آیات قرآنی کے اعتبار سے
علی محمد الصلابیب: آیات قرآنی کے اعتبار سے:
قرآن کریم کی آیات سے اس بات کی تاکید اور تائید ہوتی ہے کہ بیویاں اہل (گھر والوں ) میں داخل ہیں۔ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے قصہ میں یہ دلیل ہے کہ جب اللہ عزوجل کے فرشتے ابراہیم کے پاس بشارت لے کر آئے تو اللہ سبحانہ نے سیاق کلام میں فرمایا:
وَامۡرَاَ تُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتۡ فَبَشَّرۡنٰهَا بِاِسۡحٰقَ وَمِنۡ وَّرَآءِ اِسۡحٰقَ يَعۡقُوۡبَ ۞ قَالَتۡ يٰوَيۡلَتٰٓى ءَاَلِدُ وَاَنَا عَجُوۡزٌ وَّهٰذَا بَعۡلِىۡ شَيۡخًا اِنَّ هٰذَا لَشَىۡءٌ عَجِيۡبٌ۞ قَالُوۡۤا اَتَعۡجَبِيۡنَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ رَحۡمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيۡكُمۡ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ اِنَّهٗ حَمِيۡدٌ مَّجِيۡدٌ ۞ (سورۃ هود آیت 71، 72، 73)
ترجمہ: اور ابراہیم کی بیوی کھڑی ہوئی تھیں، وہ ہنس پڑیں، تو ہم نے انہیں (دوبارہ) اسحاق کی، اور اسحاق کے بعد یعقوب کی پیدائش کی خوشخبری دی۔ وہ کہنے لگیں: ہائے! کیا میں اس حالت میں بچہ جنوں گی کہ میں بوڑھی ہوں، اور یہ میرے شوہر ہیں جو خود بڑھاپے کی حالت میں ہیں؟ واقعی یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ فرشتوں نے کہا: کیا آپ اللہ کے حکم پر تعجب کر رہی ہیں؟ آپ جیسے مقدس گھرانے پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہی برکتیں ہیں، بیشک وہ ہر تعریف کا مستحق، بڑی شان والا ہے۔
چنانچہ اللہ عزوجل نے اہل البیت کا لفظ فرشتوں کی زبانی ابراہیم علیہ السلام کی بیوی کے لیے بولا، اس کا کوئی دوسرا مفہوم نہیں اور اس بات کا اعتراف و اقرار علماء شیعہ میں سے طبرسی (فضل بن حسن بن فضل ابو علی طبرسی مفسر لغوی فرقہ امامیہ کے علماء میں سے ہے۔ اس کی تصنیفات ’’مجمع البیان فی تفسیر القرآن و الفرقان‘‘ اور ’’مختصر الکشاف‘‘ ہیں۔ 548 ہجری میں فوت ہوا۔ (الاعلام للزرکلی: جلد 5 صفحہ 148) نے (مجمع البیان)میں کیا۔ کاشفی نے ’’منہج الصادقین‘‘ میں کیا۔
کاشفی نے ’’منہج الصادقین‘‘ میں کیا۔
اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کے قصے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَلَ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ اٰنَسَ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا۞ (سورۃ القصص آیت 29)
ترجمہ: ’’پھر جب موسیٰ نے وہ مدت پوری کردی اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلا تو اس نے پہاڑ کی طرف سے ایک آگ دیکھی۔‘‘
اس آیت میں اہل موسیٰ سے مراد ان کی بیوی ہے اور شیعہ کا بھی یہی مذہب و عقیدہ ہے جیسا کہ طبرسی نے سورہ النحل کی تفسیر میں کہا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اِذۡ قَالَ مُوۡسٰى لِاَهۡلِهٖۤ (سورة النمل آیت 7 )
ترجمہ: ’’یعنی جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا۔‘‘
یعنی ان کی بیوی اور وہ شعیب علیہ السلام کی بیٹی تھیں۔ (مجمع البیان للطبرسی: جلد 4 صفحہ 211۔ تفسیر القمی: جلد 2 صفحہ 139۔ نور الثقلین للعروس الحویزی: منہج الصادقین للکاشانی۔)
بالکل اسی اسلوب اور اسی معنیٰ میں اس وقت بھی اہل البیت کا لفظ استعمال کیا گیا جب سورۂ احزاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا تذکرہ کیا گیا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا:
اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 33)
ترجمہ: اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔
تو اس آیت میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے خطاب کیا گیا ہے اور خصوصی طور پر اس سے پہلے جو آیات ہیں اور اس کے بعد جو آیات ہیں ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا تذکرہ ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے شروع ہوتی ہیں:
يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ ’’اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دے۔‘‘
یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ ’’
ترجمہ: اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخری گھر کا ارادہ رکھتی ہو۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے مکرر ارشاد فرمایا
يَانِسَاءَ النَّبِيِّ: اے نبی کی بیویو! ‘‘
پھر خصوصی طور پر انھیں مخاطب کرتا ہے: وَمَنْ يَقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَرَسُولِهِ
ترجمہ: ’’اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے گی۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ انھیں مخاطب کرتا ہے:
يَآنِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ
ترجمہ:’’اے نبی کی بیویو! تم عورتوں میں سے کسی ایک جیسی نہیں ہو۔‘‘
اور اس کے بعد فرماتا ہے:
وَقَرۡنَ فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى وَاَقِمۡنَ الصَّلٰوةَ وَاٰتِيۡنَ الزَّكٰوةَ وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 33)
ترجمہ: اور اپنے گھروں میں قرار کے ساتھ رہو اور (غیر مردوں کو) بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو، جیسا کہ پہلی بار جاہلیت میں دکھایا جاتا تھا اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو۔ اے نبی کے اہل بیت! (گھر والو) اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور رکھے، اور تمہیں ایسی پاکیزگی عطا کرے جو ہر طرح مکمل ہو۔
‘‘پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے دوبارہ خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے:
وَاذۡكُرۡنَ مَا يُتۡلٰى فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالۡحِكۡمَةِ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيۡفًا خَبِيۡرًا ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 34)
ترجمہ: ’’اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جن آیات اور دانائی کی باتوں کی تلاوت کی جاتی ہے انھیں یاد رکھو۔ بے شک اللہ بہت باریک بین اور ہر بات سے باخبر ہے۔‘‘
اسی بنیاد پر جو بھی ان آیات کو پڑھے گا اسے علم ہو جائے گا کہ یہ آیات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے بارے میں نازل ہوئیں اور بار بار انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والیاں (اہل البیت) کہہ کر مخاطب کیا گیا اور ان کے ساتھ کسی اور کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔