مسلمانوں پر ظلم کی حرمت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسلمانوں پر ظلم کی حرمت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 10

اس وقت [شہرہ آفاق شیعہ مورخ مرزا محمد باقر خوانساری نے اپنی کتاب روضات الجنات طبع ثانی کے صفحہ:578،پر نصیر الدین طوسی کے حالات زندگی میں لکھا ہے: خواجہ نصیر الدین کی زندگی کا مشہور ترین واقعہ یہ ہے کہ وہ عظیم تاتاری سلطان اور اپنے دَور کے پر شوکت و حشمت فاتح ہلاکو خاں بن تولی خاں بن چنگیز خان کی ملاقات کے لیے ایران پہنچا اور پھر وہاں سے اس کے موید و منصور لشکر کی معیت میں ارشاد عباد، اصلاح بلاد اور قطع فساد کے لیے بغداد پہنچا۔ اس کا مقصد بنی عباس کی حکومت کو ختم کرنا اور ان کے اتباع کو صفحہ ہستی سے مٹانا تھا۔ چنانچہ خواجہ طوسی اپنے مقصد میں کامیاب ہوا اور بغداد میں عباسیوں کے ناپاک خون کی ندیاں بہادیں ۔‘‘ مذکورہ بالا اقتباس میں شیعہ مورخ نے شیخ روافض خواجہ طوسی کے مشہور سفاک ہلاکو خاں کے یہاں آنے کو ارشاداً للعباد و اصلاحاً للبلاد قرار دیا ہے ۔ وہ خود اعتراف کرتا ہے کہ اس آمد کا مقصد وحید یہ تھا کہ سب سے بڑے اسلامی دارالخلافہ میں خون کی ندیاں بہا دی جائیں ۔ مرزا محمد باقر اس بات پر فخر و مباہات کا اظہار کرتا ہے کہ ہلاکو خاں نے سفاکی و خونریزی کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ بلکہ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ جو مسلمان اس کی سفاکی کا شکار ہوئے وہ سب جہنمی ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بت پرست ہلاکو اور اس کا رافضی ہادی و مرشد خواجہ طوسی دونوں قطعی جنتی ہیں ۔ اس سے شیخ الاسلام ابنِ تیمیہؒ کے بیان کی صداقت واضح ہوتی ہے۔ ہم قبل ازیں شیعہ مورخ کے قول کی جانب اشارہ کر چکے ہیں ، اب ضرورت کے پیش نظر تفصیلاً اس کا اقتباس نقل کیا گیا ہے۔مزیددیکھیں : فِی تارِیخِ ابنِ الأثِیرِ:12؍137؛ البِدایِۃ والنِہایۃِ:13؍86؛ وقد توفِی جنکیِزخان سن:624ھ۔ وانظر عنہ: البِدایۃ والنِہایۃ:13؍117؛ دائِرۃ المعارِفِ الإِسلامِیِ مقالۃ بارتولد۔]خلیفہ بغداد کا وزیر ابن علقمی[اس کا نام محمد بن احمد بغدادی ہے۔ یہ ابن علقمی کے نام سے مشہور تھا۔ یہ 656ھ میں فوت ہوا۔ نوجوانی میں یہ شیعہ ادباء میں شمار ہوتا تھا۔ اہلِ سنت نے اس کے بارے میں تساہل سے کام لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ مناصب جلیلہ طے کرتے کرتے خلافت عباسیہ میں وزارت کے عہدہ تک پہنچا اور چودہ سال تک اس پر فائز رہا۔ آخری عباسی خلیفہ المستعصم نے ابن العلقمی پر اس قدر اعتماد کیا کہ جملہ امور سلطنت اسے تفویض کر دیے۔ جب صنم پرست ہلاکو خاں کا لشکر بلاد ایران میں داخل ہوا تو ابن العلقمی نے اسے بغداد پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کیا، ابن العلقمی کو امید تھی کہ خلافت عباسیہ کے سقوط کے بعد ہلاکو خاں کسی شیعہ کو امام یا خلیفہ مقرر کرے گا۔ ہلا کو خاں قوم تاتار کرج کے دو لاکھ سپاہیوں کو لے کر بغداد پر حملہ آور ہوا۔ ابن علقمی نے خلیفہ مستعصم کو دھوکہ دے کر ہلاکو خاں کے کام کو بڑی حدتک آسان کر دیا۔ جب ہلاکو نے اپنی فوج کو بغداد کی شرقی و غربی جانب اتار دیا۔ ابن علقمی نے خلیفہ سے صلح کی سلسلہ جنبانی کے لیے خلیفہ سے ہلاکو خاں کو ملنے کی اجازت مانگی۔ جب ابن علقمی ہلاکو کو اپنی وفا شعاری اور خلافت عباسیہ سے خیانت کاری کا یقین دلا چکا تو خلیفہ کے پاس لوٹ کر واپس آیا اور کہنے لگا: ہلاکو اپنی بیٹی کا نکاح خلیفہ کے بیٹے ابوبکر سے کرنا چاہتا ہے ۔نیز ہلاکو کی خواہش ہے کہ وہ سلجوق سلاطین کی طرح خلیفہ کے زیر اثر رہے۔ خلیفہ علماء و رؤسا اور اعیان حکومت کی معیت میں بزعم خود اپنے بیٹے کو بیاہنے کے لیے ہلاکو کی جانب چل دیا۔]بھی شیعہ تھا’’ وہ ہمیشہ خلیفہ اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کرتا رہتا۔‘‘اس کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ مسلمانوں کو زک پہنچے۔ اس نے اسلامی لشکر کے سپاہیوں کی تنخواہیں بند کر دیں ۔ اور انہیں ہر طرح سے کمزور کیا۔اور انہیں تاتاریوں سے جنگ کرنے سے روکتا رہتا تھا۔ضرر رسانی کے لیے وہ طرح طرح کے حیلے اختیار کیا کرتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کافر تاتاری بغداد میں داخل ہو گئے اور انھوں نے دس لاکھ یا اس سے کم و بیش مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اسلام میں تاتاری کفار کی جنگ سے بڑھ کر کوئی لڑائی نہیں لڑی گئی۔ تاتاریوں نے ہاشمیوں کو تہ تیغ کرکے عباسی اور غیر عباسی سب خواتین کو قیدی بنا لیا۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ جو شخص کفار کو مسلمانوں پر مسلط کرکے انھیں قتل کرتا اور مسلم مستورات کو قیدی بنانے میں مدد دیتا ہے کیا ایسا شخص محب آل رسول ہو سکتا ہے؟

شیعہ حجاج بن یوسف ثقفی پر یہ بہتان لگاتے ہیں کہ اس نے سادات کے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ حالانکہ سفاک ہونے کے باوصف حجاج نے کسی ہاشمی کو قتل نہیں کیا تھا۔ البتہ بنی ہاشم کے علاوہ دیگر عرب شرفاء کو اس نے ضرور قتل کیا تھا۔ حجاج نے ایک ہاشمی خاتون بنت عبداللہ بن جعفر سے نکاح کیا تھا، مگر بنو امیہ نے مجبور کرکے بدیں وجہ تفریق کرادی کہ حجاج ایک شریف ہاشمی سیدزادی خاتون کا ہمسرو برابر نہیں ہو سکتا۔

ایسے ہی بلاد شام میں جو رافضی پائے جاتے ہیں ‘ ان میں سے جنہیں قوت و طاقت حاصل تھی وہ مسلمانوں کے خلاف مشرکین و نصاری اور اہلِ کتاب کفار کی مدد کیا کرتے تھے۔اور ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو قتل کرتے ‘ انہیں قیدی بناتے اور ان کے اموال پر قبضہ کرلیتے۔

جب کہ اس کے برعکس خوارج نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی۔ بلکہ وہ لوگوں سے جنگیں لڑا کرتے تھے۔ نہ ہی وہ کفار کو مسلمانوں پر مسلط کرنے میں ان کی مدد کرتے اور نہ ہی اہل کتاب یہو د و نصاری اور مشرکین کے ساتھ کوئی تعاون کرتے۔

صفحہ 9 از 10