وہ فوائد جن کا تعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہے - دفاعِ…

وہ فوائد جن کا تعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

وَلَا يَاۡتَلِ اُولُوا الۡـفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِى الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ‌‌ وَلۡيَـعۡفُوۡا وَلۡيَـصۡفَحُوۡا‌ اَلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَـكُمۡ‌ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞ (سورۃ النور آیت 22)

ترجمہ:اور تم میں سے جو لوگ اہل خیر ہیں اور مالی وسعت رکھتے ہیں، وہ ایسی قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے، اور انہیں چاہیے کہ معافی اور درگزر سے کام لیں۔ کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ اللہ تمہاری خطائیں بخش دے ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

ج: اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان اس کی ان پر شفقت اور رحم دلی کا بیان۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمۡ فِىۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ‌ ۞ (سورۃ النور آیت 14)

ترجمہ: اور اگر تم پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جن باتوں میں تم پڑگئے تھے ان کی وجہ سے تم پر اس وقت سخت عذاب آپڑتا۔

اسی طرح سچے اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کی غیرت، اس کی طرف سے ان کا دفاع اور جو ان پر زنا وغیرہ کی تہمت لگائے اللہ تعالیٰ کا ان کو دنیا و آخرت میں لعنت کا چیلنج دینا۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں بیان ہوا ہے:

اِنَّ الَّذِيۡنَ يَرۡمُوۡنَ الۡمُحۡصَنٰتِ الۡغٰفِلٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ لُعِنُوۡا فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞ (سورۃ النور آیت 23)

ترجمہ: یاد رکھو کہ جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی مسلمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں پھٹکار پڑچکی ہے، اور ان کو اس دن زبردست عذاب ہوگا۔

د: یہ کہ واقعہ افک سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت پر واضح دلیل مل گئی اور یہ کہ آپ غیب نہیں جانتے تھے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا مہینہ اس آزمائش میں گزارا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معاملہ کی حقیقت کا ذرہ بھر علم نہ تھا۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کرتے رہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ رہنے والی صحابیات اور گھر میں آنے جانے والے اصحاب سے معاملے کے بارے میں پوچھتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے کتنی سچی بات کی ہے:

قُلْ لَّاۤ اَمۡلِكُ لِنَفۡسِىۡ نَـفۡعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ‌ وَلَوۡ كُنۡتُ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ لَاسۡتَكۡثَرۡتُ مِنَ الۡخَيْرِ وَمَا مَسَّنِىَ السُّۤوۡءُ‌ ‌اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ وَّبَشِيۡرٌ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ۞ (سورۃ الأعراف آیت 188)

ترجمہ: کہو کہ جب تک اللہ نہ چاہے میں خود اپنے آپ کو بھی کوئی نفع یا نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا، اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں اچھی اچھی چیزیں خوب جمع کرتا، اور مجھے کبھی کوئی تکلیف ہی نہ پہنچتی میں تو بس ایک ہوشیار کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا ہوں، ان لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں۔ 

اس آیت کریمہ میں ان بدعتی گروہوں کا ردّ ہے جو کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بشر نہیں تھے۔ نیز وہ یہ حیران کن دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم علم غیب جانتے تھے۔

ھ: یہ کہ اس حادثے نے اہل ایمان کی صفوں میں گھسے ہوئے منافقوں کو علیحدہ کر دیا۔ چنانچہ آزمائشوں اور فتنوں کا ایک اساسی فائدہ یہ بھی ہے کہ سینوں میں چھپا ہوا نفاق ظاہر ہو جاتا ہے اور اسلام اور اہل اسلام سے کینہ و بغض رکھنے والوں کا پتا چل جاتا ہے۔ منافقت اور منافقوں کا سب کو پتا چل جاتا ہے۔

و: یہ کہ اسلام کے داعی جو صدق و اخلاص کے ساتھ اسلام کی دعوت و تبلیغ میں مصروف رہتے ہیں ہمیشہ تہمتوں، ملامتوں، سازشوں اور خصوصاً اہل علم و فضل و شرف ان اوچھے ہتھکنڈوں کا عموماً نشانہ بنتے ہیں۔ منتقم المزاج حاسدین کا یہی وتیرہ چلا آ رہا ہے۔

غور کا مقام ہے کہ مریم بنت عمران علیہا السلام کی عزت و عفت و پاک دامنی پر جھوٹا بہتان لگایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اس الزام سے بری کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَمَرۡيَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِىۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا فَنَفَخۡنَا فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِنَا وَصَدَّقَتۡ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهٖ وَكَانَتۡ مِنَ الۡقٰنِتِيۡنَ ۞ (سورۃ التحريم آیت 12)

ترجمہ: نیز عمران کی بیٹی مریم کو (مثال کے طور پر پیش کرتا ہے) جنہوں نے اپنی عصمت کی حفاظت کی، تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی، اور انہوں نے اپنے پروردگار کی باتوں اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی، اور وہ طاعت شعار لوگوں میں شامل تھیں۔ 

اسی طرح یوسف علیہ السلام کی عزت پر بھی بہتان لگایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بھی اس بہتان سے بری کر دیا۔ ہم نے کثرت سے پڑھا اور سنا ہے کہ ہر زمانے میں سچے داعیوں اور جلیل القدر علماء کی عزتوں پر تہمتیں لگائی جاتی رہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہی غالب رہتا ہے کہ وہ اہل ایمان کو نکھارتا ہے اور کافروں کو مٹا دیتا ہے۔ کیونکہ کوئی زمانہ ایسا نہ گزرا جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو پاک دامن اور گناہوں کی دلدل سے محفوظ قرار نہ دیا ہو اور ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنی غالب قدرت سے مضبوطی سے گرفتار کر لیتا ہے جو گناہ اور جرم سے بھرپور سازشیں کرتے ہیں۔


صفحہ 3 از 3