مسلمانوں پر ظلم کی حرمت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مسلمانوں پر ظلم کی حرمت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 10

’’ اگر اس میں وہ عیب موجود ہو پھر تو غیبت ہے اور اگر موجود نہ ہو تو یہ بہتان ہے۔‘‘[صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الغیبۃ(ح:2589)۔اس حدیث سے مستفاد ہوتا ہے کہ کسی میں ایسا عیب ثابت کرنا جو فی الواقع اس میں نہ ہو بہتان کہلاتا ہے۔ ظاہرہے کہ صحابہ پر ایسا بہتان لگانا کس قدر مذموم ہوگا؟ جو شخص کسی مجتہد کے بارے میں کہے کہ اس نے دانستہ ظلم کیا یا دانستہ کتاب و سنت کی خلاف ورزی کی حالانکہ ایسا نہ ہو تو یہ بہتان ہے ورنہ غیبت۔البتہ غیبت کی وہ قسم مباح ہے جسے اللہ و رسول اللہﷺ نے روا رکھا ہو۔ غیبت مباح وہ ہے جو قصاص و عدل کے طور پر ہو یا اس میں کوئی دینی یا دنیوی مصلحت مضمر ہو۔ مثلاً مظلوم کہے کہ فلاں شخص نے مجھے مارا یا میرا مال لے لیا یا میرا حق غصب کر لیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿لَا یُحِبُّ اللّٰہُ الْجَہْرَ بِالسُّوْئِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ﴾ (النساء:148) 

’’اللہ تعالیٰ اونچی آواز سے بری بات کہنے کو پسند نہیں کرتے البتہ مظلوم ایسا کر سکتا ہے۔‘‘

مذکورہ صدر آیت کریمہ اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جو کسی قوم کے پاس مہمان ٹھہرا اور انھوں نے حق مہمانی ادا نہ کیا۔ [ تفسیر ابن کثیر (صفحہ:372) ]اس لیے کہ مہمانی حدیث نبوی کی رو سے واجب ہے[صحیح بخاری، کتاب الادب، باب اکرام الضیف(حدیث:6137)، صحیح مسلم، کتاب اللقطۃ، باب الضیافۃ و نحوھا(حدیث:1727)۔ ایک اور آیت میں ہے:﴿ وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ ﴾ [الشوری :41 ]’’جو مظلوم اپنے ظالم سے اس کے ظلم کا انتقام لے، اس پر کوئی ماخذہ نہیں ۔‘‘مسند احمد کی روایت میں ہے رسول اللہﷺ فرماتے ہیں : ’’ جو مسلمان کسی اہل قبلہ کے ہاں مہمان بن کر جائے اور ساری رات گذر جائے لیکن وہ لوگ اس کی مہمانداری نہ کریں تو ہر مسلمان پر اس مہمان کی نصرت ضروری ہے تاکہ میزبان کے مال سے اس کی کھیتی سے بقدر مہمانی دلائیں ۔‘‘ اسے البانی نے صحیح کہا ہے۔

ہاں اتنا مال لے سکتی ہو جو تیرے اور تیرے بچوں کے لیے کافی ہو۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب النفقات، باب نفقۃ المرأۃ اذا غاب عنھا زوجھا (ح:5359)، صحیح مسلم ، کتاب الأقضیۃ۔ باب قضیۃ ھند (ح:1714)، والحدِیث فِی سننِ النسائِیِ وابنِ ماجہ والدارِمِیِ۔]یہ حدیث صحیحین میں ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے ہند کو شکایت کرنے سے نہ روکا تھا یہ فریاد مظلوم کی مثال ہے۔

خیر خواہی کے لیے غیبت کی مثال یہ حدیث ہے کہ چند آدمیوں نے فاطمہ بنت قیسؓ کو نکاح کا پیغام دیا تھا۔ انھوں نے جب اس ضمن میں نبی کریمﷺ سے مشورہ دریافت کیا تو آپ نے فرمایا۔ ’’معاویہؓ ایک مفلس آدمی ہے اور ابو جہمؓ عورتوں کو پیٹنے کا خوگر ہے، لہٰذا تم اسامہؓ سے نکاح باندھ لو۔‘‘[مسلم، باب المطلقۃ البائن لا نفقۃ لھا، (ح:1480) سنن أبِی داود:6؍383 کتاب الطلاق باب فِی نفقۃِ المبتوتۃِ، سنن الترمذی:6؍301 ؛ کتاب النکِاحِ، باب ما جاء أن لا یخطب الرجل علی خِطبِۃ أخِیہِ، المسند ط۔ الحلبِیِ:۶؍6'412,416 والحدِیث فِی سننِ النسائِیِ والموطِأ۔ ]یہ حدیث صحیح ہے۔

جو شخص نبی کریمﷺ کی حدیث بیان کرنے میں غلطی کرتا ہو یا دانستہ نبی کریمﷺ یا کسی عالم پر جھوٹ باندھتا ہو یا دین کے عملی و اقتصادی مسائل میں غلط رائے کا اظہار کرتا ہو تو ایسے شخص پر علم و عدل اور خیر خواہی کی نیت سے نقد و جرح کرنے والا اللہ کے نزدیک ماجور ہو گا۔ خصوصاً جب کہ وہ شخص بدعت کی طرف دعوت دیتا ہو تو لوگوں کو اس کی غلطی سے آگاہ کرنا اور اس کے شر کو روکنا ڈاکوؤں اور راہ زنوں کے شر کو روکنے سے بھی زیادہ ضروری ہے۔

جو شخص علمی و دینی مسائل پر اپنے اجتہاد سے اظہار خیال کرتا ہے وہ مجتہد کا حکم رکھتا ہے وہ خطاکار بھی ہو سکتا ہے اورحق پر بھی۔ بعض اوقات زبان و قلم یا شمشیر و سنان کے ساتھ اختلاف کرنے والے دونوں اشخاص مجتہد ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں ، بعض دفعہ وہ دونوں خطاء پر ہوتے ہیں اور ان کو بخش دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ ہم صحابہ کرامؓ کے باہمی تنازعات کے بارے میں بیان کر چکے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ مشاجرات صحابہؓ و تابعینؒ پر اظہارِ خیال کرناممنوع ہے۔

جب دو مسلمان کسی بات میں جھگڑ پڑیں اور وہ معاملہ رفت گزشت ہو جائے اور لوگوں کا اس سے کچھ تعلق نہ ہو اور نہ وہ اس کی حقیقت سے آگاہ ہوں تو اس پر اظہار رائے کرنا بلا علم و عدل ہو گا جس سے انہیں بلا وجہ ایذا پہنچے گی۔ اور اگر لوگ جانتے ہوں کہ وہ دونوں گناہ گار یا خطا کار تھے تو بلا مصلحت اس کا ذکر کرنا بدترین قسم کی غیبت ہے۔ چونکہ صحابہؓ کی عزت و حرمت اور ناموس و آبرو دوسرے لوگوں کی نسبت بہت زیادہ ہے اور ان کے فضائل و مناقب احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں ، اس لیے ان کے باہمی تنازعات کو موضوع گفتگو بنانا دوسرے لوگوں کی مذمت بیان کرنے کی نسبت بہت بڑا گناہ ہے۔

اگر سوال کیا جائے کہ: اہلِ سنت روافض کو برا بھلا کہتے اور ان کے عیوب و نقائص بیان کرتے ہیں تو ان کے لیے ایسا کرنا کیونکر روا ہے؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ کسی متعین آدمی کا نام لے کر اس کی مذمت بیان کرنا اور چیز ہے، اور کسی گروہ کی مذمت بحیثیت گروہ چیزے دیگر۔نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے بعض گروہوں پر لعنت فرمائی ۔

جیساکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو خود شراب پر؛ اس کے پینے والے پر؛ اور شراب نچوڑنے والے اور نچڑوانے والے، فروخت کرنے والے، خریدنے والے، اٹھانے والے اور جس کی خاطر اٹھائی جائے اور اس کی قیمت کھانے والے پر۔‘‘[یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے]

[ رسول اللہﷺ نے فرمایا]:

’’اللہ کی لعنت ہو سود کھانے والے پر اور کھلانے والے پر، سود لکھنے والے پراور اس کی گواہی دینے والوں پر۔‘‘[صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر:1600] 

[ رسول اللہﷺ نے فرمایا]:

صفحہ 5 از 10