سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر اہل روافض کے گھناؤنے الزامات کا…

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر اہل روافض کے گھناؤنے الزامات کا جائزہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 5

تو یہ ہے رافضیوں کا من گھڑت، گھناؤنا اور بے حد غلیظ بہتان جو ان کی کتابوں میں موجود ہے اور ان کے امام اعظم کی توثیق سے مزین ہے۔ وہ آیات جو منافقوں کو چیلنج دینے کے لیے اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگانے کی پاداش میں منافقوں پر پھٹکار کے لیے نازل ہوئی تھیں، شیعہ مفتری وہی آیات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے وعید و تہدید کے طور پر پیش کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اللہ رب العالمین نے ان آیات میں ماریہ کی اس تہمت سے پاک دامنی بیان کی ہے۔ رافضیوں کے بقول جو تہمت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ماریہ پر لگائی تھی۔ یہ روایت نقل در نقل سب رافضیوں کے نزدیک مسلم ہے ان کی کتابوں میں موجود ہے وہ اپنے دلوں اور اپنی زبانوں کے ساتھ اس اعتقاد کی تصدیق کرتے ہیں اور اس کا کھلم کھلا اعلان کرتے ہیں، ان ظالموں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر زہریلے تیر پھینکنے کی تمام تر حدود پار کر لی ہیں اور ہر قسم کی رذالت، قباحت و فحاشی بھرا الزام اس ذات شریف پر تھوپنے سے ذرہ بھر نہیں ہچکچاتے۔ بلکہ ان کی اس خنجر زنی کی حدود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت تک پھیل چکی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عائشہ رضی اللہ عنہا کی خیانت کا علم تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہتے تاآنکہ ان کے مزعوم امام غائب و منتظر مہدی صاحب الزمان عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کی قبر سے نکال کر ان پر زنا کی حد نافذ کر کے یہ معاملہ ختم کریں گے!! (نعوذ باللّٰہ من ذالک )

رافضیوں کا شیخ المفسرین قمی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں لکھتا ہے:

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّـلَّذِيۡنَ كَفَرُوا امۡرَاَتَ نُوۡحٍ وَّ امۡرَاَتَ لُوۡطٍ‌ كَانَـتَا تَحۡتَ عَبۡدَيۡنِ مِنۡ عِبَادِنَا صَالِحَـيۡنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمۡ يُغۡنِيَا عَنۡهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَيۡـئًا وَّقِيۡلَ ادۡخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيۡنَ‏ ۞(سورۃ التحريم آیت 10)

ترجمہ: جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے، اللہ ان کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کو مثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ دونوں ہمارے دو ایسے بندوں کے نکاح میں تھیں جو بہت نیک تھے۔ پھر انہوں نے ان کے ساتھ بےوفائی کی، تو وہ دونوں اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ بھی کام نہیں آئے اور (ان بیویوں سے) کہا گیا کہ: دوسرے جانے والوں کے ساتھ تم بھی جہنم میں چلی جاؤ۔

اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اپنے اس کلام فَخَانَتَاهُمَا  سے ان دونوں کا زنا مراد لیا ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو گل بصرہ کے سفر کے دوران کھلائے وہ (مہدی منتظر) اس پر ضرور حد قائم کرے گا۔طلحہ اس کے ساتھ محبت کرتا تھا اور جب وہ بصرہ کے لیے عازمِ سفر ہوئی تو کسی نے اسے کہا: تیرے لیے محرم کے بغیر سفر کرنا حلال نہیں اس لیے عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود ہی اپنی شادی طلحہ سے کر لی۔

(تفسیر القمی: جلد 2 صفحہ 377۔ البرہان للبحرانی: جلد 4 صفحہ 358۔ تفسیر عبداللہ شبر: صفحہ 338)

اہل تشیع محمد الباقر کی طرف نسبت کر کے روایت کرتے ہیں: جب ہمارے امام قائم الزمان آئیں گے تو حمیراء (یعنی ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ) لوٹائی جائے گی اور وہ اسے حد قذف کے کوڑے لگائے گا تاکہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رحمہ اللہ کا اس سے انتقام لے۔ پوچھا گیا: وہ اسے کوڑے کیوں مارے گا؟ باقر علیہ السلام نے کہا: کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ام ابراہیم پر تہمت لگائی تھی۔ پوچھا گیا: اللہ تعالیٰ نے اس حد کو قائم علیہ السلام تک کس طرح مؤخر کر دیا؟ اس نے جواب دیا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے رحمت بنا کر بھیجا جبکہ قائم علیہ السلام کو انتقام کے لیے بھیجے گا۔

(التفسیر الصافی للفیض الکاشانی: جلد 3 صفحہ 359۔ کاشانی نے بہت بڑا احسان کیا کہ حد زنا کو حد قذف سے بدل دیا۔ العیاذ باللّٰہ )

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق یہ ہفوات بکنے والے اجماع مسلمین سے نکل چکے ہیں۔ وہ صریح قرآن کو جھٹلاتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو داغ دار بنانا چاہتے ہیں، حتیٰ کہ انھوں نے اسلام اور اہل اسلام کے چہرے مسخ کرنے کی کوشش کی اور کافروں کے لیے فتنہ کا باعث بن گئے۔ اسلام پر کسی نے اتنی جرأت کے ساتھ خنجر زنی نہیں کی جتنی جرأت کے ساتھ یہ افتراء پرداز اللہ رب العالمین پر کرتے ہیں۔

رافضیوں کی بیان کردہ یہ روایت باطل اور نری باطل ہے۔ اس کی سند کے ساتوں راوی مجہول ہیں، کسی ایک کے بارے میں جرح یا تعدیل کا ایک لفظ بھی نہیں ملتا اور کچھ ایسے راوی بھی ہیں جن تک ہم کسی صورت پہنچ نہیں سکتے تو اندھیروں پر اندھیرے ہونا ہمارے خلاف دلیل نہیں بنتی۔ اللہ تعالیٰ نے اہل سنت کو اس شر سے بچا لیا اور انھیں حق کی طرف ہدایت دے دی۔ وہ سب لوگوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب ہیں۔ اس لیے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہراتؓ کو اپنی مائیں سمجھتے ہیں۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں لکھا اور اس بات پر مسلمان مفسرین کا اجماع ہے کہ ’آیت میں  فَخَانَتَاهُمَا  سے مراد دین میں خیانت ہے، وہ کہتے ہیں البتہ یہ زنا تو بالکل نہ تھا، لیکن ان دونوں میں سے ایک لوگوں کو اپنے خاوند کے بارے میں بتلاتی تھی کہ یہ پاگل ہے۔ اس کی باتوں کا یقین مت کریں اور دوسری لوگوں کو اپنے خاوند کے پاس آنے والے مہمانوں کی خبر دے دیا کرتی تھی۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت پڑھی: 

 ‌اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ ‌‌(سورۃ ہود آیت 46)

ترجمہ:’’بے شک یہ ایسا کام ہے جو اچھا نہیں۔‘‘

(تفسیر طبری: جلد 12 صفحہ 430۔ احکام القرآن للقرطبی: جلد 18 صفحہ 202۔ انوار التنزیل و اسرار التاویل للبیضاوی: جلد 5 صفحہ 226۔ تفسیر ابن کثیر: جلد 4 صفحہ 327)

نیز ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ’’کسی نبی کی بیوی نے کبھی زنا نہیں کیا۔‘‘

(احکام القرآن للقرطبی: جلد 9 صفحہ 46۔ تفسیر ابن کثیر: جلد 8 صفحہ 170۔)

صفحہ 2 از 5