شیعہ میں معتزلی اثرات - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ میں معتزلی اثرات

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 5

شیعہ میں معتزلی اثرات 

شیعہ کے دین میں عقلیات اور شرعیات ہیں ۔عقلیات میں ان کے متا خرین معتزلہ کے پیروکار ہیں ۔ سوائے ان چند لوگوں کوکے جو اپنے تئیں فلسفی بننے کی کوششیں کرتے ہیں ۔ پس ان کا کلام یا تو فلسفہ پر مشتمل ہوتا ہے یا پھر اس میں فلسفہ اور اعتزال کی آمیزش ہوتی ہے؛ اور اس کے ساتھ ان کی اپنی رافضیت بھی مل جاتی ہے ۔جیسا کہ اس کتاب ’’[ منہاج الکرامہ] ‘‘ اور اس جیسی دوسری کتابوں کا حال ہے۔ اس وجہ سے شیعہ اللہ اور اس کے رسول اور عوام مسلمین سے سب لوگوں سے دور تر ہوتے چلے جاتے ہیں ۔

جب کہ شرعیات میں ان کی بنیاد ان روایات پر ہے جو [ان کے تئیں اہلِ بیت سے منقول ہیں ۔ جیسے ابو جعفر الباقر ؛اور جعفر بن محمد الصادق اور دوسرے علماء [کی طرف منسوب روایات]۔

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کے سرداروں اور سرکردہ لوگوں میں سے اور آئمہ دین ہیں ۔اور ان کے اقوال کی بھی وہی عزت و احترام ہے جو ان جیسے دوسرے علماء کے اقوال کا ہے ۔ لیکن ان سے جو روایات نقل کی گئی ہیں ان میں سے اکثر جھوٹ پر مشتمل ہیں ۔ رافضیوں کو روایات کی اسانید کا کوئی علم و خبر نہیں ہوتے۔ اور نہ ہی وہ ثقہ اور ضعیف کے درمیان فرق کرسکتے ہیں ۔ بلکہ اس معاملہ میں وہ اہلِ کتاب کے مشابہ ہیں ۔یہ لوگ اپنی کتابوں میں اپنے اسلاف سے منقول جو بھی بات پاتے ہیں ‘ اسے قبول کرلیتے ہیں ۔ بخلاف اہلِ سنت والجماعت کے۔اہلِ سنت و الجماعت کو اسانید کا علم ہے جس کی بنا پر وہ جھوٹ اور سچ میں تمیز کرسکتے ہیں ۔جب حضرت علی بن حسینؒ سے کوئی روایت صحیح سند کے ساتھ ثابت ہوجائے تو ان کے امثال کا نمونہ ومقتدائی بھی موجود ہے جیسے قاسم بن محمد اور سالم بن عبد اللہ وغیرہ رحمہم اللہ ۔ جیسا کہ حضرت علی بن ابی طالبؓ کامعاملہ سارے صحابہ کرامؓ کے ساتھ تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ﴾ [النساء:59]

’’ اگر کسی معاملہ میں تمہارا اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول اللہﷺ کی طرف لوٹا دو۔‘‘

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ متنازعہ فیہ امور کو فیصلہ کے لیے اللہ اور رسول اللہﷺ کی طرف لوٹایا جائے۔

رافضی قرآن مجید کو حفظ کرنے کا اہتمام نہیں کرتے۔اور نہ ہی اس کے معانی اور تفسیر کو جانتے ہیں ۔ اور نہ ہی اس کے معانی و مفاہیم سے استدلال کرنے کا طریقہ جانتے ہیں ۔ایسے ہی یہ لوگ احادیث رسول اللہﷺ کا بھی کوئی اہتمام نہیں کرتے۔ اور نہ ہی انہیں صحیح اور ضعیف حدیث کی کوئی معرفت ہوتی ہے۔ احادیث کے معانی و مفاہیم سے بے بہرہ ہوتے ہیں ۔ آثار صحابہؓ و تابعینؒ کا کوئی اہتمام نہیں کیا جاتا کہ ان کے مسلک اور ماخذ کا پتہ چل سکے؛ اور اختلاف کے وقت آیات قرآنیہ اور احادیث رسول اللہﷺ کے مطابق فیصلہ کے لیے پیش کیا جائے۔ بلکہ ان کا سارا سرمایہ وہ روایات ہیں جنہیں اہلِ بیت کی طرف منسوب کرکے نقل کیا جاتا ہے۔

اثبات شریعت میں شیعہ کے اصول 

اس بارے میں شیعہ کے تین بنیادی اصول ہیں 

¹ـ آئمہ میں سے ہر ایک امام معصوم اور نبی کریمﷺ کی منزلت پر ہے۔امام معصوم حق کے علاوہ کچھ بھی نہیں کہہ سکتا ۔ اور جو کچھ وہ کہتا ہے ‘ اس میں اس کی مخالفت کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں ۔اور جس معاملہ میں کوئی دوسرا امام کے ساتھ اختلاف کرے تو اسے اللہ اور اس کے رسول اللہﷺ کی طرف بھی نہیں لوٹایا جائے گا۔

²۔ آئمہ میں سے کوئی ایک جو بھی بات کہتا ہے ؛ اس کے بارے میں یہ معلوم ہے کہ وہ کہنا چاہتا ہے : جو میں کہتا ہوں وہ رسول اللہﷺ سے نقل کر رہا ہوں ۔افسوس کہ اگر یہ لوگ اس بارے میں تابعینؒ جیسے حضرت علی بن حسینؓ کی مراسیل پر ہی انحصار کرلیتے۔ بلکہ وہ ان لوگوں کی روایات لیتے ہیں جو بہت متأخر ہیں جیسے حسن عسکری کے ماننے والے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان آئمہ میں سے جو کوئی بھی کوئی بات کہتا ہے ؛ حقیقت میں وہ رسول اللہﷺ کا فرمودہ ہوتی ہے۔جس انسان کو ادنیٰ سی بھی عقل ہو ؛وہ جانتا ہے کہ عسکریین کی وہی اہمیت ہے جو اس دور کے باقی ہاشمیوں کی ہے۔ان کے پاس کوئی ایسا علم نہیں ہے جس کی وجہ سے باقی لوگوں سے امتیازی حیثیت رکھتے ہوں ۔اور باقی اہلِ علم اس کے محتاج ہوں ۔ اور نہ ہی اہلِ علم ان سے کوئی روایت نقل کیا کرتے تھے جیساکہ وہ اپنے دور کے باقی علماء سے نقل کرتے رہتے تھے۔یا پھر جیسے حضرت علی بن حسینؒ اور ان کے بیٹے ابو جعفر اور پوتے محمد بن جعفر کے زمانے میں اہلِ علم تھے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اہلِ علم نے ان تینوں حضرات سے علم حاصل کیا ہے ‘ان سے اور ان جیسے دوسرے علماء سے روایات نقل کی ہیں ۔ بخلاف عسکریین اوران کی امثال کے۔ اس لیے کہ معروف اہلِ علم نے ان سے علم حاصل نہیں کیا ؛[ اور نہ ہی ان سے کوئی معروف روایت نقل کی گئی ہے ]۔مگر پھر بھی یہ چاہتے ہیں کہ ان متاخرین آئمہ میں سے کسی ایک نے جو کوئی بات کہی ہے اسے وہ قول رسول اللہﷺ کا درجہ دے دیں ۔اور قرآن اور سنت متواترہ کی منزلت پر رکھیں ۔ ایسی باتوں پر اپنے دین کی بنیاد وہی قائم کرسکتا ہے جو لوگوں میں اہلِ علم و ایمان کے طریقہ سے سب سے زیادہ دور ہو۔

³۔ ان کا تیسرا اصول یہ ہے کہ : رافضیوں کا اجماع اہلِ بیت کا اجماع تصور کیا جاتا ہے۔ اور اہلِ بیت کے اجماع کو معصوم مانتے ہیں ۔

زمانے میں اہل علم تھے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل علم نے ان تینوں حضرات سے علم حاصل کیا ہے ‘ان سے اوران جیسے دوسرے علماء سے روایات نقل کی ہیں ۔ بخلاف عسکریین اوران کی امثال کے۔ اس لیے کہ معروف اہل علم نے ان سے علم حاصل نہیں کیا ؛[ اور نہ ہی ان سے کوئی معروف روایت نقل کی گئی ہے ]۔مگر پھر بھی یہ چاہتے ہیں کہ ان متاخرین ائمہ میں سے کسی ایک نے جو کوئی بات کہی ہے اسے وہ قول رسول اللہﷺ  کا درجہ دے دیں ۔اور قرآن اور سنت متواترہ کی منزلت پر رکھیں ۔ ایسی باتوں پر اپنے دین کی بنیاد وہی قائم کرسکتا ہے جو لوگوں میں اہلِ علم و ایمان کے طریقہ سے سب سے زیادہ دور ہو۔

³۔ ان کا تیسرا اصول یہ ہے کہ : رافضیوں کا اجماع اہلِ بیت کا اجماع تصور کیا جاتا ہے۔ اور اہلِ بیت کے اجماع کو معصوم مانتے ہیں ۔

صفحہ 1 از 5