متعہ اور قرآن کریم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

متعہ اور قرآن کریم

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 3 از 3

فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ هو النكاح بغيه وما احل الله المتعة فی القرآن قط فمحن قال هذا من العلماء الحسن ومجاهد الى ان قال عن ابن نجيخ عن مجاهد فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ قال هو النكاح وقال الحسن فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ قال النكاح وكذا يروى عن ابن عباسؓ وقد صح من الكتاب والسنة التحريم ولم يصح التحليل من الكتاب۔

پھر صفحہ 106 پر فرمایا: ان الاستمتاع النكاح على ان الربيع بن بسرة قد روى عن ابيه ان رسول اللهﷺ قال لهم استمتعوا من هذه النساء قال الاستمتاع عندنا يومئذ التزويج ثم قال فبين ابن عباسؓ ان الاستمتاع هو النکاح

پس کہا ایک قوم نے کہ آیت سے مراد نکاحِ صحیح ہے اور متعہ کو خدا تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن میں کبھی بھی حلال نہیں فرمایا پس اس قوم سے جن علماء نے یہ بات کی کہ قرآن میں متعہ کی اباحت کا ذکر نہیں نازل ہوا وہ حسن بصریؒ ہیں اور مجاہد ہیں اور ابنِ نجیخ مجاہد سے بیان کرتا ہے اور مجاہد حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت فَمَا اسْتَمْتَعْتُم کے متعلق بیان کرتا ہے کہ ابنِ عباسؓ فرماتے تھے کہ اس سے نکاحِ صحیح مراد ہے نہ متعہ اور حسن بصریؒ نے اس آیت کے متعلق فرمایا کہ اس سے نکاح صحیح اور اسی طرح حضرت ابنِ عباسؓ سے بھی روایت موجود ہے کہ سیدنا ابنِ عباسؓ نے فرمایا کہ حرمتِ متعہ قرآن سے اور حدیثِ رسولﷺ سے ثابت ہے اور قرآن سے متعہ حلت ثابت نہیں ہوئی اور اس استمتاع سے مراد نکاح صحیح ہے علاوہ ازیں سیدنا بسرہؓ کے بیٹے ربیع سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو استمتوا  یعنی نفع اٹھاؤ ان عورتوں سے اور کہا سیدنا ربیع بن بسرہؓ کہ اس وقت جبکہ حضورﷺ نے جبکہ حکم دیا تھا متعہ کا۔ اس وقت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نزدیک متعہ سے مراد نکاح تھا پھر فرمایا کہ پس حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے استمتاع کا معنیٰ نکاح صحیح کا کیا ہے نہ کہ متعہ کا۔

فائدہ: تفسیرِ نحاس سے خوب واضح ہو گیا کہ آیت کے استمتاع سے مراد نکاح صحیح ہے نہ متعہ شیعہ۔ 

(دوم) اور یہی مذہب ہے علامہ مجاہد اور سیدنا ابنِ عباسؓ کا اور ان دونوں کے نزدیک استمتاع سے مراد نکاح ہے نہ متعہ۔

سوم: یہ بھی ثابت ہو کہ قرآن میں اباحتِ متعہ کی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی اور یہی مذہب ہے خیر امت سیدنا ابنِ عباسؓ کا ۔

13) تفسير مظہری: صفحہ 78

فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ ما انتنفعتم به منهن وتلذذتم بالجماع من النساء بالنكاح الصحيح فَآتَوْهُنَّ أُجُورَهُنَّ اى مهورهن كذا قال الحسن و مجاهد و اخرج ابنِ جرير وابن وابن منذر وابن ابى حاتم عن ابن عباسؓ قال الاستمتاع النكاح۔ 

پس آیت کا معنیٰ یہ ہوا کہ جس عورت سے تم نفع اٹھاؤ اور تلذذ جماع سے حاصل کرو نکاح صحیح کے ساتھ تو ان کے مہر ادا کرو۔ اسی طرح فرمایا حسن بصریؒ و مجاہدؒ نے اور اسی طرح اخراج کیا ہے ابنِ جریرؒ نے اور ابنِ منذرؒ نے اور ابنِ ابی حاتمؒ نے سیدنا ابنِ عباسؓ سے کہ آیت فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ سے نکاح مراد ہے نہ کہ متعہ۔

فائدہ: علامہ ابنِ تیمیہؒ اصولِ تفسیر میں فرماتے ہیں کہ قرآنِ کریم کی صحیح سے صحیح تفسیر وہی ہے جس کو مجاہد سیدنا ابنِ عباسؓ سے بیان کرے اور کی تفسیر فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مجاہدؒ نے سیدنا ابنِ عباسؓ سے نکاح کے بارے میں بیان فرمائی ہے نہ متعہ کے بالفرض کسی مفسر نے اس آیت کی تفسیر متعہ سے کر بھی دی ہو تو وہ غلط ہوگی جمہور کے مخالف ہے اور امام شافیؒ فرماتے ہیں کہ ممتوعہ عورت منکوحہ و زوجہ میں داخل نہیں ہے۔

واجمعوا انها ليست بزوجة ولا ملك يمين۔

تمام امت کا اتفاق ہے کہ ممتوعہ نہ زوجہ ہے نہ باندی ہے۔

 شیعہ علی نقی نسخ کی بحث کرتے ہوئے یہ تسلیم کرتے ہیں کہ آیت فَمَا اسْتَمْتَعْتُم منسوخ نہیں ہے اس میں تو حق بجانب ہیں مگر اس کو متعہ کے متعلق سمجھنا اس میں غریب نے غلطی کر کے ٹھوکر کھائی ہے۔


صفحہ 3 از 3