[پہلا قول:قائلین تقدیرکے ہاں ظلم کا مفہوم:] - ردِ رافضیت |…

[پہلا قول:قائلین تقدیرکے ہاں ظلم کا مفہوم:]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

صحیح بخاری میں حضرت ابوھریرہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں سے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا:’’ اللہ اعلم بما کا عاملین۔‘‘[1] [1] بخاری 100؍2، 123؍8، مسلم 2047؍4، مسند احمد 7512,7321، مسند الطیاسی 235؍2۔ان احادیث اور اقوال پر مفصل بحث دوسری جگہ مثلاًدرء تعارض العقل والنقل میں کی گئی ہے۔دوسرا قول :قائلین قدر کے ہاں ظلم کا مفہوم۔دوسرا قول: یہ ہے کہ ظلم ممکن اور مقدور ہے۔ اللہ اپنے علم و عدل کی وجہ سے ظلم نہیں کرتا۔ وہ کسی پر دوسرے کا گناہ نہیں ڈالتا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :﴿ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ﴾[اسراء ۱۵]’’کسی ایک پر دوسرے کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔‘‘اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :﴿وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ ھُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا ھَضْمًا﴾[طہ ۱۱۲]’’اور جو شخص اچھی قسم کے اعمال کرے اور وہ مومن ہو تو وہ نہ کسی بے انصافی سے ڈرے گا اور نہ حق تلفی سے۔‘‘اس بنیاد پر کسی کو دوسرے کے گناہ کے سبب سزا دینا ظلم ہے اللہ رب العزت اس سے پاک ہے۔رہی یہ بات کہ مطیع کو اجر و ثواب دینا؛ تو یہ اس کا فضل و احسان ہے اگرچہ مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ وہ وعدے کی لازما پاسداری کرتا ہے۔ اس نے اپنے اوپر ظلم حرام کر رکھا ہے۔ اس کے اسماء و صفات اسی کا تقاضہ کرتے ہیں ۔یہ مالک کے ظلم جیسا نہیں جو کام پورا لیتا ہے مگر اجرت پوری نہ دے۔ یہ مزدوری تو مالک کا کام پورا کرنے کا معاوضہ ہوتی ہے اگر پوری نہ دے تو ظلم ہے۔اللہ نے تو اوامرونواھی اور اطاعت کی توفیق ؛ اور بھلائی کے کاموں ان کے تعاون کے ذریعے بندوں پر احسان کیا ہے۔ حدیث قدسی میں ہے:’’اے میرے بندو! میں اپنے اوپر ظلم کو حرام کر لیا اور تمہارے مابین بھی اسے حرام ٹھہرایاہے؛ میرے بندو آپس میں ظلم نہ کرو۔ تم سب گمراہ ہو مگر میں جسے ہدایت عطا کر دوں ؛ سو مجھ سے ہدایت طلب کرو میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ میرے بندو !تم سب بھوکے ہو مگر جسے میں کھلا دوں ؛ تم سب مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھلاؤں گا۔ میرے بندو! تم سب ننگے ہو مگر میں جسے پہنا دوں ؛ مجھ سے کپڑے مانگو میں تمہیں پہناؤں گا ۔ میرے بندو !اگر تمہارے اول و آخر؛ جن وانس ؛تم میں سے سب سے زیادہ پرہیز گار کے دل جیسے ہو جائیں ؛ اس سے میری بادشاہت میں کچھ اضافہ نہیں ہو گا۔ اے میرے بندو! تم سب جن و انس اپنے سب سے فاجر آدمی جیسے ہو جاؤ؛ میری بادشاہت میں کچھ کمی۔

واقع نہ ہو گی۔ میرے بندو! تمہارے اگلے پچھلے جن و انس ایک میدان میں کھڑے ہو کر مجھ سے سوال کریں ؛اور میں ہر انسان کو اس کے سوال کے مطابق عطا کر دوں ؛ تو اس سے میرے خزانوں میں اتنی کمی نہیں ہو گی جتنی سمندر میں سوئی ڈبونے سے ہوتی ہے۔ اے میرے بندو! تم مجھے ہر گز نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتے؛ نہ مجھے نفع دینے کی سکت رکھتے ہو کہ مجھے نفع دے سکو۔ میرے بندو !میں تو تمہارے اعمال گن گن کے رکھتا ہوں اور ان پر تمہیں پوری پوری جزاء دیتا ہوں جس نے اچھائی پائی وہ (میری) اللہ کی تعریف کرے اور جو اس کے علاوہ کسی چیز کو پائے وہ صرف خود کو ہی ملامت کرے۔‘‘[1] [1] امام نووی شرح مسلم 133؍16 میں فرماتے ہیں المخیط سوئی کو کہتے ہیں اہل علم کہتے ہیں یہ بات سمجھانے کے لیے مثال ہے حقیقت میں کمی واقع نہیں ہوتی۔معلوم ہوا ثواب پر اللہ کا شکراور تعریف کرنا اس لیے ہے کہ یہ اسی کے احسان اور پیدا کردہ اسباب سے ممکن ہوا۔ عذاب اور سزا اس کا عدل ہے ؛ جس پر بندہ خود کوہی ملامت کرے؛ جیسے کہا گیا ہے:کل نعمۃ منہ فضل وکل نقمۃ منہ عدل’’اس کی ہر نعمت اس کا فضل ہے؛ اور اس کی طرف سے ہر انتقام اس کا عدل ہے۔‘‘اس قول کے قائلین کہتے ہیں کتاب و سنت اسی قول کو بیان کرتے ہیں ۔ اللہ نے کئی مواقع پر ممکن اور مقدور بھر ظلم کی نفی کی ہے۔ مثلاً اس کی نیکیاں کم کرے یا دوسروں کی برائیاں اس پر ڈالے۔ رہا مسئلہ خلق افعال عباد اور اس میں خاص کر اھل ایمان کی اطاعت پر مدد کرنا بالاتفاق اہل سنت اور دیگر مذاھب جو تقدیر پر ایمان رکھتے ہیں کے ہاں ظلم نہیں جب کہ قدریہ اسے ظلم کہتے ہیں اور تعدیل و تجویز کے متضاد اور فاسداقوال کے قائل ہیں جیسا کہ کئی مواقع پر وضاحت کر دی گئی۔


صفحہ 2 از 2