ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ…

ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 5
سیدہ زینبؓ نے فرمایا: میں اس بات کا کوئی جواب نہیں دے سکتی یہاں تک کہ میں اپنے رب سے اس بارے مشورہ نہ کرلوں اور پھر اٹھ کر نماز استخارہ پڑھنا شروع کی۔
ادھر دوسری طرف آپﷺ پر وحی اترنا شروع ہو گئی، آپﷺ فرمانے لگے: کون ہے جو سیدہ زینبؓ کو یہ خوشخبری سنائے کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نکاح ان سے کر دیا ہے اس کے بعد آپﷺ نے سورۃ الاحزاب کی یہ آیت تلاوت فرمائیں: 
فَلَمَّا قَضٰى زَيۡدٌ مِّنۡهَا وَطَرًا زَوَّجۡنٰكَهَا لِكَىۡ لَا يَكُوۡنَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ حَرَجٌ فِىۡۤ اَزۡوَاجِ اَدۡعِيَآئِهِمۡ اِذَا قَضَوۡا مِنۡهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ اَمۡرُ اللّٰهِ مَفۡعُوۡلًا۞
(سورۃ الاحزاب: آیت، 37)
ترجمہ: جب زیدؓ نے اپنی بیوی سے تعلق ختم کر لیا تو ہم نے اس سے آپ کا نکاح کرا دیا تاکہ مسلمانوں کے لیے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرنے میں اُس وقت کوئی تنگی نہ رہے جب انہوں نے اپنی بیویوں سے تعلق ختم کر لیا ہو اور اللہ نے جو حکم دیا ہے اس پر تو عمل ہو کر ہی رہنا تھا۔
سیدہ سلمیٰؓ آپﷺ کی خادمہ موجود تھیں، انہوں نے سنا تو وہ خوشخبری سنانے کے لیے سیدہ زینبؓ کے گھر تشریف لے گئیں۔ اور فرمایا:اے زینبؓ! مبارک ہو، اللہ تعالیٰ نے آپ کا نکاح اپنے رسول اللہﷺ کے ساتھ آسمانوں پر کر دیا ہے۔آپؓ نے جب یہ عظیم ترین خوشخبری سنی تو آپؓ نے اپنے زیور اتار کر سیدہ سلمیٰؓ کو دے دیے۔ اللہ کا شکر ادا کیا اور نذر مانی کہ میں دو ماہ روزہ رکھوں گی۔ اس کے بعد نبی کریمﷺ آپؓ کے گھر آئے اور 400 درہم حق مہر ادا کیا۔
دعوتِ ولیمہ:
نکاح کے دوسرے دن آپﷺ نے ولیمے کی دعوت رکھی۔ ایک بکری ذبح فرما کر ولیمہ کیا۔ سیدنا انسؓ فرماتے تھے سیدہ زینبؓ سے شادی کرکے آپﷺ نے جو ولیمہ کیا اس سے بہتر ولیمہ کسی اور بیوی سے شادی کرنے پر آپﷺ نے نہیں کیا۔
چنانچہ آپﷺ نے بھی بکری ذبح فرمائی اور سیدنا انسؓ کی والدہ سیدہ اُمِ سلیمؓ نے بھی اس موقع پر آپﷺ کی خدمت میں حریرہ عرب کی مشہور سوغات بناکر ایک برتن میں بھیج دیا اور تقریباً 300 افراد نے خوب پیٹ بھر کر کھایا۔
آپﷺ نے سیدنا انسؓ سے فرمایا کہ جاؤ فلاں فلاں کو اور ان کے علاوہ جو تم کو ملے ولیمہ کے لیے بلا کر لاؤ۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے لوگوں کو رسول اللہﷺ کے ولیمے میں آنے کی دعوت دی۔ کچھ دیر بعد آپﷺ کا گھر لوگوں سے بھر گیا۔ آپﷺ نے ان لوگوں سے فرمایا کہ دس دس کا حلقہ بنالو اور ہر شخص اپنی طرف سے کھائے۔
سیدنا انسؓ فرماتے ہیں:نبی کریمﷺ نے اپنا دستِ مبارک اس کھانے میں رکھا اور برکت کی دعا فرمائی۔ اس کے بعد اس میں اتنی برکت ہوئی اتنی برکت ہوئی کہ سب لوگوں نے خوب سیر ہوکر کھا لیا کھانا تب بھی ختم نہ ہوا۔ جب سب لوگ کھا چکے تو مجھے جناب نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ اے انسؓ! اس کھانے کو اٹھا لو! سیدنا انسؓ فرماتے ہیں: جب میں نے اسے اٹھایا تو میرے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا کہ جب یہ کھانا میں نے لوگوں کے سامنے کھانے کے لیے رکھا تھا اُس وقت زیادہ تھا یا اب زیادہ ہے؟ اس میں اتنی برکت ہوئی کہ سینکڑوں آدمیوں کے کھا لینے پر بھی بچ گیا۔ بلکہ پہلے سے بھی زیادہ معلوم ہوتا تھا۔
پردے کے حکم کا نزول:
سیدنا انسؓ فرماتے ہیں: پردہ کا حکم کب، کہاں اور کیوں اترا؟ اس بات کو سب لوگوں سے زیادہ میں جانتا ہوں۔ فرماتے ہیں: سب سے پہلے پردہ کا حکم اس وقت نازل ہوا جب نبی کریمﷺ نے اُمُ المؤمنین سیدہ زینب بنتِ جحشؓ اسے نکاح کے بعد دوسرے روز ولیمہ کیا۔ چنانچہ آپﷺ نے لوگوں کو بلایا۔ لوگ آئے اور کھانا کھا کر چلے گئے لیکن چند آدمی وہیں باتیں کرتے ہوئے رہ گئے اور بہت دیر لگا دی۔ آپﷺ کو اس سے بہت تکلیف سی پہنچی۔ آپﷺ چاہتے تھے کہ یہ لوگ بھی چلے جائیں لیکن مروت کی وجہ سے ان کو کچھ کہہ نہ سکے۔ بلکہ آپﷺ نے یوں کیا کہ خود وہاں سے چل دیے تاکہ یہ لوگ بھی چلے جائیں۔ حتیٰ کہ آپﷺ اپنی بعض ازواجِ مطہرات کے پاس تشریف لے گئے، کچھ دیر بعد واپس آئے آپﷺ نے خیال فرمایا کہ شاید اب وہ لوگ بھی چلے گئے ہوں گے۔ واپس آ کر دیکھا کہ وہ لوگ ابھی تک بیٹھے ہوئے تھے ہیں۔ اس سارے واقعے میں سیدنا انسؓ آپﷺ کے ساتھ تھے۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ دوسری مرتبہ آکر دیکھا تو لوگ چلے گئے ہیں۔ چنانچہ نبی کریمﷺ گھر تشریف لے گئے تھوڑی دیر بعد باہر واپس تشریف لائے اور یہ آیت حجاب تلاوت فرمائی جو اسی وقت نازل ہوئی تھی:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدۡخُلُوۡا بُيُوۡتَ النَّبِىِّ اِلَّاۤ اَنۡ يُّؤۡذَنَ لَـكُمۡ اِلٰى طَعَامٍ غَيۡرَ نٰظِرِيۡنَ اِنٰٮهُ وَلٰـكِنۡ اِذَا دُعِيۡتُمۡ فَادۡخُلُوۡا فَاِذَا طَعِمۡتُمۡ فَانْتَشِرُوۡا وَلَا مُسۡتَاۡنِسِيۡنَ لِحَـدِيۡثٍ اِنَّ ذٰلِكُمۡ كَانَ يُؤۡذِى النَّبِىَّ فَيَسۡتَحۡىٖ مِنۡكُمۡ وَاللّٰهُ لَا يَسۡتَحۡىٖ مِنَ الۡحَـقِّ وَاِذَا سَاَ لۡتُمُوۡهُنَّ مَتَاعًا فَسۡئَـــلُوۡهُنَّ مِنۡ وَّرَآءِ حِجَابٍ ذٰلِكُمۡ اَطۡهَرُ لِقُلُوۡبِكُمۡ وَقُلُوۡبِهِنَّ الخ۔
(سورۃ الاحزاب: آیت، 53)
ترجمہ: اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں بلا اجازت داخل نہ ہوا کرو مگر یہ کہ تمہیں کھانے پر آنے کی دعوت دے دی جائے وہ بھی اس طرح کہ تم اس کھانے کی تیاری کے انتظار میں نہ بیٹھے رہو۔ لیکن جب تمہیں دعوت دی جائے تو جاؤ پھر جب کھانا کھا چکو تو اپنی اپنی راہ لو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھو، حقیقت یہ ہے کہ اس بات سے نبی کو تکلیف پہنچتی ہے، اور وہ تم سے (کہتے ہوئے) شرماتے ہیں، او ر اللہ حق بات کہنے میں کسی سے نہیں شرماتا۔ اور جب تمہیں نبی کی بیویوں سے کچھ مانگنا ہو توتو پردے کے پیچھے سے مانگو، یہ طریقہ تمہارے دلوں کو بھی اور ان کے دلوں کو بھی زیادہ پاکیزہ رکھنے کا ذریعہ ہو گا۔
اس آیت مبارکہ میں پردے کے بارے خطاب اگرچہ رسول اللہﷺ اور آپ کی ازواجِ مطہراتؓ کو ہے۔ لیکن حکم عام ہے ساری امت کے لیے ہے
صفحہ 3 از 5