وہ فوائد جن کا تعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہے - دفاعِ…

وہ فوائد جن کا تعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

8۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر طعن و تشنیع اور ان کی مدحت کا تعلق کفر و ایمان کے ساتھ ہونا: کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب میں منصوص طریقے سے اس الزام کو بہتان کہہ دیا تو اس کے بعد جو بھی اس میں شک کرے گا وہ قطعی طور پر کافر ہے اور یہ بہت بلند درجہ ہے۔

(تفسیر الرازی: جلد 23 صفحہ 338)

9۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کتنا گہرا تعلق تھا: اس پر انھیں کتنا یقین اور اعتماد تھا اور انھیں اللہ کی پناہ پر کتنا بھروسہ تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت نازل فرمائی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے صرف اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور اس کے علاوہ کسی کی بھی حمد و ثنا نہیں کی۔

10۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا دفاع کرنے والوں کی فضیلت کا بیان:

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث کے فوائد میں لکھا:

اس حدیث میں ام مسطح کی بہت بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے، کیونکہ انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں افواہ پھیلانے کی وجہ سے اپنے بیٹے کو ترجیح نہیں دی بلکہ اس جرم کی وجہ سے اسے بددعا دی۔

(فتح الباری لابن حجر: جلد 8 صفحہ 480)

ہم کہتے ہیں: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دین کو امت کی طرف منتقل کرنے والے اصحاب رضی اللہ عنہم پر طعن و تشنیع کرنے والوں کے ساتھ محبت جتلانا دین و امانت کی کمزوری کی دلیل ہے۔ اے اللہ! تو ہم پر اپنے دین اسلام کی وجہ سے رحم فرما۔

11۔ یہ کہ قیامت تک پاک دامنی عائشہ رضی اللہ عنہا کی صفت لازمہ بن گئی اور یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم حکمت ہے۔ اسی لیے مسروق بن اجدعؒ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کوئی حدیث روایت کرتے تو یوں کہتے:

’’صدیقہ بنت صدیق، اللہ تعالیٰ کے محبوب کی محبوبہ، پاک دامن و پاک باز سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی۔‘‘

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 241)

مسروق رحمہ اللہ کی کنیت (ابو عائشہ) تھی۔

(تہذیب الکمال للمزی: جلد 27 صفحہ 451، 452+

12۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان تواضع و انکساری کی وضاحت: یہ کہ وہ اپنی برأت کے لیے اپنے آپ کو اس لائق نہیں سمجھتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے معاملے میں قرآن نازل کرے۔

 اہل علم نے مزید کتنے ہی فوائد جمع کیے ہیں جو اس حادثہ میں سامنے آئے۔ ان میں سے اہم درج ذیل ہیں :

الف: دَورِ ابتلاء: اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آزمایا اس طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا صفوان بن معطل، سیدنا حسان بن ثابت اور سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہم کی بھی آزمائش کی۔ اللہ کے فضل سے سب ہی اس آزمائش سے خالص سونا بن کر کامیاب ہوئے اور آزمائش نیک انجام پر منتج ہوتی ہے، کیونکہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دونوں کے خاندانوں نے جو صبر عظیم کیا اور قوت برداشت کا مظاہرہ کیا اور اپنے ایمان کی تصدیق کی، اس کی وجہ سے دونوں خاندانوں کو رفعت درجات اور جزاء حسن اور اجر عظیم ملے۔ چنانچہ کشادگی میں تاخیر کا سبب امتحان، آزمائش اور تحقیق و تمیز تھا تاکہ اہل ایمان اور اہل نفاق میں امتیاز ہو جائے۔ نیز اس لیے بھی تاخیر ہوئی تاکہ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق قائم کر لیں اور اس ابتلاء سے احسن انداز میں گلو خلاصی ہونے کا سب انتظار کریں۔

علامہ ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے واقعہ افک کی کچھ حکمتیں جیسے اللہ کے ساتھ حسن ظن اور اسی سے اپنی حاجت مندی کا بیان وغیرہ جمع کرنے کے بعد لکھا:

’’اگر اللہ تعالیٰ حقیقت حال سے اپنے رسول کو پہلے ہی مرحلے میں آگاہ کر دیتا اور فوراً اس کے متعلق وحی نازل ہو جاتی تو مذکورہ حکمتیں بلکہ اس سے بڑھ کر دوگنا چوگنا حکمتیں حاصل نہ ہوتیں۔‘‘

(زاد المعاد لابن القیم: جلد 3 صفحہ 335 )

ب: یہ کہ اس حادثہ سے اہل ایمان کو بے شمار اعلیٰ قسم کے آداب اسلامی کی تعلیم ملی۔ جیسے اہل ایمان کی نیک نامی کی تمنا کرنا اور آپس میں حسن ظن قائم رکھنا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کو تادیباً یہ سمجھایا گیا کہ وہ کسی بھی مومن کے ذاتی معاملے کو اپنے اوپر قیاس کر کے سمجھیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا وَّقَالُوۡا هٰذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ‏ ۞ (سورۃ النور آیت 12)

ترجمہ: جس وقت تم لوگوں نے یہ بات سنی تھی تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ مومن مرد بھی اور مومن عورتیں بھی اپنے بارے میں نیک گمان رکھتے اور کہہ دیتے کہ یہ کھلم کھلا جھوٹ ہے ؟

اکثر مفسرین نے یہ حکمت بھی تحریر کی کہ اسی طرح ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ دوسرے مسلمان کا دفاع کرے۔ خصوصاً جب معاملہ ان میں سے اہل علم و فضل کا ہو۔

نیز یہ فائدہ بھی حاصل ہوا کہ بات کو پھیلانے سے پہلے اس کی تحقیق کر لینی چاہیے اور اس کی صحت کی چھان بین کرنا ضروری ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ قُلۡتُمۡ مَّا يَكُوۡنُ لَـنَاۤ اَنۡ نَّـتَكَلَّمَ بِهٰذَ ا ‌سُبۡحٰنَكَ هٰذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ۞ (سورۃ النور آیت 16)

ترجمہ: اور جس وقت تم نے یہ بات سنی تھی، اسی وقت تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ: ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ہم یہ بات منہ سے نکالیں، یا اللہ! آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے، یہ تو بڑا زبردست بہتان ہے۔

(احکام القرآن للقرطبی: جلد 12 صفحہ 202۔ البحر المحیط لابی حیان: جلد 8 صفحہ 21) 

اسی طرح اہل ایمان کے درمیان فحش باتوں کی نشر و اشاعت سے بھی روک دیا گیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان میں ہے:

اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ فِى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ‌ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ۞ (سورۃ النور آیت 19)

ترجمہ: یاد رکھو کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بےحیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

صفحہ 2 از 3