ساتواں شبہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

ساتواں شبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

’’بڑی عمر میں رضاعت کا مسئلہ اور اس مسئلہ میں روافض کے مکر و فریب کے بارے میں تنبیہات۔‘‘

بڑی عمر میں رضاعت کا مسئلہ وہ مسئلہ ہے جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بھی اختلاف واقع ہوا اور ان کے بعد سلف اور خلف امت میں بھی یہی اختلاف جاری ہے۔ فریقین کے دلائل و مفاہیم میں طویل تنازع برپا ہے اس میں سے کئی فروعی مسائل اخذ ہوتے ہیں جن پر بحث و تحقیق مفید ہے لیکن ہمارا مقصد یہاں تمام مسئلہ کی تحقیق او راجح نکالنا نہیں۔ تاہم ہم نے اسے مستقل مسئلے کے طور پر اس لیے اہمیت دی ہے تاکہ روافض کی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق سوچی سمجھی سازش کو بے نقاب کیا جائے۔ تو ہم پہلے روافض کی آراء کا خلاصہ تحریر کریں گے اس کے بعد ان کے مکر و فریب کے تانے بانے کو ادھیڑیں گے۔

مرتضیٰ عسکری رافضی نے اپنی کتاب ’’احادیث ام المومنین عائشہ‘‘ میں رضاعت کبیر کے مسئلہ پر طویل کلام کیا ہے اور اس میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی رائے کا تذکرہ بھی کیا ہے، چنانچہ ہمیں بھی اسی سے غرض ہے ہم امی جان عائشہ کی رائے کی ایسی توجیہ پیش کریں گے جسے ہر عقل سلیم اور منصف مزاج بسر و چشم قبول کرے گا۔

(احادیث ام المومنین عائشۃ لمرتضی العسکری: جلد 1 صفحہ 345، 359)

مرتضیٰ عسکری لکھتا ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سوال کرنے والوں سے ملاقات کی محتاج تھیں اور گھمبیر سیاسی مسائل میں گھر گئی تھی۔ شاید یہ دو اسباب تھے جن کی وجہ سے اس نے سالم مولی ابی حذیفہ (سالم بن معقل ابو عبداللہ مولی ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ سابقین اولین میں سے تھے۔ کبار قراء صحابہؓ میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ 12 ہجری میں وفات پائی۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 169۔ الاصابۃ لابن حجر: جلد 3 صفحہ 13۔) کی رضاعت والی حدیث کی تاویل کر لی اور یہ کہ سیدہ عائشہ کی رائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام زوجات کی احادیث کے خلاف ہے۔

(آئندہ صفحات میں اس بہتان کی تردید ہے کیونکہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی عائشہ رضی اللہ عنہا کی رائے کی تائید و حمایت کی ہے)۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس مشکل کا حل اس طرح نکالا کہ ایک آیت نکالی جو اس کی رائے کی تائید کرتی ہے اور فتویٰ دے دیا کہ حرمت رضاعت پانچ بار دودھ پلانے سے ثابت ہو جاتی ہے اور جس آیت میں دس بار دودھ پلانے سے حرمت ثابت ہونے کی بات ہے اس کا جواب یہ دیا کہ آیت رجم اور دس بار رضاعت سے حرمت والی آیت اتری اور وہ صحیفہ میرے بستر کے نیچے تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو ان کی وفات کی وجہ سے ہماری توجہ ادھر ہوئی تو پالتو بکرا آیا اور وہ صحیفہ کھا گیا۔

یہ نہایت خطرناک تدلیس اور سازش کی تخطیط ہے اس کی آڑ میں وہ جو مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے وہ یوں ہیں:

1۔ یہ کہ اپنی رائے کو راجح بنانے کا مأخذ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سیاسی مأخذ ہے۔

2۔ یہ کہ اس وجہ سے اس نے روایات اور احادیث وضع کیں اور ان کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر دی تاکہ اسے اپنی رائے کی حمایت مل جائے جس طرح کہ ابو ریہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پر یہی تہمت لگائی۔

(عجیب بات ہے کہ ابو ریہ نے اس مرتضیٰ عسکری کی کتاب کی تقریظ لکھی ہے اور ابو ہریرہ و عائشہ رضی اللہ عنہما کثرت سے روایت کرنے والوں میں سے ہیں اور اس طرح کی تہمتوں کا ان دونوں کو نشانہ بنانے سے اسلام کی اکثر احادیث ضائع ہو جائیں گی۔ لیکن علامہ معلمی رحمہ اللہ نے اپنے زمانے کے علماء و عامۃ المسلمین کی طرف سے یہ قرض چکا دیا اور ابو ریہ کا بھرپور رد کیا۔ اب مرتضی کے جھوٹ کا پول کھولنا باقی ہے جو اس نے ام المؤمنینؓ پر بہتانات لگائے ہیں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ علماء اور طلاب علم کو اس کی توفیق دے۔

3۔ یہ کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے مخالف قول، اس کے بقول، کی تاویل کرتی ہیں۔

4۔ یہ کہ وہ سنت کی محافظ نہیں۔

یہ تمام بہتانات ہیں ہر زمانے کے صالحین نے ان بہتانات کا جواب دیا ہے اور امہات المؤمنین کو حق پر ثابت کیا اور آئندہ صفحات میں مرتضی کی موشگافیوں کا ردّ کیا جائے گا۔

اول: مرتضیٰ کے قول کا مفہوم یہ ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ رائے فتنہ (قتل عثمان رضی اللہ عنہ ) کے بعد قائم کی۔ یہ سراسر غلط بات ہے کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان اختلاف اس سے پہلے بھی موجود تھا۔ جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف رائے منسوب کی جاتی ہے۔

(مصنف عبدالرزاق: جلد 7 صفحہ 458 میں آراء الصحابہ و التابعین کامطالعہ کریں)

یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے ظاہر ہوئی۔ اس طرح مرتضیٰ نے جو توجیہ پیش کی ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو سوال کرنے والوں سے ملاقات کی ضرورت تھی یا پیش آنے والے فتنوں کا اس کی رائے پر اثر تھا۔ درج بالا بحث سے اس کی یہ رائے اور توجیہ ختم ہو گئی۔

دوم: پانچ بار رضاعت سے حرمت کے ثبوت والی روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں صحیح مسلم میں موجود ہے۔ قرآن میں دس بار رضاعت سے حرمت کا ثبوت نازل ہوا تھا۔ پھر ان میں سے پانچ بار رضاعت منسوخ ہو گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وفات پائی تو قرآن میں ان کی تلاوت کی جاتی تھی۔

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 1452۔)

یہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے۔ جہاں تک بکری یا بکرے کے آنے اور صحیفہ کھانے کا کا قصہ ہے اس پر گفتگو آئندہ صفحات میں ہو گی۔

صفحہ 1 از 3