مسلمانوں پر ظلم کی حرمت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسلمانوں پر ظلم کی حرمت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 10

اور ایک روایت میں ہے:’’ جو شخص حاکم کی اطاعت سے نکل گیا؛ اورجماعت سے ایک بالشت بھر الگ ہوا، اور اسی حالت میں مرجاتا ہے، تووہ جاہلیت کی موت مرتا ہے ۔‘‘

صحیح مسلم میں ہے حضرت عوف بن مالکؓ فرماتے ہیں : میں نے سنا کہ نبی اکرمﷺ فرمارہے تھے:

’’تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جن کو تم چاہتے ہو اور جو تمہیں چاہتے ہوں تم ان کے حق میں دعا کرتے ہو اور وہ تمہارے حق میں دعا کرتے ہوں ۔ تمہارے بد ترین حکام وہ ہیں جن سے تم بغض رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہوں ، جن پر تم لعنت بھیجتے ہو اور جو تم پر لعنت بھیجتے ہوں ۔‘‘

ہم نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ! کیا ہم تلواریں لیکر ان پر ٹوٹ نہ پڑیں ؟تو آپﷺ نے فرمایا: ’’جب تک وہ نماز کی پابندی کریں تم ایسا نہیں کر سکتے۔‘‘

یہ تمام احادیث صحیح ہیں ۔ اور ان جیسی مزید احادیث بھی موجود ہیں ۔

نبی اکرمﷺ نے خوارج سے جنگ وقتال کرنے کا حکم دیا؛ اور ظالم اور فاسق حکمران سے جنگ کرنے سے منع کیا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر ظالم باغی نہیں ہوتا جس سے جنگ کرنا جائز ہو۔

اس کے جملہ اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ جاہ و مال کا بھوکا ظالم اکثر طور پر صرف اور صرف اپنی دنیا کی خاطر لڑتا[اور ظلم کرتا]ہے۔وہ لوگوں سے لڑتا اور قتال کرتا ہے تاکہ اسے حکومت اور مال دیا جائے۔ اوروہ ان پر ظلم نہ کرے۔ان سے لڑائی کا سبب یہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ کا دین سر بلند ہو۔ اور سارا دین صرف اللہ کے لیے ہی ہو جائے۔ اور نہ ہی ان سے لڑنا اور ڈاکؤوں اور راہزنوں سے قتال کی جنس سے ہے ؛ جن کے بارے میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’ جو اپنے مال کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے؛ اور جو اپنے دین کی حفاظت میں مارا جائے ؛ وہ شہید ہے؛ ور جو اپنی عزت و آبرو کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے۔ ‘‘[قال الدکتور رشاد سالم :لم أجِد عِبارۃ:(( ومن قتِل دون حرمتِہِ فہو شہِید،))۔ ولِکن وجدت حدِیثاً فِی قولِہِ ﷺ : ((من قتِل دون مالِہِ فہو شہِید، ومن قتِل دون دِینِہِ فہو شہِید۔)) والحدِیث عن سعِیدِ بنِ زید رضِی اللہ عنہ فِی: سننِ أبِی داؤد: 4؍339 ؛ کتاب السنۃِ باب فِی قِتالِ اللصوصِ،سنن الترمذی:2؍435،436؛ کِتاب الدِیاتِ، باب ما جاء من قتِل دون مالِہِ فہو شہِید، زاد فِی بعضِ الأحادِیثِ: (( ومن قتِل دون دمِہِ فہو شہِید۔)) وجاء الحدِیث مختصرا عن عبدِ اللہِ بنِ عمرو رضِی اللّٰہ عنہ سنن النسائِیِ:7؍105؛ کِتاب تحرِیمِ الدمِ، باب من قتِل دون مالِہِ عن عبدِ اللّٰہِ بنِ عمرو وعن سلیمان بنِ برید،سنن ابنِ ماجہ:2؍861؛ کتاب الحدودِ، باب من قتِل دون مالِہِ فہو شہِید، وجاء حدِیث عبدِ اللّٰہِ بنِ عمرو من قتِل دون مالِہِ فہو شہِید، فِی البخارِیِ:3؍136؛ کتاب المظالِمِ، باب من قاتل دون مالِہِ، مسلِم:1؍124،125کتاب الإِیمانِ، باب عن أن من قصد أخذ مالِ غیرِہِ بِغیرِ حق، المسند ط۔ المعارِفِ:3؍119۔]کیونکہ وہ تو تمام لوگوں سے دشمنی رکھتے ہیں ؛ اور تمام لوگ ان سے لڑنے میں باہم تعاون کرتے ہیں ۔ اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے؛کہ بیشک وہ دشمنی رکھنے والے اور جنگ کی صلاحیت سے بہرہ ور نہیں ہے۔ تو پھر ولاۃ الامور کسی کام کے کرنے یا کچھ لینے پرقادر نہیں ہوسکتے۔ بلکہ وہ جنگ لڑ کر صرف لوگوں کا خون بہانا اور ان کا مال لینا چاہتے ہیں ۔ ڈاکو لوگ تو اپنی طرف سے عوام میں قتل و غارت شروع کرتے ہیں ؛ جبکہ حکمران رعایا کو شروع میں قتل نہیں کرتے۔ ان دونوں میں فرق کرنا چاہیے ؛ جس سے آپ اپنے دفاع میں لڑتے ہیں ؛ او رجس سے آپ اپنی طرف سے لڑائی شروع کرتے ہیں ۔ اسی بنا پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا فتنے کی لڑائی میں اپنے دفاع میں لڑنا جائز ہے ؟ان معانی و آثار میں تعارض کی وجہ سے اس مسئلہ میں امام احمدؒ سے دو روایات منقول ہیں ۔

خلاصہ کلام! حکمرانوں کے خلاف بغاوت اس لیے کی جاتی ہے کہ جو کچھ ان کے ہاتھ میں مال اور حکومت ہے؛ اسے اپنے ہاتھ میں لیا جائے۔ یہ دنیا کے مال و اسباب کی وجہ سے قتال ہے۔حضرت ابوبرزہ اسلمیؓ نے حضرت ابن زبیرؒ کے فتنہ کے متعلق ؛ قرآء کے حجاج کے ساتھ فتنہ کے متعلق ؛ اور شام میں مروان کے ساتھ فتنہ کے متعلق ؛ کہتے تھے: ’’ یہ اور یہ ؛ یہ تمام لوگ دنیا پر لڑ رہے ہیں ۔ جبکہ اہلِ بدعت جیسے خوارج وغیرہ؛ وہ لوگوں کے دین میں خرابی پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔پس ان سے جنگ لڑنا دینی جنگ ہے [دین کی وجہ سے جنگ لڑنا ہے]۔

مقصود کلام! ان لوگوں سے جنگ کرنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے دین کی سر بلندی ہوتا ہے تاکہ دین سارے کا سارا اللہ تعالیٰ کے لیے ہو جائے۔ اسی لیے نبی کریمﷺ نے ان سے جنگ لڑنے کا حکم دیا؛ اور ظالم حکمرانوں سے لڑنے سے منع فرمایا ۔

اسی لیے حضرت علیؓ کا خوارج سے جنگ کرنا صریح نصوص ؛اور اجماع ِصحابہؓ و تابعینؒ ؛اور تمام علمائے اسلام رحمہم اللہ کے اجماع کی روشنی میں ثابت تھا۔اور جہاں تک جنگ جمل و صفین کی تعلق ہے ؛ تو وہ فتنہ کی جنگیں تھیں ۔ فضلائے صحابہؓ و تابعینؒ اور علمائے مسلمین ان جنگوں کو ناپسند کرتے تھے۔ جیسا کہ اس مؤقف پر نصوص بھی دلالت کرتی ہیں ۔ حتیٰ کہ جو لوگ ان جنگوں میں شریک ہوئے؛ وہ خود بھی اس امر کو ناپسند کرتے تھے۔ اور ان جنگوں کو ناپسند کرنے والے امت میں ان لوگوں کی نسبت افضل اور اکثر تھے جو ان جنگوں کی تعریف کرتے تھے۔

صحیحین میں کئی اسناد سے ثابت ہے کہ:

’’ ایک بار آنحضرتﷺ مالِ غنیمت تقسیم فرما رہے تھے کہ بنی تمیم کے ذوالخویصرہ نامی فرد نے کہا:یا رسول اللہﷺ ! ’’ انصاف سے تقسیم فرمایئے۔‘‘

آپﷺ نے فرمایا :’’ تیری خرابی ہو میں عدل سے کام نہ لوں گا تو پھر کون عدل کرے گا۔‘‘ اور پھر فرمایا: ’’ کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے ہو؛ اور جو آسمانوں میں ہے وہ مجھے امین سمجھتا ہے ۔‘‘

حضرت عمرؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہﷺ ! اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں ۔‘‘

صفحہ 7 از 10