شیعہ میں معتزلی اثرات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ میں معتزلی اثرات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

روافض کے ہاں حجیت اجماع کے مقدمات 

اس سلسلہ میں دو مقدمات ہیں 

پہلا مقدمہ [یعنی رافضی اجماع اہلِ بیت کا اجماع ہے] یقیناً باطل اور جھوٹ ہے۔

 دوسرے مقدمہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔پس وہ اقوال جن میں سچ بھی ہے اور جھوٹ بھی ‘ رافضیوں کے ہاں وہ قرآن و سنت اور اجماع امت کی منزلت پر ہیں ۔

٭ جو بھی عقل مند انسان دین اسلام کو جانتا ہے ‘ اس پر اس تصور کی حقیقت کھل جاتی ہے۔یہ لوگ نمکین کھانے میں کڑوی اور درشت چیزوں کو ملاوٹ کرنا چاہتے ہیں ۔خصوصاً وہ لوگ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں جو اہلِ علم و تجربہ ہیں ۔خاص طور پر وہ محدثین اس حقیقت سے آگاہ ہیں جن کے حقیقی امام ؛امام معصوم جناب محمد رسول اللہﷺ کی احادیث موجود ہیں ۔ وہ رسول جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی وحی کے بغیر اپنی مرضی سے بات تک نہیں کرتے۔

یہ سبھی جانتے ہیں کہ رافضی اپنے آئمہ کو ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی جانب مبعوث کیا گیا رسول قرار دیتے ہیں ؛ اور انہی سے اپنا دین اخذ کرتے ہیں ۔ جسے ان کا امام حلال کہہ دے اسے حلال ‘ اور جسے حرام کہہ دے اسے حرام سمجھتے ہیں ۔دین وہی ہے جو امام نے مشروع کیا ہو۔ اور ہر وہ قول جو امام کے قول کے مخالف ہو وہ ان کے ہاں مردود ہے۔بھلے اس قول کا قائل مسلمانوں کے بہترین علماء میں سے ہو؛ اور ان سب سے زیادہ جاننے والا ہو۔وہ اپنے اجتہاد پر ماجور بھی ہو۔

حق اہلِ سنت سے باہر نہیں 

لیکن [اس کے برعکس اہلِ سنت و الجماعت ] قول اللہ اور قول رسول سے کبھی بھی اعراض نہیں کرتے ؛ اور نہ ہی [قول رسول کو چھوڑ کر] کسی غیر کے قول یا کسی کی رائے کی ان کے ہاں کوئی اہمیت ہے۔رسول اللہﷺ کے سوا جتنے بھی اہلِ علم ہیں وہ رسول اللہﷺ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ پیغام ہم تک پہنچانے میں واسطہ و وسیلہ ہیں ۔یا تو وہ براہِ راست وہی الفاظ نقل کرتے ہیں جو رسول اللہﷺ کی زبان مبارک سے نکلے ہوں ‘ یا پھر بالمعنی روایت کرتے ہیں ۔[مگر ہر صورت میں وہ تبلیغ رسالت کا ہی کام کرتے ہیں ]۔ ایک جماعت نے قرآن و حدیث کو جیسے سنا ویسے ہی آنے والوں تک پہنچا دیا ‘ اور ایک جماعت نے احادیث رسول اللہﷺ میں غور و فکر کیا ؛ اس کا تفقہ وتدبر حاصل کیا ‘ معانی کی معرفت حاصل کی۔اور جس چیز میں ان کا اختلاف ہوا اسے فیصلہ کے لیے رسول اللہﷺ کی احادیث پر پیش کر دیا۔

یہی وجہ ہے کہ اہلِ سنت والجماعت کبھی بھی حدیث رسول اللہﷺ کے خلاف کسی قول پر جمع نہیں ہوئے ۔ اور حق کبھی بھی ان سے خارج نہیں ہوا۔ہر وہ چیز جس پر ان کا اجماع ہوا ہو ‘ وہ وہی ہوسکتی ہے جو رسول اللہﷺ سے منقول ہو۔

ہر وہ فرقہ جس نے اہلِ سنت والجماعت کی مخالفت کی ہو‘ خواہ وہ خارجی ہوں یا رافضی؛ معتزلی ہو یا جہمی یا کوئی دوسرا اہلِ بدعت ؛ حقیقت میں وہ رسول اللہﷺ کی مخالفت کر رہا ہوتا ہے۔بلکہ جو کوئی ثابت شدہ عملی امور

 شریعت میں ان کی مخالفت کرتا ہے؛ تو حقیقت میں وہ رسول اللہﷺ کی ثابت شدہ سنت کا منکر ہے۔ اور ان میں سے ہر ایک فرقہ جو ایک مسئلہ میں دوسرے فرقہ مخالف ہو؛ وہ کسی مسئلہ میں ان کا موافق بھی ہوتا ہے۔ پس ھواء پرست فرقے؛ اہل سنت و الجماعت کے ساتھ اسی منزلت پرہیں جیسے مسلمان دوسری تمام ملتوں کے ساتھ ۔ اس لیے کہ اہل سنت اسلام میں ایسے ہی ہیں جیسے باقی تمام ملتوں میں اسلام ۔ یہ موضوع اپنی جگہ پر تفصیل سے بیان کیا جاچکا ہے۔

اجماع صحابہ کرام کی موجودگی میں کسی بھی دیگر اجماع سے بے نیازی

[سوال ]اور اگر یہ کہا جائے کہ : حق اہلحدیث[محدثین کرامؒ ] سے باہر نہیں ہوسکتا؛ تو پھر اصول فقہ میں یہ کیوں نہیں ذکر کیا گیا کہ ان کا اجماع حجت ہے۔جب کہ اس سلسلہ میں اختلاف کا ذکر کیا گیا ہے۔جیسے اہلِ بیت اور اہلِ مدینہ کا اجماع بھی ذکر کیا گیا ہے۔

[جواب]اس کا جواب یہ ہے کہ: اہلِ حدیث کا اتفاق صرف اس چیز پر ہی ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہﷺ سے؛اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے منقول ہو؛ تو اس صورت میں ان کا استدلال کتاب و سنت اور اجماع صحابہ سے ہوگا؛ جو کہ دیگر ہر اس اجماع کے دعویٰ سے بے نیاز کر دیتا ہے جس کے حجت ہونے کے بارے میں لوگوں کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔یہ ان کے خلاف ہے جو متأخرین اہلِ مدینہ کے اجماع کے حجت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ کیونکہ یہ اجماع ایسے مسائل میں ذکر کیا جاتا ہے جن کے بارے میں کوئی نص موجود نہیں ہوتی؛ بلکہ نص اس کے خلاف ہوتی ہے۔

٭ یہی حال ان لوگوں کا بھی ہے جو اجماع اہلِ بیت ؍عترت کے حجت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔یہ ایسے مسائل میں ہوتا ہے جن میں کوئی نص موجود نہ ہو۔ بلکہ نص اس کے خلاف ہوتی ہے۔اسی لیے ان لوگوں کو اس اجماع کا دعویٰ کرنے کی ضرورت پیش آئے جسے یہ لوگ حجت خیال کرتے ہیں ۔

٭ جہاں تک اہل حدیث کا تعلق ہے؛ تو رسول اللہﷺ سے ثابت نصوص ہی ان کے ہاں اصل بنیاد ہیں ۔ اور جب ان کا اجماع ہوتا ہے تو ان نصوص پر ہی ہوتا ہے۔ خصوصاً ان کے آئمہ کہتے ہیں : کبھی بھی صحیح اجماع کسی نص کے خلاف نہیں ہو سکتا ؛ مگر اس اجماع کے ساتھ ایک ظاہر اور معلوم شدہ نص موجود ہوتی ہے۔ جس کا پتہ چلتا ہے کہ یہ نص دوسری نص سے ٹکراتی ہے۔ پس جب یہ لوگ اس بات کی اجازت نہیں دیتے اجماع امت نصوص شریعت سے ٹکرائے۔ کیونکہ ان کے نزدیک نصوص سے ٹکرانے والا اجماع باطل ہوتا ہے۔ تو پھر جب ان نصوص سے وہ اجماع ٹکرائے جسے اجماع اہلِ مدینہ یا اجماع اہلِ بیت کہتے ہیں ؛ تو کیا عالم ہوگا؟

٭ اہل سنت والجماعت اور اہلِ حدیث کے علاوہ جتنے بھی فرقے ہیں ؛ وہ کسی ایک بھی صحیح قول میں آئمہ حدیث سے منفرد نہیں ہو سکتے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کے پاس دینِ اسلام میں سے کچھ حق موجود ہو۔ اسی سبب شبہ پیدا ہوتا ہے۔ ورنہ اگر کوئی چیز محض باطل ہو تو پھر کسی ایک کو کوئی شبہ پیدا نہ ہو۔ اسی لیے اہلِ بدعت کو اہلِ شبہات بھی کہتے ہیں ۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ حق اور باطل کو آپس میں ملا دیتے ہیں ۔

اہلِ کتاب کے پاس حق اور باطل

یہی حال تمام اہل کتاب کا بھی ہے۔ان کے ساتھ حق بھی ہوتا ہے اور باطل بھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

صفحہ 2 از 5