تیسرا شبہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تیسرا شبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

چنانچہ یوسف البحرانی ( یوسف بن احمد بن ابراہیم الدرازی البحرانی امامیہ شیعہ کا فقیہ شمار ہوتا ہے۔ 1107 ہجری میں پیدا ہوا۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’الحدائق الناضرۃ‘‘ اور ’’انیس المسافر‘‘ زیادہ مشہور ہیں۔ 1186 ہجری میں فوت ہوا۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 8 صفحہ 215) نے کہا معاویہ بن عمار سے دو سندوں کے ساتھ روایت ہے، ان میں سے ایک صحیح ہے اور دوسری حسن ہے جو صحیح کے برابر ہے۔ اس نے کہا میں نے ابو عبداللہ علیہ السلام سے پوچھا کیا غلام اپنی مالکن کے بال اور پنڈلی دیکھ سکتا ہے؟ اس نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں اور عبدالرحمٰن بن ابی عبداللہ نے ابان بن عثمان سے صحیح اور معتمد سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ میں نے ابو عبداللہ علیہ السلام سے غلام کے بارے میں پوچھا کیا وہ اپنی مالکن کے بال دیکھ سکتا ہے؟ اس نے کہا: کوئی حرج نہیں۔

(الحدائق الناضرۃ لیوسف البحرانی: جلد 23 صفحہ 69)

شیعہ کے بیشتر علماء نے بھی یہی کہا۔

(مستند للنراقی: جلد 16 صفحہ 53۔ الکافی: للکلینی: جلد 5 صفحہ 531۔ وسائل الشیعۃ للحر العاملی: جلد 20 صفحہ 223۔ مستمسک العروۃ لمحسن الحکیم: جلد 14 صفحہ 43 )

یہ بالکل واضح ہے کہ مالکن مکاتب کی تمام قسطیں وصول کرنے سے پہلے پہلے اس سے حجاب کرنے کی پابند نہیں ہے۔ چنانچہ اس اصول کی بنا پر شیعوں کے پاس اس شبہے کی کوئی دلیل نہیں۔ ان کی اپنی کتابیں ہی ان کا رد کرتی ہیں۔

دوم: متفق علیہ حدیث میں بھی ایسی کوئی بات نہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مردوں سے پردہ نہ کرتی تھیں۔ چنانچہ راویٔ حدیث ابو سلمہ: یہ عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن عوف ہیں۔ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی بھانجا ہے۔ ام کلثوم بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہا نے اسے دودھ پلایا ہے۔ اس رشتہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس کی خالہ ہیں اور دوسرا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی بھائی ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے۔ چنانچہ دونوں آدمی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے محرم ہیں۔

قاضی عیاض رحمہ اللہ نے کہا: حدیث کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سر دھونے کی کیفیت دیکھی اور جسم کا بالائی حصہ یعنی چہرہ وغیرہ دیکھا جو محرم کے لیے حلال ہے ان دونوں میں سے ایک عائشہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی بھائی تھا، کہا گیا ہے اس کا نام عبداللہ بن یزید ہے اور ابو سلمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی بھانجا تھا۔ اسے ام کلثوم بنت ابی بکر نے دودھ پلایا تھا۔

(اکمال المعلم للقاضی عیاض: جلد 2 صفحہ 163)

حافظ ابن رجب (عبدالرحمن بن احمد بن رجب ابو الفرج دمشقی حنبلی، امام، حافظ، حجت، فقیہ، معتمد علیہ۔ 726 ہجری میں پیدا ہوا فنون حدیث کا ماہر، اصولی، عابد، زاہد اور صاحب ورع تھا۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’جامع العلوم و الحکم‘‘ اور ’’فتح الباری شرح صحیح البخاری‘‘ زیادہ مشہور ہیں۔ 795 ہجری میں فوت ہوا۔ (ذیل تذکرۃ الحفاظ لابی المحاسن: صفحہ 367۔ انباء الغمر لابن حجر: جلد 1 صفحہ 460)رحمہ اللہ نے کہا: بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ابو سلمہ نابالغ لڑکا تھا اور دوسرا عائشہ کا رضاعی بھائی تھا۔

(فتح الباری لابن رجب: جلد 1 صفحہ 249)

جس طرح رافضیوں نے ہولناکی ظاہر کی ہے۔ وہاں مردوں کا جمگھٹا نہیں تھا۔ ان دونوں میں سے ایک نوعمر لڑکا اور دوسرا عائشہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی بھائی تھا، کوئی غیر نہ تھا۔

لہٰذا حدیث میں روافض کے لیے قطعاً کوئی دلیل نہیں۔ و اللّٰہ تعالیٰ اعلم۔

سوم: رافضی شیعہ کہتا ہے: کون ہے جو غسل کی کیفیت سے واقف نہ ہو اور اضطراری حالت میں خصوصی طور پر عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھنے کے لیے چلا گیا؟

یہ رافضی اپنے دل کے مرض کو بھول گیا کہ سوال مطلق طور پر غسل کی کیفیت کے بارے میں نہ تھا۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی کیفیت کے بارے میں تھا اور یہ ایسا عمل ہے جو بہترین طور پر وہی جانتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسرار سے واقف ہو اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں اور ان میں سے سب سے زیادہ عالمہ اور فقیہہ مطلق طور پر باتفاق علماء ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔

چہارم: کیا کوئی عقل مند کہہ سکتا ہے کہ جب ہماری امی جان نے اپنے بھائی اور بھانجے کو تعلیم دینا چاہی تو اپنے کپڑے اتار دئیے اور انھوں نے کپڑوں کے بغیر غسل کیا اور کیا غسل کا طریقہ بتلانے کے لیے کپڑے اتارنا ضروری ہے؟ اور کپڑے اتارنے کے لیے حجاب لینا شرط نہیں؟ بلکہ ہماری امی جان نے پردہ پوشی میں مبالغہ کیا کہ جب پانی جسم پر بہایا جائے گا تو کپڑے بدن کے اوصاف بیان کریں گے اور کپڑوں کے جسم کے ساتھ چپکنے کی وجہ سے تمام بدن نمایاں ہو گا۔لہٰذا انہوں نے درمیان میں حجاب کر لیا۔

پنجم: کیا شیعہ کا اعتقاد یہ ہے کہ امہات المؤمنین کے گھر میں وحشت کے ڈیرے تھے نہ کوئی ان کو ملنے کے لیے جاتا اور نہ ہی مسلمان مرد و زن علم حاصل کرنے کے لیے وہاں جاتے اور نہ اپنے دین کے احکام سیکھنے اور ان کے متعلق فتویٰ لینے کے لیے وہاں جاتے تھے؟ بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام گھر ہر وقت فتویٰ پوچھنے والے لوگوں سے بھرے رہتے۔ وہ سوال کرنے جاتے اور عورتیں امہات المؤمنین کے پاس جاتیں تاکہ دین میں تفقہ حاصل کریں اور ہماری امی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تمام مسلمانوں کا ماویٰ و ملجا تھیں کیونکہ ان کے پاس حدیث کا علم وافر تھا اور وہ ذہانت و فطانت کا منبع تھیں۔

اسی طرح ہماری یہ امی جان عورتوں کو ایسے احکام کی تبلیغ بھی کرتی تھیں کہ مردوں کو ان احکام کی تبلیغ کرنے سے حیا ان کے آڑے آتی تھی۔ کیونکہ ہماری امی جان اپنی عفت و عصمت میں ہر لحاظ سے مکمل اور بلند اخلاق کا اعلیٰ نمونہ تھیں۔

یہ سیدہ معاذہ ہیں جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث روایت کرتی ہیں کہ تم عورتیں اپنے خاوندوں کو پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دو کیونکہ مجھے ان کو کہتے ہوئے شرم آتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کیا کرتے تھے۔

صفحہ 2 از 4