ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ…

ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 5 از 5
  1. میں نے اپنا کفن تیار کیا ہوا ہے اگر سیدنا عمرؓ بھی میرے لیے کفن بھیجیں تو ان دو میں سے ایک کفن صدقہ کر دینا۔
  2. میری لاش اس چارپائی پر لے کر جانا جس چارپائی پر رسول اللہﷺ کو رکھا گیا تھا۔
  3.  میرے جنازے کے پیچھے آگ نہ لے جائی جائے اور میری قبر بقیع میں عقیل اور ابنِ حنیفہ کے گھر کے درمیان کھودی جائے۔
  4. جب مجھے قبر میں اتار دیا جائے تو اگر میرا پٹکا خیرات کرسکو تو کر دینا۔
نوٹ: پٹکا اس کپڑے کو کہتے ہیں جو لاش کی کمر میں ڈال کر قبر میں اتارے جانے کے کام آتا ہے۔
وفات:
آپؓ کی وفات 20 ہجری کو ہوئی، آپؓ کی کل عمر 53 سال کے قریب تھی۔
جنازہ:
سیدہ زینب بنتِ جحشؓ کا جب وصال ہوا تو سیدنا عمر فاروقؓ نے اعلان کرایا: اے اہلِ مدینہ! اپنی ماں کے جنازے میں شرکت کرو۔ چنانچہ جنازے میں اہلیانِ مدینہ نے کثرت سے شرکت کی۔ جس دن آپ نے وفات پائی وہ سخت گرمی کا دن تھا۔ اس لیے سیدنا عمر فاروقؓ نے قبر پر ایک شامیانہ لگوا دیا تاکہ قبر کی تیاری اور سیدہ زینبؓ کی تدفین میں لوگوں کو تکلیف نہ ہو یہ بھی یاد رہے کہ اسلام کی تاریخ میں یہ پہلا شامیانہ تھا جو کسی قبر پر نصب کیا گیا تھا۔ اس موقع پر سیدنا عمرؓ نے مختصر سا خطبہ بھی ارشاد فرمایا جس میں سیدہ زینبؓ کی تیمارداری، غسل، تجہیز و تکفین اور تدفین کے بارے اُمہاتُ المؤمنینؓ کا پیغام سنایا اور آپؓ نے 4 تکبیروں کے ساتھ نماز جنازہ پڑھائی۔
تدفین:
عام لوگوں کو سیدہ زینب بنتِ جحشؓ کی قبر مبارک کے پاس سے ہٹا دیا گیا چنانچہ آپ کےتین بھانجوں محمد بن عبداللہ بن جحشؓ، عبداللہ بن ابی احمد بن جحشؓ، محمد بن طلحہ بن عبیداللہؓ اور سیدنا اُسامہ بن زیدؓ نے آپؓ کو قبر جنتُ البقیع کے قبرستان میں اتارا۔


صفحہ 5 از 5