فضیل کی  روایات پر محققین کی طرف سے صحت کا حکم لگانا - سنی…

فضیل کی  روایات پر محققین کی طرف سے صحت کا حکم لگانا

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2

سنی مناظر: آپ نے جو حوالہ پیش کیا ہے اس میں مذکور ہے کہ مطلق جرح قبول ہے اس کا کیا کریں؟

 شیعہ مناظر: احناف کے ہاں جرح مبھم مطلقا  قبول نہیں ہوتی۔

سنی مناظر: خود مطلق پر دلیل دے چکے ہو اب عدم قبولیت پر دلیل دے رہے ہو عقل سے بلکل پیدل ہو کیا؟

شیعہ مناظر: امام بخاری نے کب کہا فضیل منکر الحدیث ہے؟

سنی مناظر:  اگر امام بخاری کا خود کہنا ضروری ہے تو  احمد بن شہیب کو بھی امام بخاری رح سے منکر الحدیث ثابت کرو؟

شیعہ مناظر: آپ کو چیلینج ہے۔ فضیل بن مرزوق کو  بخاری سے منکر الحدیث ثابت کر کے دکھاؤ؟

سنی مناظر: میں نے فضیل کے بارے میں ایسا کچھ نہیں کہا۔ منکر الحدیث ضعیف ہے یا  نہیں اس پر بات ہورہی نہ کہ امام بخاری نے اس کو منکر الحدیث کہا ہے یا  نہیں۔

شیعہ مناظر:فضیل پر کوئی جرح مفسر ثابت ہی نہیں لہاذا  امام مسلم نے اس سے روایت نقل کی ہے۔

سنی مناظر: میں حوالہ دے کر ثابت کرچکا ہوں کہ سب  محدثین کے جرح و تعدیل   کے اصول اور  شرائط  و  ضوابط الگ ہیں، ضروری نہیں کہہ جس کو امام مسلم نے ضعیف کہا ہو ، اس راوی کو امام بخاری بھی ضعیف کہے۔

 

سنی مناظر کی طرف سے گفتگو  کا خلاصہ

1۔   شیعہ مناظر اپنی دعویٰ ثابت نہیں کرسکا۔ جناب کا دعویٰ تھا کہ وہ ملکیت رسول ص ثابت کرے گا مگر آخر تک ملکیت ثابت نہیں کرسکا۔ الحمدلللہ۔ اہلسنت روایات  میں جہاں  مذکور ہے کہ باغ فدک   خاصرسول اللہ ص کے لیے ہے، اس سے مراد خاص نبی کی ذمہ  داری ہے کے اس مال کو سنبھالے تاکہ عین قرآن کے مطابق اس کی آمدنی خرچ کی جاسکے۔  خاص کا مطلب بطور سنبھالنا  ہے نہ کہ ملکیت۔ میرے دلائل   کا رد آخر تک موصوف نہیں کرسکا۔

2۔ فدک کے ہبہ والی روایت میں ایک راوی فضیل بن مرزوق تھا  جو  شیعہ ہے ۔ ہبہ والی وات  اپنے مذہب کی تائید میں بیان کررہا ہے جو کہ سنی و شیعہ  مسلمہ اصول کے مطابق قابل قبول نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اگرچہ فضیل بن مرزوق ثقہ اور صحیح مسلم کا راوی ہے ، میں اسی راوی پر جرح مفسر بھی پیش کرچکا ہوں ،جبکہ شیعہ مناظر نے اس راوی  کی تعدیل پیش کی ۔ جرح و تعدیل کے اصولوں کے مطابق جرح کے سامنے تعدیل کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ خود شیعہ مناظر کے اسکینز  سےبھی دکھادیا ،  ان کے  پیش کیے ہوئے اسکین میں  بھی مذکور ہے کہ جرح مطلق قابل قبول ہے۔

3۔ گواہ  والی  روایت کا  رد صرف اہلسنت کتب سے نہیں بلکہ شیعہ کتب سے بھی میں نے پیش کیا جس پر شیعہ مناظر صرف  بدگوئی کرتا رہا لیکن  کوئی  علمی جواب نہیں دیا۔

4۔ دوران مناظرہ شیعہ مناظر نے اپنے خود مقرر کی گئی شرائط   کو   بھی بار بار توڑ ا۔

 5۔میں نے ثابت کیا کہ نہ صرف اہلسنت بلکہ فضیل بن مرزوق   کا شیعہ ہونا  خود شیعہ کتب میں  بھی مذکور ہے۔

6۔اہلسنت و اہل تشیع کے ہاں متفقہ طور پر تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ بدعتی کی وہ روایت جو اس کے مذہب کی تائید میں ہو وہ قابل قبول نہیں کی جاتی۔

ان تمام دلائل و نکات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شیعہ مناظر اپنے دعوے پر کوئی مضبوط دلیل نہیں رکھتا۔ باغ فدک کے معاملے میں اہل تشیع  کا مؤقف باطل اور اہلسنت مؤقف ہی حق ہے۔

والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ

 

فضیل بن مرزوق کے متعلق مزید تفصیل اور  سنی و شیعہ کتب سے اضافی اسکین

 

 1۔ راوی فضیل بن مرزوق شیعہ تھا  لیکن ثقہ ، ثبت اور صالح تھا ۔ اس  کی توثیق کئی محدثین نے کی ہے ۔  متشدد امام ابن حبان نے اسکو ثقات میں ذکر کیا اور یہ بھی کہا ہے کہ غلطی بھی کر جاتا تھا ،خاص طور پر عطیہ سے موضوع روایت مروی ہیں۔ مسند ابی یعلیٰ میں ہبہ والی روایت بھی فضیل بن مرزوق نے عطیہ سے لی ہے۔

 

 

 

    

 


صفحہ 2 از 2