مناظر سنی شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مناظر سنی شیعہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 1 از 2

مناظر سنی شیعہ

فیض محمد شیعی: متعہ کا اس سے زیادہ ثبوت کیا ہونا چاہیے کہ قرآنِ کریم نے اس کی حلت کا اعلان کر دیا ہے اور سنیوں نے سیدنا عمر فاروقؓ کے قول پر عمل کر کے متعہ کو حرام قرار دیا اور قرآن کو چھوڑ دیا۔

اللہ یار خان سنی: استغفراللہ متعہ کی حلت قرآن تو قرآن کی حدیث سے بھی ثابت نہیں ہے البتہ قرآنی آیات خواہ مکی ہیں یا مدنی حرمتِ متعہ پر صاف صاف دلالت کرتی ہیں باقی خیال کرنا حلت و حرمت کا اختیار ہمارے مذہب میں کلی طور پر پیغمبر کو بھی نہیں ہوتا بلکہ فعل خدا تعالیٰ کا ہے۔ سیدنا عمرؓ کو کہاں سے فعل حرمت کا اختیار حاصل ہوا یہ اختیارات تو مذہب شیعہ میں ائمہ معصومین کو دیئے گئے ہیں جس چیز کو چاہیں حرام کریں۔ جس کو حلال کریں۔ 

شیعہ: قرآن کی آیت فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ موجود ہے کہ جس عورت سے متعہ کر اس کو متعہ کی اجرت دیا کرو۔

 سنی: سبحان اللہ! آیت کا مطلب خوب سمجھا جی ملک فیض محمد، آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ جن عورتوں سے تم جماع سے نفع اٹھاؤ۔ ان کو مہر دے دیا کرو! نہ کہ متعہ۔ 

شیعہ: مہر ہرگز مراد نہیں ہوسکتا مہر تو محض نکاح کرنے سے لازم ہو جاتا ہے پھر فائدہ اٹھانے کی قید کی کیا حاجت تھی لہٰذا متعہ کی اجرت مراد ہے۔

سُنّی: کس قائل نے کہا ہے کہ محض نکاح سے پورا مہر لازم ہو جاتا ہے اجی حضرت! بعد نکاح قبل از خلوة صحیحہ یا وطی کے طلاق دے دی جائے تو نصف مہر دینا پڑتا ہے نہ پورا۔ اور آیت میں پورا مہر مراد ہے۔

شیعہ: آیت میں پورے مہر کا کوئی قرینہ نہیں آپ کس لفظ سے پورا مہر مراد لیتے ہیں؟۔

سُنّی: نصف کے نہ مذکور ہونے سے پورا مراد لیتے ہیں جب چیز مطلق چھوڑ دی جائے تو مراد فرد کامل اس سے ہوتا ہے جب نصف کا لفظ نہ تھا۔ تو ہم نے کامل مراد لیا اور کامل پورا مہر ہے۔ 

فیص محمد شیعہ: آیت فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ جس کی مصدر جو ماخذ فصل ہے متعہ ہے آپ نکاح کسی لفظ سے مراد لیتے ہیں متعہ سے متعہ ہی مراد ہوگا نہ نکاح۔

سُنّی اللہ یارخان: متعہ کے معنیٰ لغت عربی میں کیا ہیں، آیا یہی آپ کا اصطلاحی متعہ یا مطلق نفع اٹھانا۔

شیعہ: اس سے ہم کو کیا واسطہ؟ لفظ متعہ کا موجود ہے۔

سُنّی: اچھا، آپ صرف لفظ سے بحث کرتے ہیں۔ اچھا فرمائیں، کوئی خارجی مردود شیعہ پر یہ اعتراض کر دے کہ تم یزید کو بہت برا بھلا کہتے ہو حلانکہ قرآن اس کی بڑی تعریف کرتا ہے۔

شیعہ: وہ آیت قرآن میں کہاں ہے؟۔

سُنّی: ارے بھائی! میں نے تو خارجیوں کا عقیدہ پیش کیا تھا نہ سنیوں کا۔

شیعہ: اچھا،خارجی کون سی آیت تعریف یزید میں پیش کرتے ہیں یزید تو وقت نزولِ قرآن موجود ہی نہ تھا۔

سُنّی: ارے بھائی! ہم کو اس سے بحث نہیں وہ یہ آیت پیش کرتے ہیں۔ 

"وَيَزِيدُهُم مِّن فَضْلِ اللّٰهِ الخ" يزيد بنو امیہ کا خدا کے فضل سے ہے اور خدا کے فضل سے پیدا ہوا اور خدا کے فضل سے حکومت کی اور خدا نے فضل کر کے اس کو دی بس شیعہ مولوی تاڑ گیا۔ کہ متعہ کے لفظ کا جواب لفظ یزید سے دیا گیا۔

سُنّی: جنابِ عالی آیت سے مراد نکاحِ صحیح مراد ہے اور منکوحہ سے زوجہ مراد ہے نہ ممتوعہ عورت زوجہ ہے نہ زوجہ میں داخل ہے آیت قرآنی متعہ کو حرام قرار دے چکی ہے۔

  • فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ الخ (سورة النساء: آیت 3)۔ 

ترجمہ: پس نکاح کریں ان عورتوں سے جو خوش آئیں تم کو دو دو تین تین چار چار سے پسں خوف عدل ہو یعنی ہے انصافی کا تو ایک ہی کافی پر باندی رکھ لیں۔ 

  • وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ   وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْؕ الی ان قال ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ الخ (سورة النساء: آیت 176)۔ 

ترجمہ: جو شخص تم میں سے آزاد عورتیں سے نکاح کی طاقت نہیں رکھتا تو پس لونڈیاں کر لے مگر لونڈی سے اس وقت جائز ہے جب خوف زنا کا ہو اگر صبر کرو تو تمھارے لئے اچھا ہوگا۔

  • وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّىٰ يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ الخ (سورۃ النور 32)

ترجمہ: بچتے رہیں وہ لوگ جو نکاح کی طاقت نہیں رکھتے یہاں تک کہ خدا ان کو غنی کر دے اپنے فضل و کرم سے۔

فائدہ: قرآن نے دو دو تین تین چار چارکی قید لگا کر متعہ کی جڑا اکھیڑ پھینکی چونکہ متعہ میں ممتوعہ عورتوں کی کوئی تعداد نہیں ہوتی خواہ چار سو کریں معلوم ہوا کہ ممتوعہ زن فَانْكِحُوْا کے حکم میں جو قرآن میں آتا ہے داخل نہیں ہے۔

دوم: قرآن نے عدل کی قید لگا کر معتوعہ پر کاری ضرب لگائی چونکہ ممتوعہ عورتوں میں عدل و انصاف کی ضرورت نہیں۔ انصاف و عدل سے باری مقرر کرنا صرف منکوحہ زوجہ کے لئے ہے۔

سوم: بعد نکاح اَوْمَا مَلَكَتْ کی قید لگا کر بتا دیا صرف دو قسم کی عورتیں حلال ہیں۔ اگر ممتوعہ زن حلال ہوتی تو اس کا ذکر بھی کیا جاتا۔

چہارم: وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا الخ کی قید سے متعہ فنا ہوگا قرآن نے بتایا کہ آزاد مسلمان عورتوں کے نہ ملنے پر باندیوں سے نکاح کر لینا اگر متعہ کا وجود ہوتا تو قرآن یوں فرماتا وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَاسْتَمْتَعُوْا بِا النِّسَاء اَوْمَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ، الخ چونکہ متعہ مبارکہ تو دو آنہ پر چار آنہ پر روٹی و کپڑا پر بھی کیا جاسکتا تھا۔ ایک آسان اور ارزاں پھر "لکل جدید لذة" ہر نئی میں لذت ہوتی ہے پھر ہر روز نیا نظارہ پھر صبر کی قید قرآن کو کیونکر لگانا پڑتی، صاف حکم دیتا اگر آزاد عورت نہیں ملتی اور نہ ہی باندی ملتی ہے تو دو چار آنہ پر نئی نئی سے ہم آغوش ہو جانا چاہیے۔

صفحہ 1 از 2