سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر اہل روافض کے گھناؤنے الزامات کا…

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر اہل روافض کے گھناؤنے الزامات کا جائزہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 5

ہم نے آج تک نہیں سنا کہ کسی صالح کے اہل خانہ سے کوئی کافر ہو جائے تو اس کی وجہ سے اسے عار دلایا جاتا ہو وگرنہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو ضرور عار دلایا جاتا کہ ان کا باپ آذر ایک بت پرست تھا۔ نوح علیہ السلام کے کافر بیٹے کی وجہ سے ضرور عار دلایا جاتا اور ابو طالب کی وفات بے دینی پر ہوئی تو اس وجہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عار دلایا جاتا۔

تو کیا کسی نیک آدمی کو اس لیے عار دلائی گئی کہ اس کے اقربا میں سے کوئی کافر تھا؟ اس کے برعکس کسی انسان کی عزت اور بزرگی میں کوئی عیب ہو تو ہر کوئی اسے برا جانے گا اور اسے عار دلائے گا اور اس کے بارے میں کہا جائے گا کہ فلاں اپنے گھر والوں کی خیانت پر پردہ ڈالتا ہے اور فحاشی میں وہ بھی ملوث ہے، کیونکہ یہ عار قابل مغفرت نہیں اور ایسا زخم ہے جو کبھی مندمل نہیں ہوتا۔ کیونکہ جب کسی پر بداخلاقی کا دھبہ لگ جائے گا تو اس کا وقار ختم ہو جائے گا اور اس کی انسانیت کی بنیاد ڈھے جائے گی۔ خبردار! انسانیت کی بنیاد شریفانہ اخلاق ہیں، اور جو شخص آدم علیہ السلام کی معصیت کی تفصیل سے واقف ہے وہ فطرت سلیمہ کے سلوک کو بخوبی سمجھتا ہے کہ یہ غیر اخلاقی سرگرمی سے کتنی نفرت کرتی ہے۔ بے شک آدم اور حوا علیہما السلام نے ممنوعہ درخت کا پھل کھا کر معصیت الہٰی کا ارتکاب تو کر لیا لیکن شدید گھٹن، حد سے زیادہ شرمسار اور شدید افسوس و صدمہ ان کو اس وقت لاحق ہوا جب ان کی شرم گاہیں کھل گئیں، وہ دونوں ان درختوں کے پتوں سے اپنے ستر ڈھانپنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ حالت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

فَدَلّٰٮهُمَا بِغُرُوۡرٍ‌ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتۡ لَهُمَا سَوۡءٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخۡصِفٰنِ عَلَيۡهِمَا مِنۡ وَّرَقِ الۡجَـنَّةِ‌  وَنَادٰٮهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمۡ اَنۡهَكُمَا عَنۡ تِلۡكُمَا الشَّجَرَةِ وَاَقُلْ لَّـكُمَاۤ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لَـكُمَا عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ ۞( سورۃ الأعراف آیت 22)

ترجمہ: اس طرح اس نے دونوں کو دھوکا دے کر نیچے اتار ہی لیا۔ چنانچہ جب دونوں نے اس درخت کا مزہ چکھا تو ان دونوں کی شرم کی جگہیں ایک دوسرے پر کھل گئیں، اور وہ جنت کے کچھ پتے جوڑ جوڑ کر اپنے بدن پر چپکانے لگے۔ اور ان کے پروردگار نے انہیں آواز دی کہ: کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے روکا نہیں تھا، اور تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے ؟

ان کا یہ حال کیوں ہوا؟ اس لیے کہ فطرت سلیمہ جس پر اللہ رب العالمین نے سب انسانوں کو پیدا کیا ہے، اس کا تقاضا یہی ہے لیکن جب اسی فطرت کو ہی الٹ دیا جائے اور انسان راہ ہدایت سے منحرف ہو جائے تو پھر وہی نتیجہ نکلتا ہے جو روافض کی تصانیف و تقاریر و معتقدات کی قبیح صورت میں ہم دیکھ رہے ہیں۔ یہ اللہ رب العالمین کی پیدا کردہ مشاہدہ شدہ نشانی ہے اور اللہ تعالیٰ کی معمول کی سنت ہے کہ جو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب بیوی کی ستر کشی کی کوشش کرتے ہیں وہ ان کی ستر کشی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان پر یہی عیوب مسلط کر دیتا ہے کہ جن کے ذریعے وہ اللہ کے دوستوں پر اور اس کی مخلوق میں سے اشرف و اعلیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دیتے ہیں۔ اس نے ان کو حرام نکاحوں میں پھنسا دیا اور فسق و فجور سے لبریز ان میں اخلاقی برائیوں پھیلا دی ہیں، یہ بالکل انھیں ویسی ہی جزا ملی ہے جیسے ان کے اپنے سیاہ کرتوت تھے جن کے ذریعے وہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا پر طعن و تشنیع کرتے ہیں۔

وہ ظالم رافضی لکھتا ہے:’’ لوگوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں بہت کچھ کہا اور وہ جو کچھ کہتے ہیں سو کہتے ہیں بہرحال کچھ نہ کچھ تو اس کی حقیقت ہو گی کیونکہ آگ کے بغیر دھواں نہیں ہوتا۔‘‘

(خیانۃ عائشۃ بین الاستحالۃ و الواقع لمحمد جمیل حمود العاملی: صفحہ 25)

جواب: اس ظالم کو کہا جائے گا یہ اس فاسد و خبیث فطرت کا لازمی نتیجہ ہے جو تمہارے ساتھ چپکی ہوئی ہے۔ اگر تمہارے کہنے کے مطابق ہر وہ باطل ثابت ہو جاتا جو لوگوں کی زبانوں سے نکلے تو اس کا لازمی نتیجہ یہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کافروں اور منافقوں نے جو کچھ کہا وہ سب نہیں تو کیا کچھ نہ کچھ صحیح ضرور ہے، کیونکہ وہ بے شمار ہیں۔ (نعوذ باللّٰہ من ذلک)

اسی طرح یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ناصبی لوگ جو کچھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہتے ہیں وہ بھی سب نہیں تو تیری منطق کے مطابق کچھ نہ کچھ صحیح ضرور ہے، کیونکہ ناصبیوں کی تعداد بھی کافی ہے۔ اگر ہمارے بیان کردہ الزامی جواب کا یہ کہہ کر توڑ کیا جائے کہ وہ گمراہ لوگ ہیں، ان کی گواہی مقبول نہیں اور نہ ہی وہ سچ ہے جو وہ افتراء پردازی کرتے ہیں تو ہم کہیں گے یہاں تمہارے اوپر وہی لازم آتا ہے جو وہاں تمہارے اوپر لازم آتا ہے۔ اگر اس کے جواب میں کہا جائے کہ اے اہل سنت تمہاری اپنی گواہی کے مطابق جن صحابہؓ نے یہ باتیں کی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حد کے اسی اسی کوڑے لگائے تھے۔

ہم اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ جو سب سے پہلے قول ایجاد کرتا ہے اور جو اس کی پیروی میں یہ بات دہراتا ہے اور اسے وہ یقینی طور پر صحیح نہیں سمجھتا، دونوں میں فرق ہے۔ نیز ہم کسی صحابی کے معصوم ہونے کا عقیدہ بھی نہیں رکھتے کہ اس سے غلطی ہو ہی نہیں سکتی یا کبھی معصیت کا ارتکاب کرے تو وہ اس سے توبہ کر لے اور وہ اس پر مصر نہ رہے، نیز تمہارا ان باتوں کو حجت ماننا ایسے ہی ہے کہ تم ایسے منافقوں کے طرز عمل کو دلیل بنا رہے ہو جو تمہارے نزدیک پکے منافق ہیں، جو سلولی شیعوں کا عقیدہ ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جن اصحاب کا تمہارے نزدیک عقیدہ صحیح نہیں ہے تم ان کے اقوال کو حجت بنا رہے ہو، کیونکہ وہ تمہارے عقیدے کے مطابق کافر اور مرتد ہیں تو پھر کب سے ان کے اقوال و اعمال تمہارے لیے دلیل بن گئے کہ تم برائی کے ارتکاب کے لیے ان کے اقوال کو بطور ثبوت پیش کر رہے ہو۔ ہم اللہ سے ہر گمراہی سے عافیت اور ہدایت کے لیے راہنمائی کا سوال کرتے ہیں اور فتنوں کی پستیوں اور ہلاکت کی چراگاہوں سے دُوری مانگتے ہیں۔ اے اللہ! تو ہماری دعا قبول کر لے۔

صفحہ 4 از 5