ساتواں شبہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ساتواں شبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

’’کچھ لوگوں نے شدید غلطی کی اور ایسی روایات لائے جو ملحدین اور کاذبین نے وضع کیں۔ ان میں سے پالتو بکرا وہ صحیفہ کھا گیا جس میں پڑھی جانے والی آیت تھی اور وہ پوری ضائع ہو گئی۔ اس شخص نے امہات المؤمنین کی بری تعریف کی اور انھیں اس جرم کا مجرم ٹھہرایا کہ ان کے گھروں میں جن آیات کی تلاوت کی جاتی تھی وہ اس کی حفاظت نہ کر سکیں۔ یہاں تک کہ بکری نے کھا کر تلف کر دی۔ حالانکہ یہ ظاہری جھوٹ اور محال و ناممکن ہے، واضح ہو گیا کہ بکرے کے کھانے والی حدیث بہتان، کذب اور تہمت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے جو اس روایت کو جائز قرار دے گا اور جو اس کی تصدیق کرے گا۔‘‘

(الاحکام لابن حزم: جلد 4 صفحہ 77، 78)

بقول مصنّف: میں کہتا ہوں کہ فرض کر لیں یہ روایت اگر صحیح بھی ہو تو اس مفروضہ پر ابن قتیبہ نے ’’تاویل مختلف الحدیث‘‘ میں بحث کی ہے اور ہم نے طوالت کے اندیشے سے اسے ترک کیا ہے۔

(تاویل مختلف الاحادیث لابن قتیبہ: صفحہ 439)


صفحہ 3 از 3