چوتھا بہتان - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

چوتھا بہتان

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

(الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم: جلد 8 صفحہ 468)

عجلی نے کہا: ’’یہ غالی رافضی تھا نہ یہ ثقہ ہے اور نہ یہ قابل اعتماد ہے۔‘‘

(لسان المیزان لابن حجر: جلد 6 صفحہ 157)

امام ابن حجر اور امام ذہبی نے اس کے بارے میں کہا: ’’یہ غالی رافضی ہے۔ محدثین نے اسے متروک کر دیا۔‘‘

(میزان الاعتدال للذہبی: جلد 4 صفحہ 253، 254۔ لسان المیزان لابن حجر: جلد 6 صفحہ 157)

یاقوت حموی (یاقوت بن عبداللہ ابو عبداللہ اصل میں رومی تھا۔ بچپن میں قیدی بنا تو ایک حموی تاجر عسکر نامی نے اسے خرید لیا، جب بڑا ہوا تو نحو اور لغت کے علوم پر عبور حاصل کر لیا۔ جبکہ اس کا مالک تجارت میں اسے مشغول رکھتا۔ اس کی تصنیفات میں سے ’’معجم الادباء‘‘ اور ’’معجم البلدان‘‘ ہیں۔ 626 ہجری میں وفات پائی۔ (تاریخ الاسلام للذہبی: جلد 45 صفحہ 266۔ شذرات الذہب لابن العماد: جلد 5 صفحہ 120) نے کہا: ’’نصر بن مزاحم ابو الفضل منقری، کوفی تاریخ اور روایات کا عالم تھا۔ غالی اور کٹر شیعہ تھا۔ محدثین کی ایک جماعت نے اسے کذاب کہا اور کچھ محدثین نے اسے ضعیف کہا ہے۔‘‘

(معجم الادباء لیاقوت حموی: جلد 6 صفحہ 2750)

نیز اس روایت کی سند میں ایک راوی کا یہ قول ہے:

’’اسد بن عبداللہ نے ان اہل علم سے روایت کی جن سے وہ ملا۔‘‘

تو یہ کون سے اہل علم تھے جنھوں نے یہ روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنی اور ہمارے دین میں کب سے تاریخوں اور روایات کے لیے مجہول راویوں کا سہارا لیا جاتا ہے؟

3۔ محض اس روایت کی موجودگی کتب اہل سنت میں ان کے خلاف کسی قسم کی دلیل نہیں بنتی۔ کیونکہ:

الف: یہ روایت اہل سنت کی معتمد، مسند، امہات الکتب جیسے صحیحین اور سنن اربعہ وغیرہ جیسی مشہور کتابوں میں سے کسی کتاب میں نہیں۔

ب: یہ روایت کتب تاریخ میں ہے وہ کتب جن میں ہر قسم کی خشک و تر، رطب و یابس ایندھن جمع کر لیا جاتا ہے۔ مصنف اس کی تحقیق نہیں کرتا۔

ج: یہ روایت سند کے ساتھ کچھ کتب تاریخ میں مروی ہے جیسے (تاریخ طبری) اور محدثین کا مشہور قاعدہ ہے کہ جو سند بیان کرتا ہے وہی دعویٰ کرتا ہے اور جو دعویٰ کرتا ہے دلیل بھی وہی لاتا ہے۔ تب اس کا ذمہ ختم ہوتا ہے۔

د: اہل سنت ایسی روایات پر خاموش نہیں رہتے بلکہ وہ ان پر جرح کرتے ہیں اور ان کا ضعف اور بودا پن واضح کرتے ہیں۔

آلوسی (محمود بن عبداللہ الحسینی ابو الثناء الآلوسی۔ شہاب الدین اس کا لقب ہے۔ 1217 ہجری میں پیدا ہوئے، اپنے وقت کے عظیم مفسر، محدث، ادیب اور بغداد میں مقلدین کے مشہور مفتی تھے۔ آستانہ (ترکی کے ایک شہر کا نام) گئے تو سلطان عبدالمجید عزت سے پیش آیا۔ ان کی تصنیفات میں سے ’’روح المعانی‘‘ اور ’’الاجوبۃ العراقیۃ و الاسئلۃ الایرانیۃ‘‘ زیادہ مشہور ہیں۔ ان کے علاوہ بھی متعدد اہم کتابیں تصنیف کیں۔ 1270 ہجری میں وفات پائی۔ (الاعلام للزرکلی:جلد 7 صفحہ 176) نے کہا: ’’شیعہ جو یہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود لوگوں کو قتل عثمان کی ترغیب دی اور کہتی تھی کہ تم اس لمبی داڑھی والے بے وقوف بوڑھے کو قتل کر دو۔ کیونکہ یہ مفسد ہے۔ یہ بالکل کذب بیانی ہے، اس کی کوئی اصل نہیں۔ یہ ابن قتیبہ، ابن اعثم کوفی، اور سمساطی جیسے مشہور جھوٹوں اور مفتریوں کی روایت ہے۔‘‘

(روح المعانی للآلوسی: جلد 11 صفحہ 192)

اس روایت کا ردّ کرتے ہوئے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے رافضیوں کے شیخ ابن مطہر الحلی (حسن بن یوسف بن علی ابو منصور الحلی۔ یہ معتزلی تھا اور شیعوں کا پیر تھا اور اسے تاتاریوں کے بادشاہ خربندا کے ہاں بہت بڑا مقام و مرتبہ حاصل تھا۔ جو نہایت خبیث رافضی تھا۔ ابن تیمیہؒ نے اس کے ردّ میں لکھا اس کی تصنیفات میں سے ’’الاسرار الخفیۃ فی العلوم العقلیۃ‘‘ مشہور ہے۔ 771 ہجری میں فوت ہوا۔ (النجوم الزاہرۃ لتغری بردی: جلد 9 صفحہ 267۔ ہدیۃ العارفین لاسماعیل پاشا: جلد 5 صفحہ 284) کی تردید میں لکھا: ’’پہلے تو اسے یہ کہا جائے گا کہ ’’عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایسی صحیح ثابت حدیث کہاں اور کس سے مروی ہے۔‘‘

پھر کہا جائے گا کہ جو کچھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے وہ اس روایت کو جھٹلاتا ہے اور مشہور و متواتر روایات سے ثابت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت پر سخت افسوس کیا اور برا جانا اور قاتلوں کی پرزور مذمت کی اور اپنے بھائی محمد اور دوسروں کو اس کے دفاع میں شریک ہونے پر آمادہ کیا۔

(منہاج السنۃ النبویۃ لابن تیمیۃ: جلد 4 صفحہ 330)۔

پھر شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے نہایت ہی ذہانت و فطانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھا:

صفحہ 2 از 4