وہ فوائد جن کا تعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہے - دفاعِ…

وہ فوائد جن کا تعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

1۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے درجات اس قدر بلند کر دیے حتیٰ کہ ان کا اجر کبھی منقطع نہیں ہو گا اور جو جو حسد کی آگ میں جلنے والے اور کینہ کی غلاظتوں میں لتھڑنے والے اپنے سیاہ کرتوتوں اور کالی زبانوں کے ساتھ امی جان رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخیاں کرتے رہیں گے، اللہ عزوجل ان کے اعمال تباہ و برباد کرتا رہے گا۔

اللہ تعالیٰ کی حکمت بھی کتنی عجیب ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ فہم عطا ہو چکا تھا۔ جب ان کو بتایا گیا کہ کچھ لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں حتیٰ کہ انھوں نے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو بھی نہ چھوڑا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فی البدیہ جواب دیا: اس چیز پر تم کیوں تعجب کرتے ہو جب ان کے اعمال منقطع ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کو یہ پسند نہ تھا کہ ان کے اجر بھی منقطع ہو جائیں۔

(تاریخ بغداد للخطیب البغدادی: جلد 11 صفحہ 275)

ابن مہدی سے مروی ہے کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ کی معصیت سے نفرت نہ ہوتی تو میں ضرور تمنا کرتا کہ مصر کے سبھی لوگ میری غیبتیں کریں۔ بھلا کون سی چیز اس نیکی سے زیادہ بابرکت ہو گی جس کا اجر آدمی کو اس کے نامہ عمل میں ملے گا اگرچہ آدمی نے اس پر عمل نہ کیا ہو گا۔

(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 9 صفحہ 195، 196)

2۔ آزمائش سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت میں مزید نکھار آ گیا۔ کیونکہ اللہ کے محبوب بندوں پر آنے والی ہر آزمائش ان کے لیے بھلائی کا باعث بنتی ہے۔

(احکام القرآن للقرطبی: جلد 12 صفحہ 198)

3۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی پاک دامنی کے ثبوت کے طور پر قرآن کریم نازل فرمایا جو قیامت تک پڑھا جاتا رہے گا تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی قدر و منزلت میں لا محدود اضافہ ہو گیا۔ اسی لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس چیز پر فخر کیا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان کے اوپر سے ان کی برأت نازل کی ہے اور اگر یہ آزمائش نہ ہوتی تو امت کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اہمیت کا کیسے پتا چلتا؟

4۔ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قدر و منزلت کا بھی پتا چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر بہتان کی وجہ سے مغموم ہو گئے، پھر لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا: ابن سلول کی طرف سے مجھے کون راحت پہنچائے گا؟

5۔ یہ کہ کھلم کھلا بہتان لگانا اور اس کی اشاعت ہونا اس کے چھپانے اور مخفی رکھنے سے بہت بہتر ثابت ہوا، کیونکہ اگر اعلانیہ بہتان نہ لگایا جاتا تو ممکن تھا کہ کچھ لوگوں کے سینوں میں یہ پوشیدہ رہتا جبکہ اس کے اعلانیہ ہونے کی بنا پر بہتان تراشوں کا جھوٹ آشکارا ہو گیا جو زمانے گزرنے کے باوجود امت کے اذہان میں نقش ہو چکا ہے۔

(تفسیر الرازی: جلد 23 صفحہ 338) 

6۔ جنھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگایا تھا انھیں نشانہ عبرت بنا دیا گیا۔

7 ۔یہ وضاحت ہو گئی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت اور پاک دامنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے مقام و مرتبے سے متعلق ہے۔

زمخشری رحمہ اللہ نے لکھا: ’’اگر آپ سارے قرآن کو پڑھیں اور تحقیق کریں کہ قرآن میں کہاں کہاں نافرمانوں کو وعید سنائی گئی ہے۔ آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے جن الفاظ اور جس اسلوب اور جس شدت کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والوں کے بارے میں شدید وعید سنائی ہے اور کسی مجرم کے بارے اتنے سخت الفاظ اور اسالیب استعمال نہیں ہوئے اور نہ ہی وعید شدید کے ساتھ انسان پر اس قدر کپکپی طاری کر دینے والی آیات شامل کیں۔ جتنی پراثر ملامت اور سخت ڈانٹ ڈبٹ اور اس کے نتائج کا بوجھل پن اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والے امور کی قباحت کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے واقعہ افک کے ضمن میں کیا ہے۔ ان میں سے ہر انداز اپنے اپنے باب میں کافی ہے اور اگر مذکورہ تین سزاؤں کے علاوہ کچھ بھی نہ نازل ہوتا تو پھر بھی کافی تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیان کر دیا کہ بہتان تراش دونوں جہانوں میں ملعونین ہیں اور آخرت میں ان کو عذاب عظیم کا چیلنج دیا اور یہ کہ ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کی افتراء پردازیوں اور بہتان تراشیوں کی گواہی دیں گے۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ نے انھیں ہر وہ سزا دینے کا اعلان کیا ہے جس کے وہ اہل و مستحق ہوں گے۔

تاکہ انھیں اس وقت یقین ہو جائے کہ وہی اللہ تعالیٰ حق مبین ہے۔ تو اس فتنے کے متعلق اللہ تعالیٰ نے مختصر الفاظ اور معانی سے بھرپور آیات نازل فرمائیں۔ اس نے اجمالی تذکرہ بھی کیا اور مفصل بھی، تاکید و تکرار دونوں انداز استعمال کیے اور ایسی ایسی وعیدیں دی گئیں جو اس نے کافروں منافقوں اور بت پرستوں کے لیے بھی استعمال نہیں کیں اور یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ کوئی تو خاص بات ہے نا؟ اور اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت میں اپنی معجزہ نما کتاب عزیز میں تاقیامت پڑھی جانے والی اتنی عظیم آیات نازل فرمائیں۔ یہ غور کا مقام ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت اور ان بہتان تراشوں کی افتراء کے درمیان کتنا فرق ہے اور یہ سب کچھ کس لیے ہے؟ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت شان بیان کرنے کے لیے ہے اور اولاد آدم کے سردار اور اولین و آخرین کے محبوب اور تمام جہانوں پر اللہ کی طرف سے حجت بنا کر بھیجے جانے والے رسول کی عزت و آبرو کے لیے ہی ہے اور جو کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت، شان، ان کی شان بے نیازی اور مقابلے میں آنے والے ہر شریک کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سبقت لے جانے کی تحقیق کرنا چاہے تو اسے واقعہ افک میں نازل ہونے والی آیات کا خوب گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہیے اور اس پر غور کرنا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت شان کے لیے اللہ تعالیٰ نے کس قدر اپنا غیظ و غضب ظاہر کیا اور کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے پردۂ عصمت سے تہمت کو دُور کیا۔

(الکشاف للزمخشری: جلد 3 صفحہ 223)

صفحہ 1 از 3