مناظر سنی شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مناظر سنی شیعہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 2 از 2

واہ متعہ شریف، الحمدللہ کہ اس کی خدا نے اجازت نہ فرمائی تھی ورنہ کوئی شخص اپنی عزت نہ بچا سکتا جو زانی و زانیہ پکڑے جاتے تو فوری کہتے ہم نے تو جناب صیغے متعہ کے پڑھ کر یہ متبرک فعل کیا ہے ہم نے تو خالی ثواب نہیں لوٹا بلکہ ملائکہ کی پیدائش کی وجہ سے ہم تو یہ فعل کرتے ہیں۔ ملائکہ کثرت سے پیدا ہوں۔

اے اہلِ اسلام! اہلِ انصاف! خدا کے لئے انصاف کرنا اگر اس متعہ کو جائز رکھا، تو کیا حدود شرعی باقی رہ سکتی ہیں جن پر کوڑے لگائے جائیں یا رجم کیا جائے

اگر باکرہ لڑکی اور کنوارہ لڑکا زنا کرتے پکڑے جائیں یا بیوہ عورت پکڑی جانے تو اس پر کب حد جاری کی جاسکتی ہے وہ فوری کہہ سکتی ہے کہ ہم نے متعہ کیا ہوا ہے اگر ممتوعہ عورت زوجہ میں داخل ہوتی تو قرآن کریم خَشِّیَ الْعَنَتَ کی قید نہ لگاتا متعہ تو ہر وقت مل سکتا تھا بچنے کی کیا حاجت تھی اور صبر کی قید کی کیا ضرورت تھی۔

میں حیران ہوں جب شیعہ حضرات کہتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ متعہ کو حرام نہ فرماتے نہ بھلا تو کون انسان زناء نہ کرتا بھلا ان سے دریافت کریں متعہ سے بڑھ کر کونسی زنا ہے جو لوگ کرتے ہیں۔ لوگ زناء کرتے ہیں مگر اسکو حرام سمجھ کر کرتے ہیں۔ آپ حلال ہونے کا فتویٰ دیتے ہیں دونوں میں بڑا فرق ہے۔

اچھا شیعہ علی نقی! اس حدیث کا ذرا جواب دیں جو فتح بن یزید سے مروی ہے متعہ اور سلام کے صفحہ 81 مدار پر:

سالت ابالحسن عليه السلام عن المتعة فقال هی حلال مباح مطلق لمن لم يغنيه الله باالتزويج فليستفف بالمتعة فإن استغنى عنها بالتزويج فهی مباح له ازغاب عنها۔ 

سوال کیا میں نے متعہ کے متعلق تو حضرت نے فرمایا کہ حلال مباح ہے اس کے لئے جس نے شادی نہ کی ہوئی ہو بے شک وہ متعہ کے ذریعہ سے بدکاری سے بچے لیکن جس نے شادی کر لی ہے اس کو اب ضرورت نہیں ہاں اس وقت مباح ہوگا جب سفر میں چلا جائے۔ 

فائدہ: شیعہ علی نقی! اگر متعہ نکاح میں داخل تھا تو ایک عورت آزاد سے شادی کر لینے پر متعہ کیونکر حرام ہوا جب ایک مرد کو چار عورتوں کی اجازت قرآن نے دے دی ہے پہلے بھی ایک یا دو یا تین عورتیں منکوحہ تھیں اگر متعہ نکاح میں داخل تھا تو اس چہارم سے متعہ کرنا حلال ہوتا حلانکہ امام نکاحِ صحیح کے بعد حرام فرماتے ہیں پھر آپ کس طرح نکاح میں داخل کرتے ہیں۔

تقریظ:

الحمد لله وكفٰى وسلام على عبادہ الذين اصطفى اما بعد! تمام اہلِ اسلام کی خدمت میں گزارش ہے کہ علی نقی شیعی لکھنؤی نے ایک چھوٹا سا رسالہ نامی "متعہ اور اسلام" اہلِ سنت والجماعت کے خلاف لکھا جس کو امامیہ مشن لاہور نے شائع کیا۔ اس رسالہ میں شیعہ علی نقی نے متعہ کے حلال ہونے کو بزعمِ خویش قرآن و حدیث سے ثابت کیا۔ اور اہلِ سنت و الجماعت کے مسلک کو عقل و نقل کے خلاف قرار دیا ہے سخت ضرورت تھی کہ اس مسئلہ میں مسلک حقہ اہلِ سنت و الجماعت کے دلائل و براہین کو آسان اردو عبارت میں واضح کیا جائے۔ اور شیعہ علی نقی کے اعتراضات کے عام فہم اور مضبوط جواب تحریر کئے جائیں تاکہ عامۃ الناس غلط فہمی میں مبتلا ہو کر دین و ایمان سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں خداوند تبارک و تعالیٰ تمام اہلِ اسلام خصوصاً طالبانِ تحقیق کے طرف سے مولانا اللہ یار خان صاحبؒ کو جزائے خیر عطا کرے جنہوں نے باوجود مشاغل کثیرہ کے اس دینی ضرورت کو باحسن وجوہ پورا کیا ہے۔

میں نے اول سے آخر تک اس مضمون کو دیکھا ہے بفضلہ تعالیٰ مضمون کیا ہے۔ ایک دریائے تحقیقات ہے جو ساون کے دریاؤں کی طرح موجیں مار رہا ہے حق یہ ہے کہ مولانا اللہ خان صاحبؒ نے حقِ تحقیق ادا کر دیا ہے اس لئے اہلِ اسلام سے درخواست ہے کہ اس رسالہ کو زیادہ سے زیادہ شائع کرنے کی کوشش کریں اور اس کے مضامین کو محفوظ رکھنے میں سستی سے کام نہ لیں، مجھے تسلیم ہے کہ اس کتاب کی زبان اہلِ زبان کے محاورات کے مطابق نہیں ہے مگر آپ اس رسالہ کو ادبی رسالہ تصور نہ کریں بلکہ ایک علمی اور تحقیقی مضمون خیال کر کے اس کے مطالعہ سے شرف اندوز ہوں۔

حرره احمد شاه بخاری

مدرس مدرسہ عربیہ دارالہدیٰ چوکیرہ ضلع سرگودھا پاکستان۔


صفحہ 2 از 2