واقعہ افک اور اس کے متعلق اہم نکات کی تفاصیل - دفاعِ اہلِ…

واقعہ افک اور اس کے متعلق اہم نکات کی تفاصیل

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 6

بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: ’’اے مسلمانو! اس آدمی سے کون مجھے راحت پہنچائے گا جس نے میرے اہل بیت کے متعلق مجھے تکلیف پہنچائی؟ اللہ کی قسم! میں اپنی بیوی کے بارے میں بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں جانتا اور لوگوں نے ایک آدمی کا نام لیا اس کے بارے میں بھی بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں جانتا۔ وہ جب بھی میری بیوی کے پاس گیا میرے ساتھ گیا۔ یہ سن کر سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے جو بنو اوس کے سردار تھے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے خلاف میں آپﷺ کو راحت پہنچاؤں گا۔ اگر وہ اوس قبیلہ سے ہوا تو میں اس کی گردن کاٹوں گا اور اگر وہ ہمارے بھائیوں کے قبیلہ خزرج سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جو حکم دیں گے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں گے۔ بقول عائشہ رضی اللہ عنہا: خزرج کے سردار سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور وہ اس سے پہلے صالحین میں شمار ہوتے تھے لیکن انھیں عصبیت نے بھڑکا دیا۔ وہ سعد بن معاذ کو مخاطب کر کے کہنے لگے: تم جھوٹے ہو، عمر دینے والے اللہ کی قسم! تم نہ اسے قتل کرو گے اور نہ اسے قتل کرنے کی طاقت رکھتے ہو۔ یہ سن کر سعد بن معاذ کے چچا زاد اسید بن حضیر اٹھے اور سعد بن عبادہ کو مخاطب کر کے بولے: تم نے جھوٹ بولا، مجھے عمر دینے والے کی قسم! ہم اسے ضرور قتل کریں گے۔ کیونکہ تو منافق ہے اور منافقوں کا دفاع کرتا ہے۔ دونوں قبیلے انتقام کی آگ میں جلنے لگے۔ یعنی اوس اور خزرج۔ بلکہ انھوں نے قتال کا ارادہ بھی کر لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے مسلسل ان کو خاموش کرا رہے تھے۔ تاآنکہ وہ خاموش ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی خاموش ہو گئے۔

بقول عائشہ رضی اللہ عنہا: میں دوسرے دن بھی روتی رہی نہ تو میرے آنسو کم ہوئے اور نہ میں نے نیند کے لیے پلکیں جھپکیں۔ بقول عائشہ رضی اللہ عنہا صبح ہوتے ہی میرے ماں باپ میرے پاس آئے۔ جبکہ میں دو راتیں اور ایک دن مسلسل روتی رہی، نہ میرے آنسو کم ہوئے اور نہ میں نے نیند کی وجہ سے پلک جھپکی۔ وہ دونوں یہ سمجھنے لگے کہ رونے کی وجہ سے میرا جگر چھلنی ہو جائے گا۔

بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: جب وہ میرے پاس بیٹھے تھے اور میں رو رہی تھی تو ایک انصاری عورت نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی، میں نے اسے اجازت دے دی تو وہ بھی میرے ساتھ رونے لگی۔

بقول عائشہ رضی اللہ عنہا: ہم ابھی اس حال میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو سلام کیا، پھر آپﷺ بیٹھ گئے۔

بقول عائشہ رضی اللہ عنہا جب سے یہ طوفان بدتمیزی اٹھا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے میرے پاس کبھی آ کر نہیں بیٹھے تھے اور ایک مہینہ گزر گیا میرے معاملے میں آپﷺ پر کوئی وحی نازل نہیں ہوئی تھی۔

بقول عائشہ رضی اللہ عنہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھتے وقت تشہد پڑھا، پھر فرمایا: ’’اما بعد! اے عائشہ! مجھے تمہارے بارے میں یہ یہ خبریں پہنچی ہیں۔ اگر تم پاک دامن ہو تو اللہ تعالیٰ بھی ضرور تمہارے پاک دامن ہونے کا اعلان کرے گا اور اگر تم سے گناہ ہو گیا ہے تو تم اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اس کے سامنے توبہ کرو۔ کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اعتراف کر لے پھر اللہ کے آگے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔‘‘

بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو پوری کر لی تو میرے آنسو خشک (قلص: ختم ہو گئے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و لااثر لابن الاثیر: جلد 4 صفحہ 100۔) ہو گئے حتیٰ کہ مجھے ایک آنسو بھی نکلنے کا احساس تک نہ ہوا۔ میں نے اپنے ابا جان سے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کا ان کو جواب دیں۔ وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! مجھے تو پتا نہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہوں؟ تب میں نے اپنی امی سے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیں۔ وہ کہنے لگیں: مجھے بھی پتا نہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہوں۔

بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: میں نو عمر لڑکی تھی۔ میں بکثرت قرآن نہیں پڑھتی تھی۔ اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہے کہ آپ نے یہ گفتگو سنی تاآنکہ وہ آپ کے دلوں میں راسخ ہو گئی اور آپ نے اس کی تصدیق کر دی، اب اگر میں آپ سے یہ کہوں میں پاک دامن ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں پاک دامن ہوں تو آپ میری بات کی تصدیق نہیں کرو گے اور اگر میں آپ کے لیے اس معاملے کا اعتراف کر لوں حالانکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو آپ ضرور میری تصدیق کرو گے۔ اللہ کی قسم! مجھے تو آپ کی مثال ابو یوسف کی بات کی طرح لگتی ہے:

فَصَبۡرٌ جَمِيۡلٌ‌ وَاللّٰهُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوۡنَ ۞ (سورۃ يوسف آیت 18)

ترجمہ: اب تو میرے لیے صبر ہی بہتر ہے۔ اور جو باتیں تم بنا رہے ہو، ان پر اللہ ہی کی مدد درکار ہے۔

بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا : پھر میں پلٹ کر اپنے بچھونے پر لیٹ گئی۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں اس وقت جانتی تھی کہ میں پاک دامن ہوں اور یقیناً اللہ تعالیٰ میری پاک دامنی کا اعلان کرے گا۔ لیکن اللہ کی قسم! میں نے یہ کبھی نہ سوچا تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے معاملے میں ایسی وحی نازل فرمائے گا جس کی تلاوت کی جائے گی اور میرے دل میں میری اتنی اہمیت نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسا کلام کرے گا جس کی تلاوت کی جائے گی۔ لیکن مجھے یہ امید ضرور تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند میں کوئی خواب دیکھیں گے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مجھے بری کر دے گا۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک نہ اٹھے اور گھر والوں سے بھی کوئی باہر نہ گیا (ما رام: یعنی جدا نہ ہوئے۔ (فتح الباری لابن حجر: جلد 8 صفحہ 68۔)

صفحہ 3 از 6