شیعہ میں معتزلی اثرات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ میں معتزلی اثرات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

﴿وَ لاَ تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَکْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ﴾[البقرۃ:42]

’’ اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور نہ حق کو چھپاؤ، جب کہ تم جانتے ہو۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَ تَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ﴾[البقرۃ :85]

’’ ، پھر کیا تم کتاب کے بعض پر ایمان لاتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو؟ ۔‘‘

اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

﴿وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَکْفُرُ بِبَعْضٍ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا ﴾[النساء:150]

’’ اور کہتے ہیں ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ اس کے درمیان کوئی راستہ اختیار کریں ۔‘‘

اور مزید ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ اِذَا قِیْلَ لَہُمْ اٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَکْفُرُُوْنَ بِمَا وَرَآئَ ہٗ وَ ہُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَہُمْ ﴾[البقرۃ:91]

’’ اور جب ان سے کہا جاتا ہے اس پر ایمان لاؤ جو اللہ نے نازل فرمایا ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل کیا گیا اور جو اس کے علاوہ ہے اسے وہ نہیں مانتے، حالانکہ وہی حق ہے، اس کی تصدیق کرنے والا ہے جو ان کے پاس ہے۔‘‘

اس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں نے اپنی طرف سے بدعات ایجاد کر کے انہیں رسولوں کی لائی ہوئی تعلیمات کے ساتھ ملا دیا۔اور دین میں دھڑا بندی کر کے گروہ گروہ بن گئے۔ تو ان میں سے ہر ایک گروہ کے پاس کچھ نہ کچھ حق اور اس کے ساتھ باطل بھی تھا۔ جس حق سے وہ اپنے مخالف دوسرے فرقوں کی تکذیب کرتے ؛ اور اپنے پاس موجود باطل کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرتے۔

تمام اہلِ بدعت فرقوں کا یہی حال ہے۔ان کے پاس حق بھی ہے اور باطل بھی۔ اور انہوں نے دین میں دھڑا بندی کر کے گروہ گروہ بنالیے ہیں ۔ تو ان میں سے ہر ایک گروہ اپنے پاس موجود حق کے ساتھ اپنے مخالف دوسرے فرقوں کی تکذیب کرتا ہے ؛ اور اپنے پاس موجود باطل کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرتاہے۔جیسے خوارج اور شیعہ ۔خوارج حضرت علیؓ کے ثابت شدہ فضائل کا انکار کرتے ہیں ۔اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل میں جو کچھ روایت کیا جائے؛ اس کی تصدیق کرتے ہیں ۔ اور اپنی ایجاد کردہ بدعت تکفیر علیؓ ؛ او رآپ کے چاہنے والوں اور محبین کی تکفیر کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اور شیعہ ؍روافض حضرت علیؓ کے فضائل میں وارد ہر قسم کی روایت کی تصدیق کرتے ہیں ؛ اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل کا انکار کرتے ہیں ۔ اور جو کچھ انہوں نے حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کی تکفیر اور ان پر طعن کی بدعت ایجاد کرلی ہے؛ اسے صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

دین اسلام کا توسط 

دین اسلام ان دونوں متجاذب اطراف کے مابین وسط اور میانہ منہج رکھتا ہے۔ پس مسلمان توحید کے مسئلہ میں یہود و نصاریٰ کے مابین وسط ہیں ۔ یہودی رب سبحانہ و تعالیٰ کو نقص کی ان صفات سے موصوف کرتے ہیں جو مخلوق کے ساتھ خاص ہیں ؛ اور اللہ تعالیٰ کو مخلوق سے تشبیہ دیتے ہیں ۔جیسا کہ وہ رب سبحانہ و تعالیٰ کے بارے میں کہتے ہیں : وہ بخیل ہے؛ فقیر ہے؛اور جب اس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تو تھک گیا تھا۔ جب کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ وہ جواد اور سخی ہیں ؛جو کبھی بخل نہیں کرتے اور وہ بے نیاز اور غنی ہیں جو کبھی کسی کے محتاج نہیں ہوتے۔ اور وہ قادر مطلق ہیں جنہیں کبھی تھکاوٹ نہیں ہوتی۔ قدرت اور ارادہ اور دوسروں سے بے نیازی وہ صفات ہیں جو دیگر تمام صفات کمال کو مستلزم ہیں ۔

نصاریٰ مخلوق کی بھی وہ صفات بیان کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں ۔وہ مخلوق کو خالق سے تشبیہ دیتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں : بیشک اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم ہی ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ تین اقانیم میں سے تیسرے ہیں اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بتاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَ رُھْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ مَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوْٓا اِلٰہًا وَّاحِدًا لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ سُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ﴾ [التوبۃ:131]

’’انھوں نے اپنے عالموں اور اپنے درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی، حالانکہ انھیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا تھا کہ ایک معبود کی عبادت کریں ، کوئی معبود نہیں مگر وہی ، وہ اس سے پاک ہے جو وہ شریک بناتے ہیں ۔‘‘

جب کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کرتے ہیں ؛ اور اسے صفات کمال سے موصوف کرتے ہیں ۔ اور اسے تمام صفات نقص سے منزہ و پاک قرار دیتے ہیں ۔اور اللہ تعالیٰ کو اس چیز سے بھی منزہ و پاک قرار دیتے ہیں کہ اس کی صفات میں سے کسی ایک صفت میں مخلوقات میں سے کوئی مخلوق کچھ بھی مماثلت یا مشابہت رکھتی ہو۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کو صفات کمال سے موصوف بتاتے ہیں ؛ صفات نقص سے نہیں ۔ اس کے مماثل کوئی بھی نہیں ؛ نہ ہی ذات میں نہ ہی صفات میں اور نہ ہی افعال میں ۔

ایسے ہی نبوات میں بھی ہے۔ یہودیوں نے بعض انبیائے کرام علیہم السلام کو قتل تک کر دیا۔ اور ان کی اتباع سے تکبر کرنے لگے۔ اور انہیں جھٹلاتے او ران پر کبیرہ گناہوں کی تہمتیں لگاتے۔ جب کہ نصاری غیر انبیاء کو بھی انبیاء و مرسلین کا مقام دیتے۔ جیسا کہ حواریوں کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ بھی رسول تھے۔اور اپنے علماء اور درویشوں کی اطاعت ایسے کرتے ہیں جیسے انبیائے کرام علیہم السلام کی اطاعت کی جاتی ہے۔ پس نصاری باطل کی تصدیق کرتے ہیں ؛ اور یہود حق کو بھی جھٹلاتے ہیں۔

صفحہ 3 از 5