شیعہ میں معتزلی اثرات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ میں معتزلی اثرات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 5

ظاہری طہارت سے اصل مقصود دل کی طہارت ہوتی ہے؛ مگر ان لوگوں کا ظاہر تو اجلا ہوتا ہے؛ مگر ان کے دل بڑے پلید اور ناپاک ہوتے ہیں ۔

ایسے ہی اہلِ سنت و الجماعت تمام امور میں متوسط ہیں ۔ وہ حضرت علیؓ کے بارے میں بھی خوارج اور روافض کے درمیان متوسط لوگ ہیں ۔اور ایسے ہی حضرت عثمانؓ کے متعلق بھی مروانیہ اور زیدیہ کے مابین متوسط ہیں ۔ ان کا یہی منہج سارے صحابہ کرامؓ کے بارے میں ہے؛ وہ ان کی شان میں غلو کرنے والوں اور ان پر طعنہ زنی کرنے والوں کے درمیان میں متوسط لوگ ہیں ۔ وعید کے متعلق خوارج و معتزلہ اور مرجئہ کے درمیان ہیں ۔اور قدر کے مسئلہ میں قدریہ معتزلہ اور قدریہ مجبرہ جہمیہ کے مابین متوسط ہیں ۔ ایسے ہی صفات الہٰی کے باب میں معطلہ اور ممثلہ کے مابین متوسط ہیں ۔

یہاں پر مقصود یہ ہے کہ آثار رسول اللہﷺ کے متبعین ؛ اہل سنت و اہل حدیث کے سوا جتنے بھی فرقے ہیں ؛ وہ باقی تمام امت سے صرف ان اقوال میں منفرد ہیں جوکہ فاسد اقوال ہیں ۔ ان میں کوئی بھی انفرادی قول ہر گز ایسا نہیں ہے جو صحیح ہو۔ اور ہر وہ فرقہ جو سنت سے جتنا دور ہوگا؛ وہ انفرادی اور باطل اقوال و افعال میں اسی قدر آگے بڑھا ہوا ہوگا۔

اسلام کی طرف منسوب فرقوں میں سے کوئی بھی فرقہ ایسا نہیں ہے جو رافضیوں سے بڑھ کر حدیث رسول اللہﷺ سے دور ہو۔


صفحہ 5 از 5