شیعہ میں معتزلی اثرات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ میں معتزلی اثرات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

یہی وجہ ہے کہ اہل کلام مبتدعین میں یہود کی مشابہت پائی جاتی ہے۔ اور اہل تعبد؍عباد مبتدعین میں نصاری کی مشابہت پائی جاتی ہے۔ ان یہود کا آخری انجام شکوک و شبہات ہیں جب کہ نصاریٰ کا انجام حق سے دوری اور جھوٹے دعوے ہیں ۔ یہودیوں نے حق بات کو جھٹلایا تو شکوک و شبہات کا شکار ہوگئے۔ اوران لوگوں نے باطل کی تصدیق کی تو حق سے دور ہوگئے۔[ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ]

﴿اَوْ کَظُلُمَاتٍ فِیْ بَحْرٍ لُجِّیٍّ یَغْشَاہُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِہِ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِہِ سَحَابٌ ظُلُمَاتٌ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ﴾ [النور:40]

’’ یا ان اندھیروں کی طرح جو گہرے سمندر میں ہوں ، جسے موج ڈھانپ رہی ہو، جس کے اوپر ایک اور موج ہو، جس کے اوپر ایک بادل ہو، کئی اندھیرے ہوں ، جن میں سے بعض بعض کے اوپر ہوں ۔‘‘

[اور اللہ تعالیٰ ان کی مثال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :]

﴿[وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَعْمَالُہُمْ] کَسَرَابٍ بِّقِیعَۃٍ یَحْسَبُہُ الظَّمْآنُ مَائً یَحْسَبُہُ الظَّمْآنُ مَائً حَتّٰی اِِذَا جَائَہُ لَمْ یَجِدْہُ شَیْئًا ﴾[النور:39]

’’ [اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا، ان کے اعمال] کسی چٹیل میدان میں ایک سراب کی طرح ہیں ، جسے پیاسا پانی خیال کرتا ہے، یہاں تک کہ جب اس کے پاس آتا ہے تو اسے کچھ بھی نہیں پاتا ۔

‘‘اہل سنت والجماعت کا توسط

اہل علم و کلام بدعتی اپنی بدعات کے مطابق علم طلب کرتے ہیں ۔ وہ مشروع علم کی اتباع نہیں کرتے تاکہ اس پر عمل کریں ۔ پس اس کے نتیجہ میں وہ شکوک و شبہات کا شکار ہو جاتے ہیں جو کہ علم کے منافی ہیں ۔ حالانکہ انہیں پہلے مشروع کا علم تھا۔ لیکن جب وہ ٹیڑھے چلے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا؛ اور یہ لوگ مغضوب علیہم [غضب زدہ قوم] بن گئے ۔

عبادت گزار اہل بدعت اللہ تعالیٰ کی قربت ان چیزوں سے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو بدعات عبادت میں انہوں نے خود ایجاد کرلی ہیں ۔ اس کے نتیجہ میں وہ اللہ تعالیٰ سے دور تر ہی ہوتے گئے۔ بیشک جب بھی کوئی بدعتی جتنی زیادہ عبادت و ریاضت کرتا جاتا ہے؛ وہ اللہ تعالیٰ سے اتنا ہی دور ہوتا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری لعنت ہی ہوتی ہے؛ اور یہ نصاری کا آخری انجام کار ہے۔

جہاں تک شرائع کی بات ہے ؛ تو یہود خالق پر پابندی لگاتے ہیں کہ وہ نئے رسول کونئی شریعت کے ساتھ مبعوث کردے۔ وہ کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے لیے جائز نہیں کہ ایک مقرر شدہ شریعت کو منسوخ کردے۔جبکہ نصاری اپنے علماء او ردرویشوں کے لیے بھی جائز ٹھہراتے ہیں کہ وہ اس شریعت کو منسوخ کردیں جسے دیکر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول مبعوث فرمائے تھے۔یہودی خالق کو عاجز بناتے ہیں ۔ اور اسے اس چیز سے منع کرتے ہیں جو شرائع اور نبوات میں اس کی حکمت اور قدرت کا تقاضا ہے۔جب کہ نصاری مخلوق کے لیے بھی اللہ تعالیٰ خالق و مالک کی شریعت میں تبدیلی کو جائز کہتے ہیں پس اس طرح وہ مخلوق کو خالق کے برابر قرار دیتے ہیں ۔

یہی حال عبادات کا بھی ہے۔ نصاری اللہ تعالیٰ کی عبادت ان ایجاد کردہ بدعات کے مطابق کرتے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ جب کہ یہود عبادت سے منہ موڑے ہوئے ہیں ۔ حتی کہ ہفتہ کے دن ؛جس میں اللہ تعالیٰ نے انہیں عبادت کے لیے فراغت اختیار کرنے کا حکم دیا تھا؛ وہ اس دن میں اپنی شہوات میں مشغول رہتے ہیں ۔پس نصاری اسکے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں ؛ اور یہود اس کی عبادت سے تکبر کرتے ہیں ۔

مسلمان صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت اس کی شریعت کے مطابق کرتے ہیں ۔ بدعات سے اس کی عبادت نہیں کرتے۔ یہ وہ دین اسلام ہے جسے دیکر اللہ تعالیٰ نے تمام انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا تھا۔ وہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کر لے؛ کسی اور کے سامنے نہیں ۔ یہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین حنیف ہے۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساتھ کسی اور کے سامنے بھی سر تسلیم خم کرتا ہے تو وہ مشرک ہے۔ اور جو اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی اپنی گردن نہیں جھکاتا وہ مستکبر [تکبر کرنے والا ]ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ﴾ [النساء:48]

’’بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور وہ بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے،جسے چاہے گا ۔‘‘

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ اِِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِی سَیَدْخُلُوْنَ جَہَنَّمَ دَاخِرِیْنَ﴾ [غافر'60]

’’بیشک وہ لوگ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے ۔‘‘

یہی صورت حال طعام اور لباس میں حلال و حرام کی ہے؛ اور جو کچھ نجاسات اس میں آتی ہیں ۔نصاری ان چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہﷺ نے حرام ٹھہرائی ہیں ۔ اور گندی حرام چیزوں کو حلال کہتے ہیں ؛ جیسے مردار؛ بہتا ہوا خون؛ اور خنزیر کا گوشت۔ حتیٰ کہ وہ گندی چیزوں سے ؛ جیسے بول و براز سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں ۔ اور جنابت کا غسل نہیں کرتے۔ اور نماز کے لیے طہارت حاصل نہیں کرتے۔ اور کوئی راہب ان کے نزدیک طہارت سے جتنا دور اور نجاست میں جتنا زیادہ لت پت ہوگا؛ وہ ان کے ہاں اتنا ہی معظم اور قابل عزت و احترام ہوگا۔

یہودیوں پر پاکیزہ چیزیں حرام کردی گئیں جو ان کے لیے اصل میں حلال تھیں ؛پس وہ ان پاکیزہ چیزوں کو بھی حرام کہتے ہیں جن میں لوگوں کے لیے فائدہ ہے۔وہ نجاسات کے ساتھ ساتھ پاکیزہ چیزوں سے بھی گریز کرتے ہیں ۔ پس وہ حیض والی عوت کے ساتھ نہ ہی اٹھتے بیٹھتے ہیں اور نہ ہی اس کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں ۔ پس وہ قید اور زنجیروں میں جکڑے ہیں جن کی وجہ سے وہ مبتلائے عذاب ہیں ۔

جب کہ وہ دوسرے [یعنی عیسائی ] ضرر رساں اور گندی چیزیں بھی تناول کر لیتے ہیں ؛حالانکہ ان کے پادری اور درویش ان پر پاکیزہ چیزوں کو بھی حرام قرار دیتے ہیں ۔ ایسے ہی وہ نجاسات میں لت پت رہتے ہیں ۔ اور پاکیزہ و نفع بخش چیزوں کو حرام کہتے ہیں ؛حالانکہ یہ خود لوگوں میں سب سے گندے دل والے اور باطن کے سب سے برے؍خراب ہوتے ہیں ۔

صفحہ 4 از 5