واقعہ افک اور اس کے متعلق اہم نکات کی تفاصیل - دفاعِ اہلِ…

واقعہ افک اور اس کے متعلق اہم نکات کی تفاصیل

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 6

کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول ہونے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی شدت کرب (البرحاء: شدت کرب۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر: جلد 1 صفحہ 113۔) کے آثار دکھائی دینے لگے۔ یہاں تک کہ آپﷺ کی پیشانی سے چاندی کے بلبلے (الجمان: چھوٹے موتی یا چاندی کے بلبلے (جو موتیوں کی طرح ہوتے ہیں۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 1 صفحہ 301۔) سے نمودار ہو گئے۔ جو آپﷺ کا پسینہ تھا حالانکہ اس دن نہایت سردی تھی۔ یہ اس وحی کا بوجھ تھا جو آپﷺ پر نازل ہوتی تھی۔

بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے جو الفاظ ادا فرمائے وہ یہ تھے: ’’اے عائشہ! اللہ عزوجل نے تجھے بری کر دیا ہے۔‘‘ میری امی نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاؤ۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان کی طرف نہیں جاؤں گی اور اللہ عزوجل کے علاوہ کسی کی تعریف نہیں کروں گی۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل کی تھیں:

اِنَّ الَّذِيۡنَ جَآءُوۡ بِالۡاِفۡكِ عُصۡبَةٌ مِّنۡكُمۡ‌ لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ‌  بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ‌  لِكُلِّ امۡرِىٴٍ مِّنۡهُمۡ مَّا اكۡتَسَبَ مِنَ الۡاِثۡمِ‌ وَالَّذِىۡ تَوَلّٰى كِبۡرَهٗ مِنۡهُمۡ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا وَّقَالُوۡا هٰذَاۤ اِفۡكٌ مُّبِيۡنٌ‏ ۞ لَوۡلَا جَآءُوۡ عَلَيۡهِ بِاَرۡبَعَةِ شُهَدَآءَ‌ فَاِذۡ لَمۡ يَاۡتُوۡا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنۡدَ اللّٰهِ هُمُ الۡـكٰذِبُوۡنَ‏ ۞ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمۡ فِىۡ مَاۤ اَفَضۡتُمۡ فِيۡهِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ‌ ۞ اِذۡ تَلَـقَّوۡنَهٗ بِاَلۡسِنَتِكُمۡ وَتَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِكُمۡ مَّا لَـيۡسَ لَـكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ وَّتَحۡسَبُوۡنَهٗ هَيِّنًا ‌وَّهُوَ عِنۡدَ اللّٰهِ عَظِيۡمٌ ۞وَ لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ قُلۡتُمۡ مَّا يَكُوۡنُ لَـنَاۤ اَنۡ نَّـتَكَلَّمَ بِهٰذَا ‌سُبۡحٰنَكَ هٰذَا بُهۡتَانٌ عَظِيۡمٌ ۞يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِمِثۡلِهٖۤ اَبَدًا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ‌۞وَيُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ‌ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ‏ ۞اِنَّ الَّذِيۡنَ يُحِبُّوۡنَ اَنۡ تَشِيۡعَ الۡفَاحِشَةُ فِى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ‌ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ۞ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ۞ (سورۃ النور آیت 11 تا 20)

ترجمہ: یقین جانو کہ جو لوگ یہ جھوٹی تہمت گھڑ کر لائے ہیں وہ تمہارے اندر ہی کا ایک ٹولہ ہے تم اس بات کو اپنے لیے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہی بہتر ہے۔ ان لوگوں میں سے ہر ایک کے حصے میں اپنے کیے کا گناہ آیا ہے۔ اور ان میں سے جس شخص نے اس (بہتان) کا بڑا حصہ اپنے سر لیا ہے اس کے لیے تو زبردست عذاب ہے۔ جس وقت تم لوگوں نے یہ بات سنی تھی تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ مومن مرد بھی اور مومن عورتیں بھی اپنے بارے میں نیک گمان رکھتے اور کہہ دیتے کہ یہ کھلم کھلا جھوٹ ہے؟ وہ (بہتان لگانے والے) اس بات پر چار گواہ کیوں نہیں لے آئے؟ اب جبکہ وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ اور اگر تم پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جن باتوں میں تم پڑگئے تھے ان کی وجہ سے تم پر اس وقت سخت عذاب آپڑتا۔جب تم اپنی زبانوں سے اس بات کو ایک دوسرے سے نقل کر رہے تھے اور اپنے منہ سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا تمہیں کوئی علم نہیں تھا، اور تم اس بات کو معمولی سمجھ رہے تھے، حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بڑی سنگین بات تھی۔اور جس وقت تم نے یہ بات سنی تھی، اسی وقت تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ : ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ہم یہ بات منہ سے نکالیں، یا اللہ! آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے، یہ تو بڑا زبردست بہتان ہے۔اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی ایسا نہ کرنا، اگر واقعی تم مومن ہو۔اور اللہ تمہارے سامنے ہدایت کی باتیں صاف صاف بیان کررہا ہے۔ اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔یاد رکھو کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بےحیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال ہے اور اللہ بڑا شفیق بڑا مہربان ہے (تو تم بھی نہ بچتے)۔

جب اللہ عزوجل نے میری پاک دامنی میں یہ دس آیات نازل کیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے قرابت دار اور محتاج ہونے کی وجہ سے مسطح بن اثاثہ پر خرچ کرتے تھے۔ انھوں نے قسم اٹھا لی کہ اللہ کی قسم! میں اب کبھی مسطح پر ذرہ بھر خرچ نہیں کروں گا جبکہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں جو کہہ چکا سو کہہ چکا۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان نازل فرمایا:

وَلَا يَاۡتَلِ اُولُوا الۡـفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِى الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ‌‌وَلۡيَـعۡفُوۡا وَلۡيَـصۡفَحُوۡا‌ اَلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَـكُمۡ‌ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞ (سورۃ النور آیت 22)

ترجمہ: اور تم میں سے جو لوگ اہل خیر ہیں اور مالی وسعت رکھتے ہیں، وہ ایسی قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے، اور انہیں چاہیے کہ معافی اور درگزر سے کام لیں۔ کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ اللہ تمہاری خطائیں بخش دے ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

صفحہ 4 از 6