تیسرا شبہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تیسرا شبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:’’ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے عمل میں تعلیم بالفعل کے مستحب ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ یہ طریقہ دل پر زیادہ گہرا اثر کرتا ہے اور جب سوال کیفیت اور کمیت دونوں پر محمول ہے تو ان دونوں کے لیے عمل ایسا کیا گیا جس میں ان کے سوال کے دونوں اجزاء کا جواب دیا گیا۔ پانی بہانے سے کیفیت کا جواب مل گیا اور صاع برابر پانی پر اکتفاء کرنے سے کمیت کا علم ہو گیا۔‘‘

(فتح الباری، لابن حجر: جلد 1 صفحہ 365)

تو غور کا مقام ہے کہ جب عقلِ انسانی اس پستی میں جا گرے کہ جہاں بعض لوگ ہر فضیلت کو رذالت و فضاحت کہنے لگیں اور حسنِ تعلیم کو سوء ادب کہیں، سائل کی مکمل تسلی و تشفی کو قلت حیا سے تعبیر کریں اور شرفِ علم کو ایسی برائی کہیں جسے آدمی بیان کرنے سے قاصر ہو تو پھر دل، ذہن اور عقل تام کی کونسی چیز باقی بچتی ہے؟


صفحہ 4 از 4