"معاویہ" کے معنیٰ کتیا کے ہیں جو کتوں کے ساتھ مل کر بھونکتی…

"معاویہ" کے معنیٰ کتیا کے ہیں جو کتوں کے ساتھ مل کر بھونکتی ہے۔

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 2 از 2

معاویۃ بن عبداللہ بن جعفر الطیار ذاک ولد بعد وفات امیر المؤمنین 

(عمدۃ الطالب صفحہ 38 تحت عقب جعفر طیار) 

4: معاویۃ حضرت جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے شاگردوں میں: 

 1. معاویۃ بن سعیدالکندی الکوفی عدہ الشیخ فی رجالہ ثارۃ مثل ما فی العنوان فی اصحاب الصادق 

(تنقیح المقال للمامقانی صفحہ 222 جلد 3 تحت باب معاویۃ) 

 2۔ معاویۃ بن سلمۃ النضری عدہ الشیخ من رجال الصادق-

(تنقیح المقال للمامقانی صفحہ 223-224 جلد 3 تحت باب معاویۃ). 

مندرجہ بالا مقامات میں معاویۃ کا نام مستعمل ہے اور اسی پر کسی قسم کا طعن معترضین نہیں کیا کرتے تو امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو کیوں مطعون کیا جاتا ہے اس حکمت عملی کی وجہ کیا ہے؟ 

 ایک لطیفہ 

ناظرین کرام نے مذکورہ بالا ناموں کو شیعہ کتب سے ملاحظہ فرما لیا ہے کہ عبداللہ بن جعفر الطیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک فرزند کا نام معاویۃ تھا۔

یہاں ہم ناظرین کی ضیافت طبع کے لیے ایک لطیفہ پیش کرتے ہیں- جو شیعہ کے اکابر علماء نے اس مقام میں ذکر کیا ہے-چنانچہ کتاب عمدۃ الطالب میں جمال الدین ابن عنبہ الشیعی ذکر کرتے ہیں کہ

(فولد) عبداللہ عشرین ذکراً و قیل اربعتہ و عشرین منھم معاویۃ بن عبداللہ کان وصی ابیہ و انما سمعی معاویۃ لان معاویۃ  بن ابی سفیان طلب سنہ ذالک-فبذل لہ مانتہ الف درھم و قیل الف الف-

(عمدۃ الطالب فی انساب آل ابی طالب صفحہ 38 قت عقب جعفر الطیار- طبع ثانی-نجف)

ترجمہ: یعنی عبداللہ کے بیس یا چوبیس لڑکے پیدا ہوئے ہوئے ان میں میں سے ایک کا نام معاویۃ بن عبداللہ تھا اور وہ اپنے باپ کا "وصی"تھا اور اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ امیر معاویہؓ بن ابی سفیانؓ نے عبداللہ بن جعفرؓ کو ایک لاکھ درہم اور بقول بعض دس لاکھ درہم دیے تاکہ وہ اپنے بیٹے کا نام معاویۃ رکھے۔

فلٰہذا عبداللہ بن جعفرؓ الطیار نے اس وجہ سے سے اپنے بیٹے کا نام معاویۃ رکھا۔

مندرجہ بالا روایت کی روشنی میں اکابر شیعہ کے نزدیک آل ابی طالب حضرات کی یہی کچھ حیثیت ہے کہ وہ چند درہم لے کر اپنی اولاد کے اسماء اپنے دشمنوں کے نام کے مطابق رکھ دیتے تھے۔

(سبحان اللہ).

یہ چیز واضح طور پر ہاشمی حضرات کی کردار کشی ہے جو شیعہ کے اکابر علماء نے بڑے عجیب طریقے سے درج کر دی ہے مگر یہ چیز ہمارے نزدیک ہرگز صحیح نہیں۔

 علمائے انساب کے نزدیک

علمائے انساب نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ کی صاحبزادی رملۃ کا نکاح اور شادی مروان بن الحکم کے لڑکے معاویۃ کے ساتھ ذکر کی ہے-عبارت ذیل ملاحظہ فرمائیں۔

 1-وتزوج(معاویہ بن مروان بن الحکم)رملۃ بن علی بن ابی طالب بعد ابی الھیاج عبداللہ بن ابی سفیان بن الحارث بن عبدالمطلب

(جمہرۃ النساب العرب لابن حزم صفحہ 87 تحت اولاد الحکم بن ابی العاص)

 2- رملۃ بنت علی المرتضیٰ ابو الہیاج کے نکاح میں تھیں اس کے بعد ثم خلف علیھا معاویۃ بن مروان بن الحکم بن ابی العاص

(نسب قریش لمصعب الزبیری صفحہ 45 تحت ولد علی بن ابی طالب)- 

مندرجہ بالا ہر دو حوالہ جات سے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی رملۃ کا معاویۃ بن مروان کے نکاح میں ہونا بین طور پر ثابت ہے-فلٰہذا معاویۃ کا نام قابل طعن وتشنیع نہیں۔ 

مختصر یہ ہے کہ ائمہ کرام کی اولاد، رشتہ داروں،  تلامیذ اور خدام وغیرہ میں "معاویۃ" کا نام مروج و مستعمل اور متداول ہے۔

ان حقائق کے بعد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالی عنہ کے نام پر اعتراض و طعن قائم کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا انصاف درکار ہے۔

 مزید تحقیق کے لیے کتاب "لفظ معاویہ کی تحقیق" مولانا مسعود الرحمٰن عثمانی صاحب کی پڑھ لیں جو کہ سنی لائبریری ویب سائٹ پر موجود ہے۔


صفحہ 2 از 2