تیسرا شبہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تیسرا شبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

(سنن ترمذی: حدیث نمبر: 19۔ سنن النسائی: جلد 1 صفحہ 42۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 95، حدیث نمبر: 24683 مسند ابی یعلیٰ جلد 8 صفحہ 12۔ صحیح ابن حبان: جلد 4 صفحہ 290، حدیث نمبر: 1443 و 4514۔ بیہقی: جلد 1 صفحہ 105، حدیث نمبر: 526۔ ترمذی نے کہا حسن صحیح ہے۔ عبدالحق اشبیلی نے ’’الاحکام الصغریٰ‘‘ حدیث نمبر: 103 میں اس کی سند کو صحیح کہا اور ابن قدامہ نے الکافی جلد 1 صفحہ 52 میں حدیث کو صحیح کہا اور نووی نے ’’المجموع‘‘ جلد 2 صفحہ 101، پر حدیث کو صحیح کہا۔ ابن دقیق العید نے ’’الامام‘‘ جلد 2 صفحہ 537، میں کہا اس حدیث کے سب راوی صحیحین کی شرط پر ثقہ ہیں اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ترمذی میں اسے صحیح کہا۔ 

مثلاً ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس عورتیں اکٹھی ہوتیں اور وہ انھیں نماز کی امامت کرواتیں ۔

(مصنف عبدالرزاق: جلد 3 صفحہ 140۔ حجیرہ بنت حصین سے مروی ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ: جلد 2 صفحہ 88۔ ام حسن سے مروی ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے تمام المنۃ: 154 میں کہا اس کی سند صحیح ہے اور اس کے سب راوی معروف ثقات ہیں جو شیخان کے راویوں سے ہیں ۔ سوائے ام حسن کے)یا ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آ جاتی تھیں۔

(یہ حدیث عبدالرزاق نے روایت کی: 5087۔ حاکم: جلد 1 صفحہ 320۔ بیہقی: جلد 1 صفحہ 408، حدیث نمبر: 1998 پر روایت کی۔ علامہ ذہبی نے کہا: اس کی سند میں ایک راوی لیث کمزور ہے۔)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے گھرانے علم، عبادت اور فقہ کے گھر تھے۔ وہ سائلین سے دُور نہیں تھے، یا راہنمائی کے لیے آنے والوں سے دُور نہیں تھے۔ وہ ایسے معاشرے میں تھے جس میں علم کی کرنیں چہار سو پھیلی ہوئی تھیں اور وہ دین سے محبت کرنے والا معاشرہ تھا اور خیر و ہدایت اس کی منزل مقصود تھی۔

جب یہ ثابت ہو چکا اور یہی صحیح ہے کہ ہماری امی جان شریعت اور تفہیم دین کے لحاظ سے ایک بلند مقام کی مالک تھیں اور جیسا کہ ہمیں معلوم ہو چکا ہے وہ شرم و حیا او رعفت و عصمت کا پیکر تھیں ہم نے اس روایت کے وہی معانی بیان کیے ہیں جو اس ذات کریمہ کو لائق تھے اور اس خباثت اور غلاظت سے ہمیں کوئی واسطہ نہیں جو روافض اور ان کے ہم نوا اپنے بیمار دلوں اور ذہنوں کی وجہ سے پھیلاتے رہتے ہیں کہ وہ ایک ایسی عورت تھی جو غیر محرم مردوں کے سامنے کپڑے اتار کر غسل کرتی تھیں۔ شرم و حیا اور ستر و حجاب کی اسے کوئی ضرورت نہ تھی۔ ایسی رذالت تو عام مومن عورت کو بھی زیب نہیں دیتی جو پاک دامن طاہرہ طیبہ اور تقویٰ کی پیکر، ہماری امی جان ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ جاہل، ظالم پھیلاتے رہتے ہیں۔

ششم: وہ رافضی اپنی ہفوات جاری رکھتے ہوئے لکھتا ہے: وہ لوگ دین سیکھنے کے لیے اس کے باپ خلیفہ کے پاس کیوں نہیں جاتے تھے اور وہ ان کو تعلیم کیوں نہیں دیتے تھے؟

ہم عقل کی کمزوری اور فہم کی کجی سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔

یہ حقیقت تو عقلاً و شرعاً سب کو معلوم ہے کہ سائل سوال اسی شخص سے کرتا ہے جو اسے اچھی طرح جواب دے سکے اور سوال کی جزئیات کو سب سے زیادہ جاننے والا ہو۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی کیفیت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے زیادہ کون جان سکتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین اور سب سے زیادہ جاننے والی ہماری امی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی ہیں، تو مثبت رائے یہی ہو سکتی ہے کہ یہ سوال ہماری امی عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا جائے۔ پھر ہماری امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کرنے سے کیا یہ لازم آتا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا علم ناقص تھا۔ اس لیے سائل نے اس سے نہ پوچھا اور اس کی بیٹی کی طرف متوجہ ہوا۔ اور کیا جس کسی عالم فاضل سے کوئی علمی جزو فوت ہو جائے تو کیا یہ اس کے علم، قدر اور جلالت میں کمی تصور کی جائے گی۔ نیز یہ اس وقت ہے جب یہ تسلیم کر لیا جائے اصل میں کوئی چیز اس سے رہ گئی؟

پھر یہ سوال بھی ضروری ہے کہ کیا امت پر واجب ہے کہ اپنے سب مسائل صرف خلیفہ سے ہی پوچھے!

ہفتم: جب سیاق روایت، اس کے معنیٰ سائلین کی طبیعت اور اس گھر کے ماحول جس میں سے یہ روایت صادر ہوئی ہے اور اس معاشرے کے ماحول جو اس کے اردگرد ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی کیفیت جاننے کے لیے سوال کرنے والوں کو اپنی امی جان کے طریقے کے متعلق ہم نے پوری وضاحت کر دی ہے۔ جب ہم اس بحث سے فارغ ہوئے تو ہمیں اس رافضی مصنف کے سینے میں کھٹکنے والی خلش کا جواب دینے کی ضرورت محسوس ہوئی، کیونکہ وہ کہتا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے زبانی غسل کا طریقہ بتانے پر کیوں نہ اکتفا کیا اور عملی طور پر کیوں بتانا ضروری سمجھا؟

اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں بے شک ام المؤمنین رضی اللہ عنہا امت کی سب سے بڑی خیرخواہ تھیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلیم بالفعل تعلیم بالقول سے زیادہ دل پر اثر کرتی ہے اور ہماری امی ایک ماہر اور مکمل فقیہہ ہونے کے اعتبار سے اپنے بھائی اور بھانجے کے اشکال کو زیادہ دیر نہیں دیکھ سکتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے لیے کتنا پانی استعمال کرتے اور کس طرح غسل کرتے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس اشکال کو جڑ سے اکھاڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ان دونوں کو بالفعل غسل کر کے دکھا دیا اور صرف زبانی بتانے پر اکتفا نہ کیا۔ نیز سوال صرف کیفیت غسل کے بارے میں نہ تھا بلکہ سوال کیفیت اور کمیت (مقدار) دونوں کے بارے میں ایک ساتھ تھا۔ چنانچہ اس ذات شریف نے اپنے بدن پر پانی انڈیلنے سے پہلے ان دونوں کے آگے پردہ لٹکایا۔ تاکہ خیرخواہی بھی مکمل ہو اور تعلیم بھی کمال کی ہو اور ان کی عقل کی تکمیل کو داد بھی ملے، اس سے ان منصف مزاج قارئین و سامعین کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صدیقہ بیوی رضی اللہ عنہا سے احادیث سن کر محفوظ کرتے ہیں۔

شاید امام بخاری رحمہ اللہ کا اپنی صحیح الجامع میں یہ باب اس عنوان سے باندھنے میں یہی راز ہے۔ چنانچہ انھوں نے باب باندھا: ’’بَابُ الْغُسْلِ بِالصَّاعِ وَ نَحْوِہٖ‘‘ ایک صاع جتنے سے غسل کا بیان۔

(صحیح بخاری: کتاب الغسل: باب 3)

صفحہ 3 از 4