ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا - دفاعِ اہلِ…

ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 5
سیدنا زیدؓ نے بچپن سے بلوغ میں قدم رکھا تو نبی کریمﷺ نے ان کا نکاح اپنی باندی "برکہ" سے کردیا۔ جن کی کنیت اُمِ ایمن تھی۔
سیدہ اُمِّ اَیْمَنْؓ کا مختصر تعارف:
آپ کا نام "برکہ" اور کنیت "اُمِ ایمن" ہے۔سلسلہ نسب کچھ اس طرح ہے: برکہ بنتِ ثعلبہ بن عروہ بن حصن بن مالک بن سلمہ بن عمرو بن نعمان آپؓ حبشہ کی رہنے والی تھیں اور رسول اللہﷺ کے والد محترم جناب عبداللہ کی کنیز تھیں۔ حضرت عبداللہ کی وفات کے بعد رسول اللہﷺ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ سے منسلک ہوگئیں۔ جب حضرت آمنہ کی بھی وفات ہوگئی تو رسول اللہﷺ کی خدمت میں رہنے کی لگیں۔ چونکہ اُمِ ایمنؓ آپﷺ کے والد اور والدہ کی کنیز تھیں۔ مزید یہ کہ آپﷺ کی ولادت مبارکہ ان کے سامنے ہوئی تھی، اس لئے انہیں آپﷺ کی ابتدائی تربیت اور پرورش کا شرف بھی حاصل تھا۔
سیدہ اُم ایمنؓ نے ابتداءً نبی کریمﷺ کی دعوتِ اسلام کو قبول فرمایا۔ قبولِ اسلام کے بعد انتہائی مشکلات اور مصائب سے دو چار بھی ہوئیں آپؓ نے حبشہ کی طرف ہجرت بھی فرمائی۔ حبشہ سے واپس آئیں اور جب مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا حکم ملا تو سیدہ اُمِ ایمنؓ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت بھی کی۔
سیدہ اُمِ ایمنؓ نہایت دلیر اور شجاعت کی پیکر تھیں۔ آپؓ نے غزوہِ احد میں بھی شرکت کی اور بہادری کے جوہر دکھائے۔ مشکیزہ کندھوں پر اٹھا کر زخمیوں کو پانی پلاتیں، مرہم پٹی کرتیں۔ غزوہ احد میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ مسلمانوں پر جب آثار ہزیمت نمودار ہونا شروع ہوئے اور میدانِ جنگ سے ان کے پاؤں اکھڑنے لگے تو اُم ایمنؓ نے مسلمانوں کو اسلامی غیرت اور رسول اللہﷺ کی جان کی حفاظت کا واسطہ دے کر کہا کہ موت سے بھاگ کر کدھر جا رہے ہو؟ کیا موت میدانِ جنگ سے باہر نہیں آئے گی؟ میدانِ جنگ سے باہر کی موت ذلت اور بزدلی کی موت اور میدانِ جنگ کی موت شہادت اور عزت کی موت ہوگی۔ آپؓ نے فرمایا کہ کیا تمہیں اس بات کا احساس نہیں کہ رسول اللہﷺ میدانِ کارزار میں مخالفین کا مقابلہ کر رہے ہیں اور تم انہیں چھوڑ کر بھاگے جا رہے ہو،چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین واپس پلٹے۔ اُمِ ایمنؓ نے غزوہ خیبر میں بھی شرکت کی تھی اور مخالفینِ اسلام کا پورے زور اور ہمت سے مقابلہ کیا تھا۔
سیدہ اُمِ ایمنؓ کی نبی کریمﷺ بہت عزت فرماتے ایک بار آپﷺ نے فرمایا: میری والدہ کے بعد اُمِ ایمنؓ میری والدہ ہیں ایک دوسرے موقع پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اُمِ ایمنؓ میرے خاندان کا بقیہ ہیں۔
سیدہ امِ ایمنؓ کا پہلا نکاح سیدنا عبید بن زیدؓ سے ہوا جو حارث بن خزرج کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ سیدنا عبید بن زیدؓ نعمت اسلام سے مالا مال ہوئے اور جنگِ حنین میں شہادت پائی۔ان کی شہادت کے بعد سیدنا زید بن حارثہؓ کے عقد میں آئیں۔ سیدہ اُمِ ایمنؓ سے سیدنا زیدؓ کے بیٹے اسامہ پیدا ہوئے جو کہ سیدنا اسامہ بن زیدؓ کے نام سے مشہور ہیں۔
تکوینی واقعات میں مضمر ایک بڑی حکمت:
سیدہ زینب بنتِ جحشؓ نکاح کے بعد تقریباً ایک سال تک سیدنا زیدؓ کے پاس رہیں۔ چونکہ اللہ کریم آپﷺ کے لیے سیدہ زینب بنتِ جحشؓ کے انتخاب کا فیصلہ فرما چکے تھے۔ مزید یہ کہ رسول اللہﷺ کے سیدنا زینبؓ سے نکاح کے فوائد و مضمرات اور بھی کئی حکمتیں پوشیدہ تھیں۔ اس لیے تکوینی طور پر ایسے واقعات صادر ہونا شروع ہوئے جو دونوں کی جدائی کا سبب بنتے ہیں۔ لیکن خدائی حکمتوں پر نظر رکھنے والوں کو اس میں بھلائی ہی نظر آتی ہے۔
طلاق دینے کا پسِ منظر:
ہوا یوں کہ نکاح کےبعد سیدنا زیدؓ کے ساتھ سیدہ زینبؓ کا مزاج روکھا روکھا رہا پھر کچھ عرصہ بعد اس روکھے پن میں مزید شدت آئی اور سیدہ زینبؓ کا رویہ ترش ہو گیا۔ سیدہ زیدؓ کا مزاج مبارک چونکہ حلم و حوصلہ والا تھا اس لیے برداشت فرماتے رہے۔ آپؓ کو یہ بحیثیتِ شوہر ہونے کے یہ شکایت تھی کہ ان کی اہلیہ کے دل سے احساس برتری مٹ نہیں سکا۔ چنانچہ ایک دن سیدنا زیدؓ نبی کریمﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور اس ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔ بطورِ مشورہ کے پوچھا کہ یا رسول اللہﷺ کیا میں سیدہ زینبؓ کو طلاق دے دوں؟
نبویﷺ مشورہ اور پوشیدہ امر:
رسول اللہﷺ کو اگرچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ معلوم ہو چکا تھا کہ سیدہ زینبؓ آپ کے نکاح میں آئیں گی۔ لیکن ان سے نکاح کرنے کی ابھی تک واضح طور پر وحی نازل نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے آپﷺ نے سیدنا زیدؓ کو وہی مشورہ دیا جائے جو ایسے حالات میں زوجین کو دیا جاتا۔ آپﷺ نے فرمایا:
اَمۡسِكۡ عَلَيۡكَ زَوۡجَكَ وَاتَّقِ اللّٰهَ الخ۔
(سورۃ الاحزاب: آیت، 37)
ترجمہ: اپنی بیوی کو اپنے نکاح میں ہی رہنے دو اور اللہ سے ڈرو۔
آپﷺ نے سیدنا زیدؓ سے اس بات کا اظہار نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرما رکھا ہے کہ سیدنا زیدؓ تم اپنی بیوی کو طلاق دو گے اور اس کے بعد بحکمِ الہٰی وہ میری بیوی بنے گی۔ اس بات کا تذکرہ سورۃ الاحزاب کی آیت 37 میں موجود ہے۔
وَتُخۡفِىۡ فِىۡ نَفۡسِكَ الخ۔
(سورۃ الاحزاب: آیت، 37)
ترجمہ: کہ آپ اپنے دل میں یہ بات چھپائے ہوئے تھے۔
بالآخر طلاق ہو گئی:
جیسے کاتبِ تقدیر نے لکھا تھا ویسے ہی ہوا، سیدنا زیدؓ اور سیدہ زینبؓ کے ایک سالہ ازدواجی سفر کا اختتام ہوا، 5 ہجری میں سیدنا زیدؓ نے سیدہ زینب بنتِ جحشؓ کو طلاق دے دی۔
سیدہ زینبؓ اُمُ المومنین بنتی ہیں:
5 ہجری ذیقعدہ کا مہینہ تھا سیدہ زینبؓ کی عمر 38 سال ہو چکی تھی، طلاق کے بعد ایامِ عدت پورے ہوئے تو آپﷺ نے سیدنا زید بن حارثہؓ کو بلایا اور فرمایا کہ سیدنا زیدؓ! آپ جاؤ اور سیدہ زینبؓ کو میری طرف سے پیغامِ نکاح دے دو۔چنانچہ سیدنا زیدؓ فوراً سیدہ زینبؓ کے مکان کی طرف چل پڑے۔ ابھی پردہ کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے، خود فرماتے ہیں:جب میں سیدہ زینبؓ کے گھر پہنچا تو وہ میری نگاہ میں نہایت قابلِ عزت و احترام تھیں کہ میں ان کی طرف نظر نہ اٹھا سکا یہاں تک کہ ادب و احترام کی وجہ سے میں ان کی طرف پشت کر کے کھڑا ہوا اور کہا: آپ کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے، رسول اللہﷺ نے مجھے آپ کے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ میں رسول اللہﷺ کی طرف سے آپ کو نکاح کا پیغام دوں۔
صفحہ 2 از 5