چھٹا شبہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

چھٹا شبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

’’ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے وہی کہا جو عروہ نے بیان کیا۔ لیکن جب کوئی چیز سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو جائے تو پھر کسی شخص کی تقلید میں سنت کو ترک کرنا جائز نہیں۔‘‘

(الفقیہ و المتفقہ للخطیب البغدادی: جلد 1 صفحہ 377۔)

علامہ معلمی یمانی (عبدالرحمٰن بن یحییٰ بن علی ابو عبداللہ المعلمی الیمانی، شیخ الاسلام، علامہ، اپنے زمانے کا ذہبی، 1313 ہجری میں پیدا ہوئے۔ المملکۃ العربیۃ السعودیۃ کے صوبہ عسیر کے قاضی مقرر ہوئے، پھر مکتبہ حرم مکی کے جنرل سیکرٹری مقرر ہوئے۔ راویوں کے حالات پر انھیں عبور حاصل تھا۔ ہمیشہ سلفی عقیدہ کا دفاع کیا، اکثر کتب ستہ اور ان کے راویوں کی تحقیق کی۔ 1386 ہجری میں وفات پائی۔ ان کی مشہور تصنیف ’’التنکیل‘‘ ہے۔

(الاعلام للزرکلی: جلد 3 صفحہ 342۔) رحمہ اللہ نے اپنی کتاب التنکیل میں سابقہ مفاہیم کے اثبات میں طویل بحث کی ہے۔ اس نے لکھا: 

اکثر لوگ ان کی تقلید کی طرف مائل ہو جاتے ہیں جن کی عظمت ان کے دلوں میں راسخ ہوتی ہے اور وہ اس میں غلو کرتے ہیں…اگر اس کی عظمت کو نہ ماننے والے زیادہ کلام کریں تو اس کے ماننے والے اپنے متبوع کی مدح و ثنا میں مبالغہ کر لیتے ہیں۔ جو اس کے پیروکاروں کو غلو پر ابھارنے کے لیے بہت موثر ہوتا ہے۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے جنگ جمل شروع ہونے سے پہلے اہل عراق سے خطاب کیا تاکہ وہ انھیں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قیادت میں بغاوت میں شامل ہونے سے روکیں۔ تو انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! بے شک وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں۔ لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہارا امتحان لیا ہے تاکہ وہ جان لے کہ تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اطاعت کرتے ہو یا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی؟‘‘

صحیح بخاری میں بواسطہ ابو مریم اسدی، عمار سے روایت ہے اور اسی طرح اس نے بواسطہ ابو وائل عمار سے روایت کی ہے۔

(صحیح لبخاری: 7100)

بقول معلمی رحمہ اللہ سیدنا عمارؓ کے اس خطبے نے زیادہ لوگوں کو متاثر نہ کیا بلکہ کچھ لوگوں نے یہ کہتے ہوئے اسے جواب دیا۔ اے عمار! ہم اس کے ساتھ ہیں جن کے جنتی ہونے کی تو نے گواہی دی ہے۔

(التنکیل للمعلمی: جلد 1 صفحہ 19)

وجہ نمبر 4:  یہ کہا جائے چلو مان لیتے ہیں کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بدکلامی کی (اللہ انھیں اپنی پناہ میں رکھے) تو فتنہ کے وقت ایسی طعن و تشنیع کرنا اس کے سینے کے بغض کی علامت ہے جو صحابہ رضی اللہ عنہم سے رکھتا ہو، وہ ہمیشہ ان کے عیوب کی گھات میں رہتا ہو اور ذرا ذرا سی باتوں کو اچکنے کا حریص ہوتا ہے۔ لیکن یہ ان لوگوں کا وتیرہ نہیں ہو سکتا جن کی تعریف اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یوں فرمائی ہے:

وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡ بَعۡدِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ۞ (سورۃ الحشر آیت 10)

ترجمہ:  اور (یہ مال فیئ) ان لوگوں کا بھی حق ہے جو ان (مہاجرین اور انصار) کے بعد آئے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ: اے ہمارے پروردگار! ہماری بھی مغفرت فرمایے، اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں کے لیے کوئی بغض نہ رکھیے۔ اے ہمارے پروردگار! آپ بہت شفیق، بہت مہربان ہیں۔

ٹھیک ہے کہ صحابہؓ کے درمیان بھی ایسے مناظر پیش آ جاتے تھے جیسے کسی بھی انسان کو اس کے بھائیوں کے ساتھ پیش آتے ہیں تو اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو عفو درگزر کا درس دیتے اور ان پر اس کا عیب نہ لگاتے۔

اس موضوع پر سب سے بہترین کلام امام ابو نعیم الاصبہانی رحمہ اللہ نے کیا ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر موجودگی میں صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان ایسے واقعات و حادثات پیش آتے رہتے تھے، لیکن جب اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان واقعات کی خبر دیتا کہ کسی نے اپنے بھائی کو جھگڑے کے دوران شدید غصے کی حالت میں کچھ بے جا الفاظ کہہ دیے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا اس پر مواخذہ نہ فرماتے اور نہ ان کی عیب جوئی کرتے۔ بلکہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عفو و صلح کا حکم دیتے، الفت باہمی کی ان کو ترغیب دلاتے، غیض و غضب کے الاؤ کو ٹھنڈا کرتے اور بتقاضائے بشریت جوش و جذبات کو سکون میں بدلتے۔ اس کی بہترین مثال وہ ہے جو دو سرداروں کے درمیان پیش آئی۔ یعنی سعد بن معاذ (سعد بن معاذ بن نعمان بن امری القیس رضی اللہ عنہ ابو عمرو الانصاری جلیل القدر صحابی تھے۔ بنو اوس کے سربراہ تھے۔ یہود بنی قریظہ کا عادلانہ فیصلہ انھوں نے ہی کیا اور جس کے فیصلے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسرت اور رضامندی کا اظہار کیا۔ جب یہ فوت ہوئے تو ان کی وفات سے عرش الہٰی تھرتھرا اٹھا یا خوشی سے جھومنے لگا۔ 5 ہجری میں وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 181۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 3 صفحہ 84۔)  اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما جو کہ دین میں بلند شان کے مالک ہیں۔ ابو نعیم اصبہانی رحمہ اللہ نے مزید مثالیں لکھنے کے بعد یوں لکھا: البتہ غیض و غضب اور شدید غصے کی حالت میں کیے گئے کلام کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا اور نہ ہی اس میں کوئی دلیل ہوتی ہے۔ 

(الامامۃ و الرد علی الرافضۃ لابی نعیم الاصبہانی: 344، 345)

اگر یہ گفتگو غیض و غضب کی حالت میں ہوئی تھی تو اس شخص کے بارے میں کیا کہنا چاہیے جو فتنہ کی تلاش میں رہتا ہے تاکہ ان کلمات کو حاصل کر لے جو فتنے کے دوران کہے گئے تاکہ ان کے ذریعے سے صحابہ رضی اللہ عنہم پر طعن و تشنیع کی جائے۔ تو یہ فتنہ پرور ہونے کی دلیل ہے اور دل کے کینے کی علامت ہے۔ اے اللہ! ہم ان ظالموں کے ایسے افعال سے تیرے آگے اپنی برأت کا اعلان کرتے ہیں۔


صفحہ 2 از 2