سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر اہل روافض کے گھناؤنے الزامات کا…

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر اہل روافض کے گھناؤنے الزامات کا جائزہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 5

انبیائے کرام کے حرم کی پاکیزگی کے بارے میں سب اہل سنت کا اعتقاد ہے، جسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حکایتاً ان سے بیان کیا۔ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اپنی سوچ اور امید نہیں تھی اور جہاں تک ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ ہے تو ان پر بدزبانوں نے ماریہ رضی اللہ عنہا کی نسبت سے جھوٹ موٹ کی تہمت لگائی ہے لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا دفاع کیا اور اسے ان کے بہتان سے پاک دامن ثابت کیا۔ جیسا کہ حاکم رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت کی ہے انھوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماریہ تحفہ میں ملی تو اس کے ساتھ ان کا چچا زاد (جریج) بھی تھا۔

بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار ہی اس کے ساتھ خلوت میں گئے تو وہ حاملہ ہو گئی۔ بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا : تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے چچا زاد کے ساتھ علیحدہ رہائش لے دی۔ بہتان تراش لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ اس (نبی) کو بیٹے کی خواش تھی تو اس نے کسی اور کے بچے کو اپنی طرف منسوب کر لیا اور اس (ابراہیم کی ماں ) کا دودھ کم تھا، ماریہ رضی اللہ عنہا نے اس کے لیے ایک دودھیل بھیڑ (ضائنۃ لبون: دودھ دینے والی بھیڑ۔ (لسان العرب لابن منظور: جلد 13 صفحہ 372۔) خریدی۔ ابراہیم رضی اللہ عنہ کو اس کا دودھ بطور غذا پلایا جاتا تھا جس سے اس کا جسم خوب موٹا ہو گیا۔ 

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک دن اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’تمھیں یہ بچہ کیسا لگتا ہے؟‘‘ میں نے کہا: جسے بھیڑ کا دودھ بطور غذا ملے گا وہ ایسے ہی تنومند ہو گا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے ساتھ اس کی کوئی مشابہت نہیں؟‘‘

بقول عائشہ رضی اللہ عنہا: اس سوال پر مجھے عورتوں کی فطرت کے مطابق غیرت نے گھیر لیا اور میں نے کہہ دیا: مجھے اس میں آپ کے ساتھ کوئی مشابہت دکھائی نہیں دیتی۔

بقول عائشہ رضی اللہ عنہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک لوگوں کی باتیں پہنچ رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: یہ تلوار لو اور جاؤ ماریہ کا چچا زاد تجھے جہاں ملے اس کی گردن کاٹ دو۔

بقول عائشہ رضی اللہ عنہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کی طرف گئے تو وہ ایک باغ میں کھجور کے درخت سے تازہ کھجوریں توڑ رہا تھا۔

بقول راوی: جب اس نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں تلوار ہے تو خوف سے اس پر کپکپی طاری ہو گئی۔ بقول علی رضی اللہ عنہ : اس کا تہہ بند نیچے گر پڑا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے کوئی ایسی چیز نہیں بنائی جو مردوں کے ساتھ خاص ہے۔ اس کا جسم بالکل ہموار تھا۔

(مستدرک حاکم: جلد 4 صفحہ 41۔ سیرت عائشہ: صفحہ 434 کا مطالعہ بھی مفید رہے گا۔) 

اللہ کے دشمن ابن سلول نے خباثت کا جو بیج بویا کوئی مومن یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ مستقبل میں روافض کی شکل میں ایک تناور درخت بن کر پھلے پھولے گا۔ حتیٰ کہ بہتان تراشوں کو اپنے بہتان گھڑنے کے لیے ایک وسیع و لا محدود میدان ہاتھ آ جائے گا۔ جس میں وہ اپنے جھوٹ، افتراء پردازیوں اور سلولی کذب بیانی کی فصل کاشت کرتے رہیں گے۔ بلکہ وہ اس قدر دیدہ دلیری کے ساتھ لوگوں کے جم غفیر کے سامنے ببانگ دہل ان نفوس قدسیہ کے خلاف زبان درازی ہی نہیں کرتے وہ مسلسل از اکابر تا اصاغر اپنی کتابوں میں بھی ان جھوٹے افسانوں کو چھاپ رہے ہیں۔ ایسے ظالم افتراء پردازوں میں سے ایک نے دشمنی اور ظلم کی انتہا ہی کر دی اور ام المؤمنینؓ کے نام پر شرم و حیا سے عاری ایسی عریاں بوقلمونیاں تراشی ہیں کہ جن کے تصور سے ہی کپکپی طاری ہو جاتی ہے اور بدن پسینہ سے شرابور ہو جاتا ہے۔ اس کی زبان غیر فصیح اور انداز بیان نہایت گھٹیا اور پست ہے، وہ ظالم لکھتا ہے: کسی کی طرف کفر منسوب کرنا اس کی طرف زنا منسوب کرنے سے زیادہ قبیح ہے تو پھر تم پہلی بات کو کس طرح قبول کرتے ہو اور دوسری بات کو کیوں ردّ کرتے ہو؟

(خیانۃ عائشۃ بین استحالۃ و الواقع لمحمد جمیل العاملی، صفحہ 13۔)

جواب: اسے کہا جائے گا: جب دل اندھیرے میں غرق ہوتا ہے تو عقل کی مخالفت کرنا آسان نہیں ہوتا۔ کیا یہ پستی ان ظالموں کے بہتان کی دلیل بن جائے گی جس سے نعوذ باللہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف فحاشی منسوب کرنا جائز ہو جائے گا؟ بلاشبہ عقلی طور پر یہ ثابت ہے کہ جن کاموں سے فطرت سلیمہ نفرت کرتی ہو، نفس انسانی بھی ان کاموں سے بھڑک اٹھتے ہیں اور وہ گھٹن محسوس کرتے ہیں، کیونکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر تمام ادیان کے عقل مند لوگ متفق ہیں اور یہ ہے وہ اخلاق کی اساس کہ جس سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹا جا سکتا۔

جبکہ کچھ پہلو ایسے ہیں مثلاً جب عقائد و افکار میں اختلاف ہو تو نفس انسانی اسے برداشت کر لیتے ہیں اور انھیں لامحدود تشویش نہیں ہوتی اور اس کا بنیادی سبب اذہان و افہام اور عقلوں کا اختلاف ہے۔ لیکن یہ عقول بنفس نفیس اپنے مسالک اور مذاہب کے اختلاف کے باوجود اخلاق کی بنیادوں پر متفق ہیں، وہ اس اخلاقی دائرے سے باہر نہیں نکلتیں چاہے ان کا کوئی سا بھی دین ہو۔

علی سبیل المثال: میرا پڑوسی عیسائی، بدھ مذہب کا پیروکار ہو سکتا ہے اور یہ ایک معمول کی بات ہے لیکن اگر میں سڑک پر کسی ننگے آدمی کو چلتے ہوئے دیکھوں تو ہر گز برداشت نہیں کر سکتا، حالانکہ پہلا شخص فاسد عقیدے کا مالک ہے جبکہ دوسرا شخص فاسد اخلاق کا مالک ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نفوس انسانی بنیادی طور پر حسن اخلاق پر پیدا ہوئے اگرچہ مذاہب و ادیان میں اختلاف بھی ہو اور بدخلق کی بہرصورت مذمت کی جاتی ہے۔ چاہے وہ ہم مذہب و ہم مسلک کیوں نہ ہو۔

صفحہ 3 از 5