ساتواں شبہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ساتواں شبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

سوم: اگر یہ بھی کہا جائے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رائے مرجوح ہے تو کہا جائے گا کہ وہ سالم والی نص حدیث پر عمل پیرا ہے اور خاص ہونے کی دلیل چاہیے اور مجتہد سے کبھی کبھی نص مخصوص مخفی ہو جاتی ہے یہ مشکل تمام ابواب علم میں پیش آتی ہے۔ لہٰذا اس مقام پر ملامت کی کوئی گنجائش نہیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر کسی نے بھی نص مخصوص واجب نہیں کی۔ اسی لیے جب سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اس مسئلہ پر بحث کر رہی تھی اور وہ کہتی تھی کہ سالم والا واقعہ سالم کے ساتھ خاص ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا اسے کہتی تھیں کیا تیرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہتر نمونہ نہیں۔ تب ام سلمہ رضی اللہ عنہا لاجواب ہو گئی اس کا مطلب یہ ہے کہ یا تو اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی رائے کو پسند کیا اور اسے اپنا لیا یا اس کے پاس اپنی رائے کی کوئی دلیل نہ رہی۔

(زاد المعاد لابن قیم: جلد 5 صفحہ 517، 518۔ معمولی ردّ و بدل کے ساتھ)

چہارم: یہ کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی اس رائے میں تنہا نہیں ہیں، بلکہ صحابہؓ و تابعینؒ میں سے متعدد افراد نے یہی رائے اختیار کی۔

(مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ: جلد 34 صفحہ 60۔ زاد المعاد لابن القیم: جلد 5 صفحہ 514)

جیسا کہ یہ رائے صحابہ میں سے حفصہ، علی، ابو موسیٰ اور سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔

(تفسیر القرطبی: جلد 3 صفحہ 163۔ سلمان ابن ربیعہ کی صحبت میں اختلاف ہے اور کہا جاتا ہے کہ ابو موسیٰ نے اس رائے سے رجوع کر لیا تھا۔ یہ قابل غور ہے۔ و اللہ اعلم۔ اور دیکھیں: المسائل الفقہیہ التی حکی فیہا رجوع الصحابۃ لخالد بابطین: صفحہ 643۔ حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری: جلد 9 صفحہ 149 اور زاد المعاد: جلد 5 صفحہ 514 حافظ ابن حجر علی رضی اللہ عنہ سے اس رائے کے ورود کو ضعیف لکھا ہے کیونکہ اس سے حارث بن اعور نے روایت کی ہے جو المحلی لابن حزم میں ہے۔ لیکن بقول محقق المحلی کی روایت جو حارث الاعور نے علی رضی اللہ عنہ سے کی ہم اس پر تبصرہ نہیں کرتے بلکہ ہمارے پیش نظر وہ روایت ہے جو مصنف عبدالرزاق میں ہے اور اس کی تخریج آگے آ رہی ہے۔

اور یہ رائے عروہ بن زبیر اور عبداللہ بن زبیر سے بھی منقول ہے اور یہی رائے عطاء، قاسم بن محمد اور لیث بن سعد کی بھی ہے۔

پنجم: یہ کہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر یہ قول اختیار کرنے کی وجہ سے طعن و تشنیع کرنے والوں کی رسوائی اس حقیقت سے واضح ہوتی ہے کہ متعدد علماء نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا اس قول کو ترجیح دینے کی دو وجوہات ذکر کی ہیں، ان دو میں سے ہم طوالت کے خوف سے صرف ایک رائے کو مختصر طور پر تحریر کرتے ہیں۔ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ اس قول کے دلائل تحریر کرتے ہیں جس کے مطابق رضاعت کبیر سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔ ہم اللہ کے نام پر گواہی دیتے ہیں جس پر ہمیں قطعی یقین ہے کہ ہم قیامت کے دن اس سے ملاقات کریں گے۔ یہ کہ ام المؤمنین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ستر کو اس شخص کے لیے مباح نہیں کرنا چاہتیں جس کے لیے آپ کا ستر کھولنا مباح نہ ہو اور نہ ہی اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ستر کو صدیقہ کائنات کے ہاتھوں حلال کروانا چاہا جس کی برأت ساتویں آسمان سے نازل کی۔ بے شک اللہ سبحانہ نے اس معزز ہستی اور محفوظ و محیط چراگاہ اور بلند شان کی حفاظت مکمل طور پر کی ہے اور اس کی حفاظت و حمایت اور دفاع اپنی وحی اور اپنے کلام کے ذریعے کیا ہے۔

(زاد المعاد لابن القیم: جلد 5 صفحہ 519)

میں کہتا ہوں علم اصول میں امر خارجی کے ذریعے ترجیح معروف ہے اور اس قول کی ترجیح کے دلائل سو کے قریب ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ دو میں سے ایک خبر کا تقاضا ہے کہ منصب صحابہؓ سے چشم پوشی کی جانی چاہیے۔

(المستصفی فی علم الاصول للغزالی: صفحہ 368)

بقول مصنف من جملہ یہ مسئلہ بھی اس اصول میں شامل ہے۔

ششم: یہ قول سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ان کا ایسا ہی فتویٰ حافظ عبدالرزاق نے اپنی ’’مصنف‘‘ میں اور اس کی سند کے ساتھ علامہ ابن حزم نے ’’المحلی‘‘ میں درج کیا ہے۔

(مصنف عبدالرزاق:جلد 7 صفحہ 461 اور ابن حزم نے اسے صحیح کہا۔ الاعراب عن الحیرۃ و الالتباس: جلد 2 صفحہ 831، المحلی: جلد 10 صفحہ 187۔)

اس بنیاد پر یا تو یہ رائے درست ہے کیونکہ روافض کے عقائد کے مطابق یہ امام معصوم علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ یا یہ قول غلط ہے یہ کہنے سے شیعوں کا ائمہ کو معصوم کہنے کا عقیدہ باطل ہو جائے گا اور ان کا عظیم اصول کھوکھلا ہو جائے گا۔ تو ان کے لیے ان دو اقوال سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں۔ سوائے اس کے کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے اور وہ داخل ہونے والا نہیں۔

ہفتم: بکری کے کھانے والا اضافہ ابن ماجہ نے محمد بن اسحق، بواسطہ عبداللہ بن ابی بکر، بواسطہ عمرہ، عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا۔

(سنن ابن ماجہ: حدیث نمبر: 1944)

ابن اسحاق نے اپنی روایت میں اس اضافے کے ذریعے متعدد ثقات کی مخالفت کی جیسے مالک اور یحییٰ بن سعید وغیرہ۔ لہٰذا یہ اضافہ منکر ہے۔

حافظ جورقانی (حسین بن ابراہیم بن حسین ابو عبداللہ جورقانی، امام، حافظ، ناقد، علم حدیث میں متعدد کتب تصنیف کیں۔ اس کی مشہور تصنیف ’’الموضوعات من الاحادیث المرفوعات‘‘ ہے۔ 543 ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 20 صفحہ 177۔ الاعلام للزرکلی: جلد 2 صفحہ 230۔) نے ابن ماجہ کی سند کے ساتھ اپنی کتاب ’’الاباطیل و المناکیر‘‘ میں روایت کی اور کہا یہ روایت باطل ہے اس سند میں محمد بن اسحق متفرد ہے اور وہ ضعیف الحدیث اور اس سند میں اضطراب بھی ہے۔

(الاباطیل و المناکیر للجورقانی: جلد 2 صفحہ 184۔ اور محمد بن اسحاق ضعف کے درجے تک بھی نہیں پہنچتا اس کے حالات میں اس پر جرح ملاحظہ کریں۔ 

بقول مصنف (سیرۃ عائشہ رضی اللہ عنہا ) اس اضطراب کی طرف حافظ ابو الحسن دارقطنی نے کتاب ’’العلل‘‘ میں اشارہ کیا ہے۔

(العلل للدارقطنی: جلد 15 صفحہ 153)

جبکہ حافظ ابو محمد بن حزم رحمہ اللہ تو اس سے بھی آگے نکل گئے۔ وہ لکھتے ہیں:

صفحہ 2 از 3