیا تھا۔ امام ابو حنیفہ اور امام مالک رحمہما اللہ کے مسلک میں کچھ مقامات پر حاجت کے پیش نظر بدلا جا سکتا ہے۔

اور غلام کی گواہی قبول ہونے کے متعلق آپ کا مسلک؛اوریہ کہ صف کے پیچھے منفرد نماز پڑھنے والے پر نماز کو دوہرانا واجب ہو جاتا ہے۔ اوریہ مسلک کہ حج کو عمرہ سے فسخ کرنا جائز اور مشروع امر ہے۔ بلکہ ایسا کرنا افضل ہے۔ اور یہ مسلک کہ جب حج قرآن کرنے والا قربانی کے جانور ساتھ لیکر چلے تو اس کا حج قرآن تمتع اور افراد سے افضل ہے۔جیسے رسول اللہﷺ نے کیا تھا۔

اور آپ کا یہ قول کہ : باجماعت نماز اداکرنا اعیان پر فرض ہے۔

حق ہمیشہ سنت اور صحیح احادیث کے ساتھ 

حق ہمیشہ سنت اور صحیح احادیث کے ساتھ ہوتا ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ: ان میں سے ہر ایک امام کے جو خاص فضائل اور محاسن ہیں ؛ وہ بہت زیادہ ہیں ؛ ان کا شمار ممکن نہیں ۔اور نہ ہی یہ ان کے بیان کی جگہ ہے۔ بیشک اس سے مقصود یہ ہے کہ: حق ہمیشہ سنت رسول اللہﷺ اور آپ سے ثابت صحیح احادیث کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگرچہ ہر ایک گروہ کسی اور کی طرف نسبت رکھتا ہے؛ اورکسی نہ کسی مسئلہ میں ساری امت سے انفرادی حیثیت رکھتا ہے۔ اور ان کا یہ جداگانہ اور انفرادی قول خطاء ہوتا ہے۔ برخلاف ان لوگوں کے جو حدیث اور سنت کی طرف نسبت و اضافت رکھتے ہیں ۔ بیشک حق اور صواب ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور جو کوئی ان سے موافقت رکھتا ہو؛ حق ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا ہے؛ کیونکہ یہ لوگ کتاب و سنت کے موافق ہوتے ہیں ۔ اور اگر کوئی ان کی مخالفت بھی کرے ؛ تو حق تمام امورِ دین میں ان ہی کے ساتھ ہوتا ہے؛ کیونکہ اصل میں حق رسول اللہﷺ کے ساتھ ہے۔تو پھر جو کوئی سنت کا جتنا بڑا عالم اور متبع ہوگا؛ تو حق اور صواب بھی اسی کے ساتھ ہوگا۔

٭ یہ وہ لوگ ہیں جو صرف آپﷺ کے قول کی نصرت کرتے ہیں ۔ اور اس قول کو صرف انہی کی طرف ہی منسوب کرتے ہیں ۔ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ آپﷺ کی سنت کے عالم اور اس کی اتباع کرنے والے ہیں ۔ اکثر سلف امت کا یہی حال تھا۔ لیکن متأخرین میں بہت زیادہ تفرقہ اور اختلاف واقع ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس امت میں جن لوگوں کی قدر بلند کی ہے؛ اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کی سنت کو زندہ کیا اور اس کی نصرت کی ۔ یہی حال امت کے سارے گروہوں کا ہے۔ بلکہ مخلوق میں سبھی طوائف کا ہے۔ ان کے پاس جو بھی خیر و بھلائی ہے؛ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسولوں کا لایا ہوا پیغام ہے۔ او رجو کچھ ان کے ہاں خطاء اور گناہ پائے جاتے ہیں ؛ وہ رسولوں کی طرف سے نہیں ہیں ۔

٭ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جب کسی مسئلہ میں اپنے اجتہاد سے گفتگو کرتے ؛ تو ان میں سے کوئی ایک کہتا : یہ بات میں اپنی رائے سے کہہ رہا ہوں ۔ اگریہ درست ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے؛ اور اگر خطاء ہو تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے؛ اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہیں ۔ جیسا کہ حضرت ابوبکرؓ نے کلالہ کے مسئلہ میں فرمایا تھا۔ اور جیسے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے مفوَّضہ کے بارے میں فرمایا تھا ؛ جب اس کا شوہر فوت ہو جائے۔ اور ان دونوں حضرات نے جو بات اپنی رائے سے فرمائی ؛ اس میں حق اور صواب پر رہے۔ لیکن انہوں نے جو کچھ فرمایا ہے؛ وہ بھی حق ہے۔ یعنی بیشک اگر بات درست ہو تو پھر یہ وہی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہﷺ لے کر آئے ہیں ؛ تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوئی۔ اور اگر اس میں کوئی خطاء ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو خطاء کے مبعوث نہیں فرمایا۔ یہ ان کی اپنی رائے اور شیطانی حیلہ ہے۔ اللہ اور رسول سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔

٭ آپ کی طرف منسوب کرنے سے مقصود اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی طرف ہونا ہے۔یعنی حکم اور شریعت اور دین۔اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے چاہتے اور پسند کرتے ہیں ؛ اور اس کام کے کرنے والے کو ثواب سے نوازتے ہیں ۔یا پھر اگر مخلوق کی جہت سے نسبت مراد ہو؛ تو پھر تمام چیزیں اسی کی طرف سے ہیں ۔لوگوں نے حضرات صحابہؓ سے اس بارے میں سوال نہیں کیا کہ جو اللہ تعالیٰ نے تخلیق و تقدیر میں ان پر احسان کیا ہے۔ انہیں علم تھا کہ جو کچھ ہو رہا ہے ؛ وہ اسی کی طرف سے ہے۔ عرب عہد جاہلیت میں بھی قضاء و قدر پر ایمان رکھتے تھے۔ ابن قتیبہ اور دیگر حضرات کہتے ہیں : عرب عہد جاہلیت میں بھی اور اسلام میں بھی تقدیر کا اقرار کرتے رہے ہیں ۔

صفحہ 2 از 9