فضیل بن مرزوق راوی پر گرما گرم بحث جاری - سنی شیعہ مناظرے |…

فضیل بن مرزوق راوی پر گرما گرم بحث جاری

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 3

شیعہ مناظر: اب تم کو جاہل نہ کہوں تو کیا کہوں؟

  خاک جواب دیا ہے تم نے!

  اس میں کہاں لکھا ہے ملکیت نہیں تھا فدک؟ تمہارا دماغ چکرا چکا ہے! یہ الُٹا میرے حق میں ہے!

یہاں موجود ہے کے حضور ص کی ازواج نے عثمان کو ابوبکر کے پاس بھیجا اور ان سے کہا کہ اللہ نے جو فئے اپنے رسول ص کو دیا تھا ، اس میں سے حصے دیں۔

1۔ یہاں واضح لکھا ہے مال فئے اللہ نے رسول ص کو دیا تھا کسی اور کو نہیں۔

2۔ ازواج رسول وفات کے بعد حصے مانگنے آئیں۔

3۔ اُنھوں نے اس دعوی کو لا نورث والی  حدیث سے رد کیا جو موضوع سے خارج ہے فی الحال۔

4۔نبی کی بیویاں اور جناب عثمان باغ فدک کو نبی کی ملکیت ہی مانتے تھے اسی وجہ سے وراثت کا مطالبہ کرنے آئے۔

صریح روایت پیش کرو فدک ملکیت رسول ص نہیں۔ ڈرامے بازیاں نہ کرو۔ یہ انسان نہایت ہی بیوقوف جرح و تعدیل سے جاہل ہے ۔

 

فضیل بن مرزوق کی توثیق

1۔ فضیل بن مرزوق وہ ثقہ راوی ہے جس سے امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت لی ہے۔

حدثنا حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي ، اخبرنا يحيى ابن آدم ، حدثنا  الفضيل بن مرزوق  ، عن شقيق بن عقبة ، عن البراء بن عازب ، قال: نزلت هذه الآية: حافظوا على الصلوات وصلاة العصر، فقراناها ما شاء الله، ثم نسخها الله، فنزلت " حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى سورة البقرة آية 238 "، فقال رجل، كان جالسا عند شقيق له: هي إذا صلاة العصر؟ فقال البراء: قد اخبرتك كيف نزلت، وكيف نسخها الله، والله اعلم،

سب سے پہلے یہ بیان کردوں سنی مناظر اپنے علماء کے منہج سے بالکل جاہل ہے کہ کونسی کتاب کس بنیاد پر لکھی گئی ہے۔

میزان العتدال لکھی ذھبی نے جس میں سب کے اقوال جمع کیے۔ فائنل کمنٹ اور روات پر حکم الکاشف میں لگایا۔اسی طرح ابن حجر نے تہذیب التہذیب لکھی، جس میں سب کے اقوال نقل کیے پھر  فائنل کمنٹ تقریب میں دیا۔

 

 امام ذھبی نے فضیل کو ثقہ کہا ہے۔

 

احافظ ابن حجر نے فضیل کو  صدوق  کہا ہے۔

 اتنی توثیقات کافی ہیں سب سے اہم دلیل امام مسلم کا روایت لینا ہے۔

فضیل بن مرزوق  پر جرح  کا  جواب

اس جاہل انسان کو یہ بھی معلوم نہیں جرح مفسر کہتے کس کو ہیں بس پاگلوں کی طرح اسکین پھینکنا شروع کردیتا ہے۔امام نسائی کی جرح نقل کی جو کہ مبھم ہے۔ خود اصول بیان کر چکا ہے کہ مبھم جرح پر ایک تعدیل بھی مقدم ہوتی ہے۔

 ابن حبان کا منکر الحدیث کہنا: ناظرین کسی کو منکر الحدیث کہنا یہ کوئی جرح مفسر نہیں ہے ۔

ملاحظہ کریں۔

"جو بھی منکر روایت کو نقل کرے اُسکو ضعیف نہیں کہا جا سکتا"

 

امام بخاری نے منکر الحدیث روات سے احادیث لیں ہیں۔

 

لہذا منکر الحدیث ہونا کوئی جرح مفسر نہیں ہے۔

ابن حبان کی وہ جرح جس میں منفرد ہوں قبول نہیں ہوتی۔

ابن حبان جرح کے معاملے میں *متشدد * تھے۔

ملاحظہ ہوں

ذہبی کہتے ہیں ابن حبان ثقہ لوگوں پر ایسے جرح کرتے تھے گویا وہ نہیں سمجھتے وہ کیا کر رہے ہیں۔

پس واضح ہے کہ ابن حبان متشدد تھے جرح کے معاملے ہیں۔ یہ دیکھیں متشدد کی جرح قبول نہیں ہوتی۔

 

لہذا ابن حبان کا تضعیف کرنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

خلاصہ

1- امام مسلم نے اس سے روایات لی ہیں

2- ابن حجر و ذھبی نے توثیق کی ہے۔

3- کوئی جرح مفسر نہیں ہے۔

4- پس راوی ثقہ ہے۔

اہل سنت مناظر کی طرف سے پیش کیا گیا جرح و تعدیل کا اصول

شیعہ مناظر کا علمی رد: فضول میں یہ سکین بھیج کر ٹائم پاس کیا تھا۔اسکے بعد اس نے فضول سی حرکتیں کی ہیں۔

بھائی نے سید خوئی رح سے استدلال کیا کہ یہ اصحاب صادق ع میں تھا۔میں نے جواب دیا اصحاب صادق ع میں ہونا شیعہ ہونے کی دلیل نہیں مثال ابو حنفیہ کی دی ۔ بھائی نے فضول میں آدھا گھنٹہ اس پر ٹائم ضایع کردیا۔

 اہل سنت مناظر کے علمی دلائل کو  شیعہ مناظرغیرسنجیدگی اور بداخلاقی سے ٹالتے رہے۔

شیعہ مناظر قاعدہ: بدعتی کی روایت اُسکے حق میں قبول نہیں۔  میں نے مطالبہ کیا کہ فضیل بن مرزوق میں بدعت ثابت کی جائے۔ اس کا جواب نہیں دیا بس شیعہ ہونا جرح نہیں اور میں قبول کرتا ہوں کہہ کر بھاگ گئے۔ فضیل بن مرزوق عقیدے کے لحاظ سے سنی مذہب پر تھا۔ فقط امام علی ع کو جناب عثمان پر فضیلت دینے کی وجہ سے شیعہ(تفصیلی) تھا۔

   *شیعہ*  کون ہوتا ہے۔"جو عثمان پر علی ع کو فضیلت دے اور شیخین کو افضل مانتا ہو وہ شیعہ ہے"

اب میں ایک حوالہ دے دوں جو جناب عثمان پر مولا علی ع کو فضیلت دے وہ اہلسنت ہی ہوتا ہے۔ ملاحظہ کریں

"اعمشق *کوفہ کے اہلسنت* شیعوں میں سے تھا جو کسی بھی صحابی کو برا نہیں کہتا تھا اور عثمان پر علی ع کو فضیلت دیتا تھا"

لہذا واضح ہوگیا یہاں شیعوں کو اہلسنت میں شمار کیا ہے جس سے واضح ہے شیعہ فقط فضیلت کی وجہ سے کہا گیا ہے اور عقیدہ سنی ہی تھا انکا۔ فضیل عقیدے کے لحاظ سے سنی ہی تھا۔ اسپر صریح دلیل پیش کرتا ہوں۔

فضیل بن مرزوق راوی ہے کہ رسول ص کے بعد افضل ابوبکر عمر ہیں پس کوئی شیعہ اثنا عشری یہ عقیدہ نہیں رکھتا۔

 مطالبہ

سنی مناظر ثابت کرے فضیل بن مرزوق عقیدے کے لحاظ سے شیعہ اثنا شری رافضی تھا۔

 

شیعہ مناظر خود اسکینز پیش کر کے دکھا چکا ہے کہ زمانہ قدیم میں شیعہ اثناعشری کا کوئی وجود ہی نہیں تھا، صرف افضلیت صحابہ پر اختلافت تھا۔ اس کے باوجود اس کا  یہ مطالبہ اس کی جہالت کا ثبوت ہے

 

شیعہ مناظر: جاتے ہوئے ایک چھوٹی سی دلیل  

پہلی بات تو یہ کہ فضیل بدعتی نہیں تھا بلکہ عقیدہ کے لحاظ سے سنی تھا۔

لیکن اگر کوئی بدعتی راوی ثقہ ہو اپنی بدعت میں بھی روایت کرے تو قبول ہوتی ہے۔

 صاف اسکینز

 

غور فرمائیں۔۔ واضح لکھا ہے کہ شیعہ ثقہ راوی کی بدعت والی روایت اس وقت قبول  ہوگی جب بدعت مکفرہ نہ ہو۔ فدک کا ہبہ ہونا  مطلب پوری صحابہ کرام کی جماعت  اتنے اہم واقعے سے لاعلم تھی یا جان بوجھ کر چھپایا،   اس بدعت کا اثر دین کے  اولین راویوں کے ساتھ براہ راست قرآن و سنت پر ہوتا ہے کیونکہ قرآن و سنت صحابہ کے وسیلے امت تک پہنچا ہے۔ اس سے  بڑی بدعت مکفرہ اور کیاہوگی؟

 

شیعہ مناظر: میں ملکیت پر حدیث اور دو علماء کے اقرار دے چکا ہوں۔ لیں ایک اور حوالہ پیش کرتا ہوں۔

فدک ملکیت رسول ص تھا

یہ پورا کا پورا  رسول ص کی ملکیت تھا اور رسول ص کا خاصہ تھا اور کسی دوسرے کا اس میں حق نہیں تھا۔

بالکل بالکل واضح ہوگیا۔

 خلاصہ

1۔ فدک رسول ص کی ملکیت تھا

صفحہ 1 از 3