واقعہ افک اور اس کے متعلق اہم نکات کی تفاصیل - دفاعِ اہلِ…

واقعہ افک اور اس کے متعلق اہم نکات کی تفاصیل

  علی محمد الصلابی

صفحہ 6 از 6

ترجمہ: یقین جانو کہ جو لوگ یہ جھوٹی تہمت گھڑ کر لائے ہیں وہ تمہارے اندر ہی کا ایک ٹولہ ہے تم اس بات کو اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہی بہتر ہے۔ ان لوگوں میں سے ہر ایک کے حصے میں اپنے کیے کا گناہ آیا ہے۔ اور ان میں سے جس شخص نے اس (بہتان) کا بڑا حصہ اپنے سر لیا ہے اس کے لیے تو زبردست عذاب ہے۔ جس وقت تم لوگوں نے یہ بات سنی تھی تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ مومن مرد بھی اور مومن عورتیں بھی اپنے بارے میں نیک گمان رکھتے اور کہہ دیتے کہ یہ کھلم کھلا جھوٹ ہے؟ وہ (بہتان لگانے والے) اس بات پر چار گواہ کیوں نہیں لے آئے؟ اب جبکہ وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ اور اگر تم پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جن باتوں میں تم پڑ گئے تھے ان کی وجہ سے تم پر اس وقت سخت عذاب آپڑتا۔جب تم اپنی زبانوں سے اس بات کو ایک دوسرے سے نقل کر رہے تھے اور اپنے منہ سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا تمہیں کوئی علم نہیں تھا، اور تم اس بات کو معمولی سمجھ رہے تھے، حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بڑی سنگین بات تھی۔ اور جس وقت تم نے یہ بات سنی تھی، اسی وقت تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ: ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ہم یہ بات منہ سے نکالیں، یا اللہ! آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے، یہ تو بڑا زبردست بہتان ہے۔ اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی ایسا نہ کرنا، اگر واقعی تم مومن ہو۔ اور اللہ تمہارے سامنے ہدایت کی باتیں صاف صاف بیان کررہا ہے۔ اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔ یاد رکھو کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بےحیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال ہے اور اللہ بڑا شفیق بڑا مہربان ہے (تو تم بھی نہ بچتے)۔ اے ایمان والو! تم شیطان کے پیچھے نہ چلو، اور اگر کوئی شخص شیطان کے پیچھے چلے، تو شیطان تو ہمیشہ بےحیائی اور بدی کی تلقین کرے گا۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی پاک صاف نہ ہوتا، لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے پاک صاف کر دیتا ہے۔ اور اللہ ہر بات سنتا، ہر چیز جانتا ہے۔ اور تم میں سے جو لوگ اہل خیر ہیں اور مالی وسعت رکھتے ہیں، وہ ایسی قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے، اور انہیں چاہیے کہ معافی اور درگزر سے کام لیں۔ کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ اللہ تمہاری خطائیں بخش دے؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ یاد رکھو کہ جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی مسلمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں پھٹکار پڑچکی ہے، اور ان کو اس دن زبردست عذاب ہوگا۔جس دن خود ان کی زبانیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف اس کرتوت کی گواہی دیں گے جو وہ کرتے رہے ہیں۔اس دن اللہ ان کو وہ بدلہ پورا پورا دیدے گا جس کے وہ مستحق ہیں اور ان کو پتہ چل جائے گا کہ اللہ ہی حق ہے، اور وہی ساری بات کھول دینے والا ہے۔ گندی عورتیں گندے مردوں کے لائق ہیں، اور گندے مرد گندی عورتوں کے لائق۔ اور پاکباز عورتیں پاکباز مردوں کے لائق ہیں، اور پاکباز مرد پاکباز عورتوں کے لائق۔ یہ (پاکباز مرد اور عورتیں) ان باتوں سے بالکل مبرا ہیں جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ ان (پاکبازوں) کے حصے میں تو مغفرت ہے اور باعزت رزق۔ 

جبکہ ہماری امی نے عربوں کی عادت کے مطابق دس آیات کہیں، اسے علمائے لغت ’’الغاء الکسر‘‘ کا قاعدہ کہتے ہیں۔ (عرب دو دہائیوں کے درمیان والے اعداد کو گنتی میں شامل نہیں کرتے۔ ظفر) 

(فتح الباری لابن حجر: جلد 8 صفحہ 477)


صفحہ 6 از 6