متعہ اور قرآن کریم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

متعہ اور قرآن کریم

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 2 از 3

وهذا لايت لا تدل على حل المتعة والقول بأنها نزلت فی المتعة غلط وتفسير البعض لها بذلك غير مقبول لان نظم القرآن الكريم يأباه حيث بين سبحانه تعالىٰ اولا المحرمات ثم قال عز شانہ وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ وفيه بحسب المعنىٰ يبطل تحليل الفرج وإعارته وقد قال بهما الشيعة ثم قال جل شانه مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَٰفِحِينَ وفيه اشارة الى النهی عن كون القصد مجرد قضاء الشهوة وحيه الماء واستفراغ ادعيه المنى فبطلت المتعة بهذا القيد لان مقصود المتمتع ليس الا ذلك دون التاهل والاستيلاد وحماية الذمار و العرض ثم فرغ سبحانه وتعالىٰ على النكاح قوله تعالى عز من قائل فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ وهو يحمل على ان المراد بالاستمتاع هو الوط والدخول به لا الاستمتاع بمعنى المتعة التى يقول بها الشيعه والقراة التی تنتقلون ها عمق تقدم من الصحابة شاذة۔ 

اور آیت فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ حلتِ متعہ پر دلالت نہیں کرتی اور یہ کہنا کہ متعہ کے حق میں نازل ہوئی ہے غلط ہے اور بعض مفسرین کا اس آیت کی تفسیر متعہ سے کرنا غیر مقبول ہے چونکہ نظم قرآنِ کریم کی متعہ کی تفسیر سے مانع ہے جب خود باری تعالیٰ نے اول میں محرمات کا ذکر فرمایا وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ اور آیت باعتبارِ معنیٰ کے حلتِ شرمگاہ و عاریتہ شرمگاہ کو باطل کرتی ہے اور شیعہ ان دونوں کے قائل ہیں یعنی بغیر نکاح کے، پھر خدا تعالیٰ نے فرمایا غَيْرَ مُسَٰفِحِينَ اس میں اشارہ ہے منع کرنے اس وطی سے جس سے قضاء شہوت اور مستی جھاڑنا اور منی کے برتن خالی کرنا مقصود ہو پس باطل ہو گیا متعہ اس قید سے چونکہ مقصود متعہ کرنے والے کا سوائے شہوت پرستی و مستی جھاڑنے کے اور برتن منی کے خالی کرنے کے اور کوئی نہیں ہوتا نہ کہ بیوی بنانا نہ ہی اولاد پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے پھر خدا تعالیٰ نے تفریح بٹھائی ہے نکاح پر اپنے قول پر فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ کی اور آیت فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ سے مراد وطی سے نفع اٹھانا ہے اور دخول سے نہ وہ متعہ جو شیعہ کا مقصد ہے باقی قرأة جو بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے منقول ہے۔ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وہ شاذ ہے وہ قرآن نہیں ہے لہٰذا غیر مقبول ہے۔

فائدہ:  روح المعانی کی عبارت سے دو امر ثابت ہوئے ایک یہ کہ بعض مفسرین کا آیت سے متعہ مراد لینا غلط ہے۔ 

دوم: آیت نکاحِ صحیح کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ نہ متعہ کے حق میں چونکہ متعہ میں وقتی تسکین مقصود ہوتی ہے نہ بیوی بنانا مقصود ہوتا ہے۔ کیونکہ اول ان عورتوں کا ذکر قرآنِ کریم نے کیا جن سے نکاح حرام ہے پھر وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ سے ان عورتوں کا ذکر فرمایا ہے جن سے نکاح صحیح ہے پھر طریقہ نکاح بتایا کہ نکاح میں حق مہر بھی دیا کرنا جس عورت سے فائدہ اٹھاؤ، جماع سے ساتھ نکاحِ صحیح کے۔

سوم: بتایا کہ نکاح سے شہوت رانی مقصود نہیں ہوتی اور متعہ میں یہی چیز ہی مقصود ہوتی ہے۔

7) تفسیر مناز: صفحہ 9جلد 5 مصری: 

فقال معنا لا ان يقصد الرجل احصان المرة وحفظها ان ينالها احد سواه لكن عفيفات طاهرات لا يكون المتزوج لمجرد المتمتع وسفح الماء واراقته وهو يدل على بطلان النكاح المؤقت وهو لنكاح المتعة الذی يشرط فيه الاجل۔

پس فرمایا کہ معنیٰ آیت کا یہ ہے کہ قصد کرے مرد احصان عورت کا اور اس کی عزت کی حفاظت کرے کہ اس مرد کے سوا اس کو کوئی نہ چھوئے لیکن یہ عورتیں پاک دامن عفیف ہونی چاہئیں اور نکاح کرنے والے کا مقصد صرف نفع اٹھانا ہی نہ ہو نہ ہی پانی خارج کرنا مقصود ہو اور یہ آیت نکاحِ مؤقت جس کو متعہ کہتے ہیں جس وقت مقرر ہوتا ہے اس کے باطل ہونے پر دال ہے۔

تفسير منار: صفحہ 13جلد 5: 

وهذا هو المتبار من نظم آية القرآن فانها قد بينت ما يحل من نكاح النساء فی مقابلته ما حرم فيها قبلها و فی صدرها وبينت كيفية وهو ان يكون بمال يعطى المرٔة وبان الغرض المقصود فيه الاجمان دون مجرد المتمتع بسفح الماء۔

اور یہی بات یعنی حرمتِ متعہ نظمِ قرآنی سے متبادر ہے چونکہ جن عورتوں سے نکاح حلال تھا ان کو بیان کیا چونکہ ان کے مقابل ان عورتوں کا بیان ہوا تھا جن سے نکاح حرام تھا اور پھر کیفیت نکاح بیان فرمائی کہ نکاح مال پر کرنا چاہیے اور نکاح سے مقصود احصان ہونا چاہیے نہ مجرد نفع اٹھانا۔

8) ابنِ کثیر: صفحہ 474 پر جن افراد نے فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ سے متعہ مراد لیا ہے ان کو یوں رد فرمایا کہ یہ جمہور کے خلاف ہے ولكن الجمهور على خلاف ذالك۔

فائدہ:  شیعہ علی نقی نے اپنی کتاب کے صفحہ 105 پر فرمایا کہ "وقال الجمهور ان المراد بهذا الايت نكاح المتعة" کہ اس آیت سے مراد نکاح متعہ ہے غلط ثابت ہوا جمہور کا مذہب ہے کہ آیت سے مراد نکاح صحیح ہے نہ نکاح متعہ۔

اَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ غَيْرَ مُسَٰفِحِينَ من الزوجات الى اربع اسراری ما شئتم بالطريق الشرعی۔ 

اپنے مالوں سے عورتیں طلب کریں چار تک یا باندیاں جتنی تم چاہو شرعی طریقہ سے۔

فائدہ: چار تک کی قید نے متعہ کو اڑا دیا ہے متعہ میں کوئی عدد مقرر نہیں ۔

9) تفسیر مدارک: صفحہ 170:  

فمانکحتموھن مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ اى مهورھن لان المهر تواب البضع۔

اور پھر فرمایا الا علی ازواجهم وفيه دليل علی تحریم المتعة۔

پس جسں عورت سے تم نکاح کریں ان کو ان کا مہر ادا کیا کریں چونکہ مہر ہی مقابل فرج کے ہے اور پھر فرمایا صاحبِ مدارک نے کہ اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ کی آیت سے متعہ حرام ثابت ہوتا ہے ۔

10) تفسير ابو سعود اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ من نكاح او خلوة جس عورت سے نکاح سے یا خلوت سے نفع اٹھاؤ۔

11) تفسیر بیضاوی مصری: فمن اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ من المنكوحات فَآتَوْهُنَّ أُجُورَهُنَّ ای مهورهن۔

پس جو شخص منکوحہ زوجہ سے نفع اٹھائے ان کو مہر دے دے.

12) تفسیر ابوجعفر نحاس مطبوعہ مصر: صفحہ 105:

صفحہ 2 از 3