آٹھواں شبہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

آٹھواں شبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 350)

تو کیا یہ رافضی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قلت حیا اور سوء ادب کا طعنہ دے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس عیب سے پاک و منزہ ہیں۔ یا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ تبلیغ پر اعتراض کرو گے یا یہ کہو گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی کے راز افشا کیے۔ سوء ظن لامحدود ہے۔

نووی رحمہ اللہ نے کہا: ’’بیوی کی موجود گی میں اس طرح کی بات کرنے کا جواز ملتا ہے۔ جب اس میں کوئی مصلحت مرتب ہوتی ہو اور کسی کو اذیت پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اسلوب سے اس لیے جواب دیا کہ یہ سائل کے دل پر زیادہ اثر انداز ہو گی نیز اس حدیث میں یہ بھی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل وجوب کے لیے ہوتا ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو سائل کو جواب نہ ملا ہوتا۔

(شرح مسلم: للنووی: جلد 4 صفحہ 42)

یہی بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کہی جائے گی کہ ان کا ایسی احادیث کی روایت کا سبب مسلمانوں کے طہارت کے معاملات کی تعلیم تھا۔ اگرچہ وہ تفصیل طلب ہوں، نیز اس ضروری علم کی تحصیل میں حیا مانع نہیں، اسی لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں: انصاری عورتیں بہت اچھی ہیں، انھیں دین کو سمجھنے میں حیا مانع نہیں۔

(اس کی تخریج پیچھے گزر چکی ہے)

اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقصد وحید اس خبر کی تاکید کرنا تھا جس میں لوگوں کا اختلاف تھا اور ایسے واضح طریقے سے حدیث پیش کی کہ اس میں تاویل کی گنجائش نہ رہی۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: اَلْمَائُ مِنَ الْمَائِ ’’پانی پانی سے ہے۔ یا غسل احتلام سے ہے۔‘‘

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 343۔ یہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ جس میں ہر زمانے کے علماء میں اختلاف قائم رہتا ہے۔

اب اگر کسی دماغ میں شیطان نے بسیرا کیا ہوا ہو تو وہ سورۂ یوسف سے بھی جنسی تلذذ کشید کرے گا۔ وہ لوگ کہ جن کے ہاں نکاحِ متعہ جائز ہی نہیں، افضلیت کے درجات کا حامل ہے، وہ کس منہ سے اسلام کی پاکیزہ جنسی تعلیمات پر حرف گیری کر سکتے ہیں؟ ایسا وہی کر سکتا ہے کہ جس کے نزدیک شرم و حیا ایک بے معنیٰ چیز ہو۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسوہ بنانے کی ترغیب اور حدیث پر عمل نہ کرنے کے اندیشے کا سدباب یعنی صرف ختنے ملنے سے غسل چھوڑنے کا اندیشہ اور غسل کے لیے صرف انزال کا اعتبار کرنا اور نماز پر اس کا اثر واضح کرنا جوکہ ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے۔

ہاں! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ان مسائل میں منفرد ہونے کا دعویٰ خالص جھوٹ ہے۔ چنانچہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے روزہ دار کے بوسے لینے والی حدیث روایت کی ہے۔

(مسند احمد: جلد 6 صفحہ 320، حدیث نمبر: 2718۔ السنن الکبری للنسائی: جلد 6 صفحہ 20، حدیث نمبر: 3074۔ ابن عبدالبر نے التمھید: جلد 5 صفحہ 121 پر لکھا: اس میں ایک راوی عبداللہ بن فروخ لیس بہ باس (وہ مقبول ہے) اور البانی رحمہ اللہ نے ارواء الغلیل: جلد 4 صفحہ 83 پر لکھا اس کی سند مسلم کی شرط پر جید ہے۔ )

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے حیض کے بارے میں وہ حدیث بھی روایت کی جس میں ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک چادر میں لیٹی ہوئی تھیں۔ (صحیح بخاری: حدیث نمبر: 294۔ صحیح مسلم: حدیث 298۔)

اور میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے حائضہ کے ساتھ لیٹنے کی حدیث روایت کی۔

(اسے بخاری نے 303 اور مسلم نے 294 نمبرات سے روایت کیا۔ 

ام قیس بنت اسے بخاری نے 303 اور مسلم نے 294 نمبرات سے روایت کیا۔  رضی اللہ عنہا نے حیض کے خون کا کپڑے پر لگ جانے کے بارے میں احادیث روایت کی ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس کے سوال کا جواب بیان کیا ہے۔

(سنن ابی داود حدیث نمبر: 363۔ النسائی: جلد 1 صفحہ 154۔ سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر: 628۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 355، حدیث نمبر: 27043۔ سنن الدارمی: جلد 1 صفحہ 256، حدیث نمبر: 1019۔ صحیح ابن حبان: جلد 4 صفحہ 240، حدیث: 1395 البیہقی: جلد 2 صفحہ 407، حدیث نمبر: 4279۔ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ابی داود میں اس حدیث کو صحیح کہا

حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے اپنے شدید حیض کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ’’تم اسے روئی کے پھاہے سے بند کر دو۔‘‘

(سنن ترمذی حدیث نمبر: 128۔ سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر: 516 مسند احمد: جلد 9 صفحہ 381، حدیث نمبر: 27288۔ امام احمد: بخاری اور ترمذی رحمہم اللہ نے کہا: ’’حسن: صحیح‘‘ اور البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ترمذی میں اسے حسن کہا۔

البتہ اس رافضی کا یہ کہنا کہ ان احادیث کی روایت عائشہ رضی اللہ عنہا کی منقبت و فضیلت نہیں تو وہ ایسا اپنے حسد اور بغض کی وجہ سے کہہ رہا ہے اور ان احادیث کی روایت میں ان کی منقبت کے دو پہلو ہیں۔

1۔ اللہ تعالیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جو صفات حمیدہ و محمودہ عطا فرمائی تھیں جیسے قوت حافظہ اور امانت کے ساتھ تبلیغ۔

2۔ ان احادیث نے امت کو اس کی طہارت اور عبادت میں کتنا فائدہ دیا اور امت کی ایسی مشکلات حل کیں جن کا حل آسان نہ تھا اور یہ ایسا فضل ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے صرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حصہ میں ہی آیا۔

(غیر مطبوعہ بحث: امنا عائشۃ رضی اللہ عنہا ملکۃ العفاف لنبیل زیانی)


صفحہ 2 از 2