مسلمانوں پر ظلم کی حرمت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسلمانوں پر ظلم کی حرمت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 10

’’ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو زمین کے نشانات تبدیل کرنے والے پر۔ ‘‘[مسلِم:3؍1467 کتاب الأضاحِیِ، باب تحرِیمِ الذبحِ لِغیرِ اللہ تعالیٰ ولعنِ فاعِلِہِ ....؛ والحدِیث فِی سننِ النسائِیِ: 7؍204؛ کتاب الضحایا، باب من ذبح لِغیرِ اللّٰہِ عز وجل، المسند ط۔ المعارِفِ:6؍156، والحدِیث بِمعناہ عنِ ابنِ عباس رضِی اللّٰہ عنہما فِی: المسندِ ط۔المعارِفِ:3؍266۔]اورفرمایا: ’’ مدینہ عیر سے ثور تک حرم ہے جو شخص اس جگہ میں کوئی بات نکالے یا کسی بدعتی کو پناہ دے تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کی فرض عبادت مقبول ہے اور نہ نفل۔‘‘[البخارِیِ:3؍20کِتاب فضائِلِ المدِینۃِ، باب حرمِ المدِینۃِ، و فِی مسلِم:6؍994؛ ِکتاب الحجِ، باب فضلِ المدِینۃِ، وہو سننِ أبِی داؤود والتِرمِذِیِ والنسائِیِ ومسندِ أحمد۔]رسول اللہﷺ نے فرمایا]: ’’قوم لوط کا عمل کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہو۔‘‘[المسندِ ط۔المعارِفِ:3؍266وصحح أحمد شاکِر رحِمہ اللہ الحدِیث، وکذلکِ الأحادِیث الأخر رقم:2817، 2915، 2916، 2918۔ وأورد التِرمِذِی فِی سننِہِ:3؍9کتاب الحدودِ، باب ما جا فِی حدِ اللوطِیِ حدِیثاً عن عمرِو بنِ أبِی عمرو ونصہ:(( ملعون من عمِل عمل قومِ لوط۔))]

رسول اللہﷺ نے فرمایا:]

’’ ان مردوں میں سے مخنثین پر لعنت ہو ؛ اور ان عورتوں پر لعنت ہوجو مردوں کی سی صورت اختیار کرتی ہیں ۔‘‘[فِی البخارِیِ:7؍159 کتاب اللِباسِ، باب ِإخراجِ المتشبہین مِن الرِجالِ بِالنِسائِ، سنن الترمذی:4؍194کِتاب الِاستِئذانِ، باب ما جاء فِی المتشبہات بِالرِجالِ مِن النِسائِ، وہو فِی سننِ الدارِمِیِ:2؍280کتاب الِاستِئذانِ، باب لعنِ المخنثِین والمترجِلاتِ، المسند ط۔المعارِفِ:3؍305]

[ نبی کریمﷺ نے فرمایا] :’’ جس شخص نے اپنے مولی کی اجازت کے بغیر کسی سے ولا کا معاملہ کیا تو اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے قیامت کے روز اس کی نہ فرض عبادت قبول ہوگی اور نہ نفل عبادت۔‘‘[أبو داود فِی سننِہ:4؍449؛ کِتاب الأدبِ، باب فِی الرجلِ ینتمِی ِإلی غیرِ موالِیہِ ؛ و فِی المسندِ ط۔المعارِفِ جلد:9 الأرقام: 1454، 1497، 1499، 1504، 1553وانظرِ المسند ط۔ الحلبِیِ:5؍267وقد صحح الألبانِی حدِیث أنس وسعدِ بنِ بِی وقاص فِی صحِیحِ الجامِعِ الصغِیرِ:5؍233۔]اور فرمان الٰہی ہے:

﴿لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظَّالِمِیْنَoالَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ یَبْغُوْنَہَا عِوَجًا ﴾(الاعراف:44۔45) 

’’ظالموں پراللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔جو اللہ کے راستے سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہیں ۔‘‘

کتاب و سنت بدکردار لوگوں اور ان کے افعال کی قباحت و مذمت سے لبریز ہیں ۔ جس کا مقصد اس فعل شنیع سے باز رکھنا اور یہ بتانا ہے کہ اس کا ارتکاب کرنے والا وعید شدید کا مستوجب ہو گا۔

علاوہ ازیں جس گناہ کو آدمی گناہ تصور کرتا ہے، اس سے تائب ہو جاتا ہے، مگر مبتدعین مثلاً خوارج و نواصب جنہوں نے مسلمانوں میں بغض و عداوت کا دروازہ کھولا اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں اور جو لوگ ان کی ایجاد کردہ بدعت میں ان کے ہم نوا نہیں ہوتے ان کی تکفیر کرتے ہیں ۔ اس لیے ان سے مسلمانوں کو ان ظالموں کی نسبت زیادہ ضرر لاحق ہو سکتا ہے جو حرام سمجھتے ہوئے ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔اگرچہ ان میں کسی ایک کی آخرت کی سزا تاویل کی وجہ سے خفیف ہوگی۔ لیکن اس کے باوجود نبی اکرمﷺ نے ان سے جنگ وقتال کرنے کا حکم دیا؛ اور ظالم اور فاسق حکمران سے جنگ کرنے سے منع کیا۔ اس سلسلہ میں تواتر کے ساتھ صحیح احادیث موجود ہیں ۔

خوارج کے بارے میں نبی کریمﷺ نے فرمایا تھا:

’’ تم ان کی نماز کے مقابلہ میں اپنی نماز اور ان کے روزہ کے مقابلہ میں اپنے روزے کو ؛ اور ان کی تلاوت قرآن کے مقابلہ میں اپنی تلاوت کو حقیر سمجھوگے۔وہ قرآن پڑھیں گے، جو ان کے گلوں سے نیچے نہ اترے گا۔ دین سے وہ ایسے نکل جائے گی، جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے ؛ تم انہیں جہاں کہیں بھی پاؤ تو انہیں قتل کرڈالو۔‘‘[فِی البخارِیِ:4؍137؛ کتاب الأنبِیائِ، باب قولِ اللّٰہِ عز وجل:﴿ وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا ا﴾الآیۃِ، مسلِم:2؍741کتاب الزکاۃ، باب ذکِرِ الخوارِجِ وصِفاتِہِم، سنن أبِی داؤود:4؍335؛ کتاب السنۃِ، باب فِی قِتالِ الخوارِجِ، سنن النسائِیِ بِشرحِ السیوطِیِ: 5؍65؛ کتاب الزکاۃِ، باب المؤلفۃِ قلوبہم:7؍108؛ کتاب تحرِیمِ الدِمائِ، من شہر سیفہ ثم وضعہ فِی الناسِ المسنِد ط۔ المعارِفِ:7؍308عن عبدِ اللّٰہِ بنِ عمر وہو جزء مِن الحدِیثِ مع اختِلاف فِی اللفظِ۔]اور ایک روایت میں ہے: ’’ وہ بت پرستوں کو تو چھوڑ دیں گے؛ مگر اہلِ ایمان کو قتل کریں گے۔‘‘

حضرات انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے نبی کریمﷺ نے ارشادفرمایا تھا :

’’ عنقریب میرے بعد حقوق تلف کئے جائیں گے[ اور ایسے امور پیش آئیں گے جنہیں تم ناپسند کرتے ہو] پس تم صبر کرتے رہنا یہاں تک کہ حوض پر مجھ سے آملو ۔‘‘[صحیح مسلم؛ امارت اور خلافت کا بیان : ح:270 غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کے وجوب....کے بیان میں]یعنی تم دیکھو گے تمہارے مالی حقوق تلف کئے جائیں گے؛ اور تمہارے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ مگر پھر بھی انہیں صبر کرنے کا حکم دیا؛ اور جنگ کرنے کی اجازت نہیں دی۔

ایک دوسری روایت میں ہے: رسول اللہﷺ نے فرمایا:

’’ میرے بعد تم پر ایسے حکمران آئیں گے؛ جو تم سے اپنا حق مانگیں گے؛ اور تمہارا حق تمہیں ادا نہیں کریں گے۔‘‘عرض کی: یا رسول اللہﷺ!آپ ہمیں کس چیز کا حکم دیتے ہیں ؟

تو آپ نے فرمایا:’’ تم پر کسی کا جو حق ہو وہ ادا کر دو اور اپنے حقوق تم اللہ سے مانگتے رہنا۔‘‘[صحیح مسلم؛ امارت اور خلافت کا بیان : ح:271 غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کے وجوب....کے بیان میں ۔]بخاری و مسلم میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ سرور کائناتﷺ نے فرمایا:

’’جو شخص اپنے امیر کی کوئی ایسی بات دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو اس پر صبر کرے، کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھر الگ ہوا یقینا اس نے اپنی گردن سے اسلام کا طوق اتار پھینکا۔‘‘

صفحہ 6 از 10