واقعہ افک اور اس کے متعلق اہم نکات کی تفاصیل - دفاعِ اہلِ…

واقعہ افک اور اس کے متعلق اہم نکات کی تفاصیل

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 6

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے جاتے۔ اس بات سے مجھے شبہ ہوتا۔ لیکن مجھے شرارت کے متعلق کچھ معلوم نہ تھا۔ ایک دن میں قدرے افاقے کے بعد ام مسطح کے ساتھ مناصع (مناصع: مدینہ کے مضافات میں کھلی جگہ جہاں لوگ قضائے حاجت کے لیے جاتے تھے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 5 صفحہ 65۔) جو ہمارے لیے قضائے حاجت کا میدان تھا، کی طرف گئی، ہم صرف راتوں رات ہی گھر سے باہر نکلتی تھیں اور یہ واقعہ ہمارے گھروں کے قریب بیت الخلاء بنانے سے پہلے کا ہے اور ہم پہلے عربوں کی طرح قضائے حاجت کے لیے باہر جاتی تھیں۔ ہمیں اپنے گھروں کے پاس بیت الخلاء بنانے سے گھن آتی تھی۔ تو میں ام مسطح کے ساتھ باہر نکلی جو ابو رہم بن عبد مناف کی بیٹی تھی اور اس کی والدہ سیدنا ابوبکر صدیق کی خالہ تھیں جو صخر بن عامر کی بیٹی تھیں اور ان کے بیٹے کا نام مسطح بن اثاثہ تھا۔ میں اور ام مسطح اپنی حاجت سے فارغ ہو کر میرے گھر کی جانب آ رہی تھیں تو ام مسطح کو اس کی چادر سے اڑنچھو لگ گیا۔ اس نے بے ساختہ کہا: مسطح ہلاک ہو جائے۔ میں نے اسے کہا تو نے نامناسب بات کی، کیا تم اس نوجوان کو گالی دیتی ہو جو بدر میں شامل تھا؟ اس نے کہا: اے بھولی بھالی لڑکی! (ہنتاہ: یعنی اے لڑکی۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر: جلد 5 صفحہ 280۔) کیا تم نے نہیں سنا جو اس نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا: اور اس نے کیا کہا؟ تب اس نے مجھے بہتان تراشوں کی بات بتائی۔ نتیجتاً میری بیماری کے ساتھ ایک اور بیماری کا اضافہ ہو گیا۔ جب میں واپس اپنے گھر پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے اور سلام کیا۔ پھر حسب معمول فرمایا تو کیسی ہے؟ میں نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے والدین کے پاس جانے کی اجازت دیں گے۔ 

بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: میں اس وقت چاہتی تھی کہ اپنے والدین کے پاس جا کر ان دونوں سے اس خبر کا یقین کروں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی، میں اپنے ماں باپ کے پاس آ گئی تو میں نے اپنی امی سے کہا: اے امی جان! لوگ کیسی باتیں کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا: اے میری بیٹی! تم اپنے اوپر بوجھ نہ ڈالو۔ کیونکہ اللہ کی قسم! جب کوئی عورت خوبصورت ہو اور اس کا خاوند اس سے محبت بھی کرتا ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں تو کم ہی ہوتا ہے کہ وہ اس کے متعلق کثرت سے باتیں نہ کریں۔

بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا : میں نے کہا: سبحان اللہ! کیا واقعی لوگ ایسی باتیں کر رہے ہیں؟

بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا! میں رات بھر روتی رہی جب صبح ہوئی نہ تو میرے آنسو تھمے اور نہ ہی میں نے پلکیں جھپکائیں اور صبح بھی میں نے روتے ہوئے کی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابی طالب اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم کو بلا بھیجا جب وحی منقطع ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں سے اپنی بیوی کی جدائی کے متعلق مشورہ کرنا چاہتے تھے۔

بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا: اسامہ بن زید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ کی برأت کا اشارہ کیا اور ان کے لیے اپنی دلی محبت کا اظہار کیا۔ اس نے کہا: اے رسول اللہ! آپ کی بیوی کے بارے میں ہم بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں جانتے۔ البتہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں ڈالی اور اس کے علاوہ اور عورتیں بہت ہیں۔ اگر آپ خادمہ سے پوچھ لیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچ سچ بتا دے گی۔

بقول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے بریرہ! کیا تو نے کوئی ایسی چیز دیکھی ہے جس نے تجھے شک میں ڈالا ہو۔‘‘ بریرہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں نے ان میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جس کی وجہ سے میں ان پر عیب لگاؤں۔

(اغمصہ علیہا: کہ میں اس کے ذریعے اس پر عیب لگاؤں۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن اثیر: جلد 3 صفحہ 386۔)

میں زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتی ہوں کہ وہ نوعمر لڑکی ہیں، اپنے گھر والوں کے گوندھے ہوئے آٹے سے بے خبر سو جاتی ہے اور بکری آکر وہ کھا جاتی ہے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی بن سلول کے خلاف مدد طلب کی۔

صفحہ 2 از 6