مسلمانوں پر ظلم کی حرمت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسلمانوں پر ظلم کی حرمت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 10

آپﷺ نے فرمایا: ’’ ایسا نہ کرو؛ اس کی نسل میں ایسے ہوں گے کہ تم میں سے کوئی ایک ان کی نمازوں اور روزوں کے مقابلے میں اپنی نماز اور روزے کو حقیر سمجھیں گے۔‘‘[صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر:861۔میں حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے؛ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر تھے۔ آپﷺ کچھ مال تقسیم کر رہے تھے کہ آپﷺ کے پاس ذوالخویصرہ جو قبیلہ بنی تمیم کا ایک شخص تھا حاضر ہوا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ! انصاف کیجئے! آپﷺ نے فرمایا تیری خرابی ہو اگر میں انصاف نہ کروں گا تو کون ہے جو انصاف کرے گا؟ اگر میں انصاف نہ کروں تو بہت ناکام و نامراد ہوں گا حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ!مجھ کو اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں فرمایا اس کو رہنے دو اس کے چند ساتھی ایسے ہیں جن کی نمازوں کو دیکھ کر تم اپنی نمازوں کو حقیر سمجھو گے۔ اور ان کے روزوں کے سامنے اپنے روزہ کو کمتر وہ قرآن کی تلاوت کریں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا یہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح کمان سے تیر نکل جاتا ہے اس کے پکڑنے کی جگہ دیکھی جائے تو اس میں کوئی چیز معلوم نہ ہوگی۔ اس کے پر دیکھے]رسول اللہﷺ کا یہ کلام مبارک ان اہلِ بدعت کے بارے میں ہے جو بڑے عبادت گزار تھے۔اور صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ :’’ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے زمانے میں شراب پیا کرتا تھا۔جب بھی اسے لایا جاتا تو اسے شراب پینے کے سبب کوڑے لگوائے جاتے تھے۔ ایک دن پھر نشہ کی حالت میں لایا گیا ؛تو قوم میں سے ایک شخص نے کہا کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو، کسی قدر یہ [نشہ کی حالت میں ] لایا جاتا ہے، نبی کریمﷺ نے فرمایا :’’ اس پر لعنت نہ کرو، اللہ کی قسم میں جانتا ہوں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔‘‘[جائیں تو ان میں کوئی چیز معلوم نہ ہوگی۔ اس کے پر اور پکڑنے کی جگہ کے درمیانی مقام کو دیکھا جائے تو اس میں کوئی چیز دکھائی نہ دے گی حالانکہ وہ گندگی اور خون سے ہو کر گزرا ہے ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک سیاہ آدمی ہوگا اس کا ایک مونڈھا عورت کے پستان یا پھڑکتے ہوئے گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہوگا جب لوگوں میں اختلاف پیدا ہوگا تو یہ ظاہر ہوں گے۔ حضرت ابوسعیدؓ کہتے ہیں کہ میں اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث نبی کریمﷺ سے سنی ہے اور یہ کہ حضرت علیؓ بن ابی طالب نے ان لوگوں سے جنگ کی ہے۔ میں ان کے ساتھ تھا انہوں نے حکم دیا وہ شخص تلاش کر کے لایا گیا میں نے اس میں وہی خصوصیات پائیں جن کو نبی کریمﷺ نے اس کی بابت بیان فرمایا تھا۔مزید دیکھیں : فِی البخارِیِ:4؍200؛ کتاب المناقب، باب علاماتِ النبوۃِ، مسلِم:2؍744؛ کتاب الزکاۃ، باب ذِکرِ الخوارِجِ وصِفاتِہِم المسند ط۔الحلبِیِ :3؍65، وانظر جامِع الأصولِ لِابنِ الأثِیرِ: 10؍436؛ سنن ابنِ ماجہ:1؍60؛ المقدِمۃ باب فِی ذِکرِ الخوارِجِ۔ صحیح بخاری۔ کتاب الأذان، باب(126)، (ح:797,804,456)، صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب استحباب القنوت فی جمیع الصلوات (ح: 676،675)۔]تو آپﷺ نے اس متعین مئے نوش پر لعنت کرنے سے منع فرمایا۔ اور اس بات کی گواہی دی کہ یہ اللہ اور اس کے رسول اللہﷺ سے محبت کرتا ہے۔ حالانکہ عمومی طور پر شراب نوش پر لعنت وارد ہوئی ہے۔ یہاں سے عام مطلق اور خاص معین میں فرق واضح ہوتا ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ گنہگار جو اپنے گناہوں کے معترف ہیں ان کا ضرر مسلمانوں پر ان اہلِ بدعت کی نسبت بہت کم ہوتا ہے جو اپنی طرف سے بدعت ایجاد کرتے ہیں ؛ اور پھر اس کی وجہ سے اپنے مخالفین کو سزا کا مستحق سمجھتے ہیں ۔

روافض کی بدعت خوارج کی نسبت زیادہ سخت ہوتی ہے۔وہ ایسے لوگوں کو بھی کافر کہتے ہیں ؛ جنہیں خوارج بھی کافر نہیں کہتے۔ جیسے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما۔ اور نبی کریمﷺ اور حضرات صحابہؓ پر ایسا جھوٹ بولتے ہیں کہ ایسا جھوٹ کسی دوسرے نے کبھی نہ بولا ہوگا۔خوارج جھوٹ نہیں بولتے۔ خوارج روافض کی نسبت زیادہ بہادر؛ سچے اور وعدہ وفا کرنے والے؛ مرد میدان اور بڑے جنگجو تھے۔جب کہ ان کے مقابلہ میں رافضی نہایت جھوٹے، حد درجہ بزدل، بد عہد اور نہایت ذلیل ہوا کرتے تھے۔ شیعہ مسلمانوں کے مقابلہ میں کفار تک سے مدد لینے سے گریز نہیں کرتے۔ہم نے بھی دیکھا ہے اور مسلمانوں نے بھی مشاہدہ کیا ہے کہ جب کبھی مسلمانوں پر کڑا وقت آیا تو ان لوگوں نے مسلمانوں کے خلاف ان کے دشمن کفار کا ساتھ دیا۔ جیسا کہ کافر تاتاری بادشاہ چنگیز خاں کے زمانہ میں ہوا۔رافضیوں نے مسلمانوں کے خلاف اس کی بھر پوری مدد کی تھی۔

ایسے ہی جب چنگیز خاں کا پوتا ہلاکو خاں خراسان اور عراق و شام کے علاقہ میں آیا تو شیعہ نے اعلانیہ اور خفیہ ہر طرح سے اس کی مدد کی۔ یہ تاریخ کا مشہور واقعہ ہے اور کسی کو اس سے مجال انکار نہیں ؛ اور نہ ہی کسی پر کوئی بات پوشیدہ رہ گئی ہے۔عراق اور خراسان میں ظاہری وباطنی طور پر شیعہ نے کھل کر ان کا ساتھ دیا۔

صفحہ 8 از 10