ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ…

ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 4 از 5
اس سے پہلے سیدہ سودہ بنتِ زمعہؓ کے حالات میں بھی پردے کے نزول کا تذکرہ ہوا، اور یہاں سیدہ زینب بنتِ جحشؓ کے حالات میں بھی پردے کے نزول کے احکام کا تذکرہ ہے۔ اس بارے ہم سیدہ سودہؓ کے حالات میں تفصیل سے لکھ چکے ہیں وہاں دیکھ لیا جائے۔امتیازی خصوصیات:
سیدنا انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب بنتِ جحشؓ دیگر ازواجِ مطہراتؓ پر بطورِ فخر کے فرماتیں کہ تمہارے نکاح تمہارے گھر والوں نے کرائے میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں سے اوپر خود کرایا۔
سیدنا عبداللہ بن جحشؓ فرماتے ہیں کہ سیدہ زینبؓ اور سیدہ عائشہؓ دونوں اپنے اپنے طور پر فخر کیا کرتی تھیں سیدہ زینبؓ فرماتیں: میں وہ ہوں جس کا نکاح آسمان پر ہوا، سیدہ عائشہؓ فرماتیں: میں وہ ہوں جس کی عفت و آبرو کی گواہی آسمان سے آئی۔ سیدہ زینبؓ نے نبی کریمﷺ سے عرض کیا کہ میں آپﷺ کو وہ تین باتیں بتاتی جو میرے علاوہ آپﷺ کی کسی بیوی کو حاصل نہیں۔
  1. میرا اور آپ کا دادا ایک ہے یعنی عبدالمطلب۔
  2. میرا آپ کے ساتھ نکاح اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر کرایا ہے۔
  3. اور ہمارے اس خدائی نکاح کی خوشخبری دینے والا جبرائیل امین ہے۔
خدا خوفی:
ایک مرتبہ آپﷺ مہاجرین میں کچھ مال تقسیم فرما رہے تھے، سیدہ زینبؓ بھی آپ کے قریب پردے ہی میں تشریف فرما تھیں، سیدہ زینبؓ نے کوئی بات کہی تو سیدنا عمرؓ نے ان کو منع کیا جس پر رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: عمرؓ! زینبؓ سے درگزر کرو، یہ اَوّاہ ہیں یعنی عاجزی و انکساری کے ساتھ اللہ کے حضور آہ و زاری سے دعائیں مانگنے والی ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ سیدہ زینبؓ کے بارے میں سیدنا عمرؓ نے ارشاد فرمایا: میں نے سیدہ زینبؓ سے بڑھ کر کسی کو خشوع و خضوع کرنے والا نہیں دیکھا۔
فائدہ: یہاں یہ سمجھ لیں کہ زبان سے اظہارِ عاجزی کو "خشوع" کہتے ہیں۔ قرآنِ کریم کی سورۃ طٰہٰ: آیت، 108میں ہے: 
وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ الخ۔
(سورۃ طٰہٰ: آیت، 108)
ترجمہ: اور خدائے رحمان کے سامنے سب آوازیں دب کر رہ جائیں گی۔
جبکہ اپنے اعضاءِ جسمانی سے عاجزی کے اظہار کرنا مثلاً بدن کو جھکانا، نظریں اور آواز پست کرنا الغرض ہر ادا سے بے چارگی کا اظہار کرنے کا نام "خضوع" ہے۔ قرآنِ کریم کی سورۃ الشعراء: آیت، 4 میں ہے:
اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰيَةً فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُهُمۡ لَهَا خٰضِعِيۡنَ۞
(سورۃ الشعراء: آیت، 4)
ترجمہ: اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے ایسی نشانی اتاریں کہ اس کے سامنے ان کی گردنیں جھک کر رہ جائیں۔
اتباعِ شریعت:
زینب بنتِ ابی سلمہؓ فرماتی ہیں: جب اُمُ المؤمنین سیدہ زینب بنتِ جحشؓ کے بھائی کا انتقال ہوا تو میں ان کے گھر گئی۔ انہوں نے مجھے خوشبو سنگھائی اور فرمایا: واللہ! مجھے خوشبو لگانے کی چنداں کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن میں نے خود رسول اللہﷺ کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھنی والی کسی مومن خاتون کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے ماسوائے اس عورت کے جس کا خاوند فوت ہو جائے اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔
فائدہ نمبر1: یہاں چار ماہ سے قمری مہینے یعنی چاند کے مہینے مراد ہیں۔
فائدہ نمبر 2: مذکورہ حدیث میں شوہر کے فوت ہونے پر جو عدت بیان کی گئی ہے وہ اس عورت کی ہے جو حاملہ نہ ہو۔ اگر حاملہ ہو اس کی عدت وضع حمل بچہ جننے تک ہے۔ عدت کے مزید احکامات میری کتاب "مسلمان عورت" میں ملاحظہ کریں۔
سوکنوں کی گواہی:
سیدہ زینب بنتِ جحشؓ کے اوصاف و کمالات کا تذکرہ آپؓ کی سوکنیں اُمہات المؤمنینؓ نے بھی فرمایا ہے۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں: میں نے زینب بنتِ جحشؓ سے بڑھ کرکوئی عورت زیادہ دین دار، پرہیزگار، زیادہ راست گفتار، زیادہ جود و سخا کی مالک، اللہ کے راہ میں خرچ کرنے اور رضائے الہٰی کو حاصل کرنےکے لیے آپؓ سے زیادہ سرگرم نہیں دیکھی۔
سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں: سیدہ زینبؓ کے وصال کی خبر سن کر مدینہ منورہ کے غریبوں، فقیروں اور مسکینوں میں غم کی لہر دوڑ گئی اور وہ گھبرا گئے کہ ان کے بعد اس قدر ہمارا پرسان حال اور کون ہو گا؟
سیدہ امِ سلمہؓ فرماتی ہیں: سیدہ زینب بنتِ جحشؓ ایک خوب صورت خاتون تھیں، رسالت مآبﷺ کثرت سے آپؓ کے پاس جایا کرتے تھے۔ صالح، روزہ دار اور شب بیدار تھیں۔
سخاوت و دریا دلی:
سیدہ زینب بنتِ جحشؓ سخاوت و دریا دلی میں بہت مشہور تھیں جو کچھ ہوتا راہ خدا میں خرچ کر دیتیں آپؓ کی سخاوت کا اندازہ اس ایک واقعے سے کیا جا سکتا ہے۔ آپؓ کی خدمت میں سیدنا عمرؓ نے اپنے عہد خلافت میں 12000 دراہم بھیجے۔ سیدہ زینبؓ نے سیدنا عمرؓ کے لیے دعا کی اور فرمایا: اللہ تعالیٰ سیدنا عمرؓ کی بخشش فرمائے، میری دوسری بہنیں امہاتُ المؤمنینؓ مجھ سے زیادہ اس نوازش کی حق دار ہیں۔
آپؓ کو بتایا گیا کہ سیدنا عمرؓ نے ان کے لئے بھی الگ بھیجا ہے، یہ سب آپ ہی کا ہے۔ فرمانے لگیں: سبحان اللہ! پھر اسے ایک کپڑے سے چھپا کر ڈھانپ دیا اور برزہ بنتِ رافع کو کہا کہ اس کو لوگوں میں بانٹ دو، اُن لوگوں میں سے کچھ آپؓ کے عزیز بھی تھے اور کچھ مسکین و یتیم لوگ بھی تھے۔ انہوں نے آپ کے حکم پر لوگوں میں تقسیم کیا اس کے باوجود بھی کچھ رقم بچ گئی تو برزہ بنتِ رافع نے کہا: اس میں ہمارا بھی حق ہے۔ سیدہ زینبؓ نے فرمایا: جو کپڑے کے نیچے باقی ہے، سب آپ کا ہے۔ اس میں85 درہم باقی تھے۔
وفات کا اشارہ:
آپﷺ نے ایک مرتبہ اپنی ازواجِ مطہراتؓ سے فرمایا: تم میں سے وہ مجھے جلد ملے گی جس کا ہاتھ لمبا ہو گا۔ آپﷺ کی یہ بات سن کر اُمہاتؓ المؤمنینؓ اپنے اپنے ہاتھ ناپنے لگیں۔ اس میں لمبا ہاتھ سیدہ سودہ بنتِ زمعہؓ کا تھا۔ جب نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد اُمہاتُ المؤمنینؓ میں سے سب سے سیدہ زینب بنتِ جحشؓ کا انتقال ہوا تو اُمہاتُ المؤمنینؓ سمجھ گئیں کہ لمبے ہاتھ سے مراد سخاوت اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ کیونکہ سیدہ زینبؓ سخاوت و دریا دلی میں سب سے آگے تھیں۔
وصیت نامہ:
سیدہ زینبؓ نے اپنا کفن بھی خود تیار کر کے رکھا ہوا تھا وفات سے کچھ دن پہلے آپؓ نے وصیتیں کیں۔
صفحہ 4 از 5